جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتمحبت ہم پڑھائیں گے

محبت ہم پڑھائیں گے

محبت ہم پڑھائیں گے

بہار کے نئے وزیر تعلیم جناب چندر شیکر جی لیکچرر ہیں اور کانپور سے پوسٹ گریجویٹ ہیں،
وزارت کی کرسی پر بیٹھتے ہی موصوف کا پہلا بیان ریاست بہار ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے لئےتوجہ کا سامان بن گیا ہے،پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئےوزیر تعلیم صاحب نے سب سے پہلے موجودہ تعلیمی نظام وانتظام سے بے اطمنانی کا اظہار کیاہے اور اسے تبدیل کرنے کی بات کہی ہے،اور نیا تعلیمی ماڈل لانے کا اعلان کیا ہے، اس کے لئے کیجریوال سرکار نے دہلی میں جو نظام تعلیم اپنایا ہے، اسے اپنے یہاں لانے کی بھی بات کہی ہے، موصوف نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کہ جنہیں نفرت پڑھانا ہےپڑھائیں،ہم محبت پڑھائیں گے، جنہیں گوالکر پڑھانا ہے پڑھائیں، ہم سماجی انصاف اور امبیڈکر پڑھائیں گے۔
دنیا کو بدلنے کے لئے تعلیم سب سے بڑا ہتھیار ہے،اس کے لئے اساتذہ سے آگے آنے اور تعلیم میں سدھار لانے کی بھی بات کہی ہے،
وزیرتعلیم صاحب کی مذکورہ تینوں باتںں بڑی اہم ہیں، بالخصوص اسوقت جب کہ مرکزی حکومت کی طرف سے نئی تعلیمی پالیسی لائی گئی ہے، یہ تین طرح کے سوالات کھڑے کئے جاتے رہےہیں کہ غریب طبقہ کو تعلیم سے دور رکھنے کی اسمیں کوشش کی گئی ہے،خاص نظریہ کے فروغ کے لئے اس کی ترتیب دی گئی ہے،تعلیم وہ ہتھیار ہے جس سے برائی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے مگر اس نئی تعلیمی پالیسی سے تعصب اور دیگر اخلاقی بیماریاں پیدا ہونے کاقوی اندیشہ ہے۔آج بھی اس عنوان پر احتجاج کیا جارہا ہے، وہ الگ بات ہے کہ عام لوگوں کی توجہ اس جانب نہیں ہے، دال سبزی کی مہنگائی نظر آجاتی ہے مگر یہ تعلیم کی نجکاری اور فیس کی زیادتی پر نظر نہیں ہے،پڑھا لکھا طبقہ اس کی سنگینی کا احساس توکررہا ہے اور اپنا احتجاج بھی درج کرا رہا ہےمگر عام لوگوں میں اس کا کوئی خاص اثر دیکھنے میں نہیں آرہا ہے، اور اس موضوع پر احتجاج صدا بصحراثابت ہورہا ہے۔
آج ریاست بہار کے وزیر تعلیم کی طرف سے یہ آواز دور تک گئی ہے، حکومت بہار کی طرف سے یہ پیغام عام ہوا ہے کہ تعلیم اصل میں ایک انسان کو انسان سے محبت سکھانے کا نام ہے،نفرت کے لئے اس میں گنجائش نہیں ہے،ایک حکومت کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ ایک ایک فرد تک باسانی تعلیم کو پہونچائے، اور اس کے نظام میں بہتری لانے کے لئے کوشاں رہے،واقعی یہ اپنے فرض منصبی کے ساتھ انصاف ہے،اس کے لئے موصوف کو مبارکباد ہے۔
چندر شیکھر جی سے پہلے وجے چودھری جی بہار حکومت میں وزیر تعلیم رہے ہیں،سنی وقف بورڈ کےپٹنہ اجلاس میں ابھی ایک ماہ قبل ہی انہوں نے برملا اس بات کا اعتراف کیاہے کہ، تعلیم کے موضوع پر مذہب اسلام میں جسقدر تحریک ملتی ہے کسی دھرم میں نہیں ہے۔قرآن کی پہلی آیت پڑھنے سے شروع ہوئی ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہا ہے، اس میں ملک کےموجودہ وزیر اعظم صاحب نے ایک حدیث ترمذی شریف کی پڑھی ہے،” عقل ودانش کی بات مومن کا گم شدہ مال ہے”۔
جب بھی تعلیم پر بات آتی ہے قرآن وحدیث کا پیغام برادران وطن کے بھی سامنے آجاتا ہے، مگر افسوس کہ ہمارا کوئی تعلیمی ماڈل انہیں ملک میں نظر نہیں آتا ہے ،اس میں سراسر کوتاہی اپنی ہی نظر آتی ہے، سینکڑوں ہزاروں مدارس ہیں، مگر اب تک ہم نےملک کے سامنے لائق تقلید مدرسہ تعلیمی ماڈل پیش نہیں کیا ہے،جبکہ آج بھی محبت وانسانیت کی تعلیم سب سے زیادہ مدارس میں دی جاتی ہے، یہ بات یقین کے ساتھ کہی جارہی ہے کہ جس طرح کیجریوال ماڈل کی تلاش اس وقت بہار کے وزیر تعلیم صاحب کو ہے،اگر ہم اہل مدارس نے عزم مصمم کر لیا تو وہ دن دور نہیں جب نفرت وتعصب سے تنگ آکر برادران وطن کو اور حکومت وقت کومدرسہ تعلیمی ماڈل کی تلاش ہوگی۔

ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
۱۸/اگست ۲۰۲۲ء

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے