مجاہد میوات مولانا محمد ابراہیم خان الوری مرحوم

67

یادیں اور باتیں
حضرت میاں جی محمد فاروق خاں مدظلہ کا شمار میوات کی ان چند بزرگ شخصیات میں ہوتا ہے,جن کا تعلق میوات کے قدیم اسلاف سے بہت گہرا رہا اور انہوں نے ان کی صحبتیں اٹھائیں, میاں جی کا ملکی سطح کے اکابرعلماء و مشائخِ اہلِ سُنّت سے بھی اچھا ربط و تعلق رہا, وہ جمعیت علمائے ہند کے سابق صدر اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کے فرزند و جانشین مولانا سید اسعد مدنی سے نا صرف ارادت و بیعت کا تعلق رکھتے تھے, بلکہ مولانا مدنی نے انہیں شرفِ خلافت سے بھی نوازا تھا, میاں جی کا مجاہد میوات مولانامحمد ابراہیم خان الوری سے بھی بہت خاص تعلق رہا, ان کےآخری ایام میں ان کےبہت قریب رہے اور خوب ان کی خدمت اور تیمارداری کی,ہم آج کی صحبت میں اس حوالہ سے ان کی یادوں اور باتوں کو منضبط کرنے کی کوشش کریں گے, ہم اب تک الحمدللّہ پانچ اکابر:(مولانا سید حسین احمد مدنی,مولانا شاہ عبد القادر رائےپوری ,مولانا سید محمد میاں,چودہری محمد یاسین خان اور مولانامحمد ابراہیم خان الوری) پر اس نوع کےمضامین ضبطِ تحریر کرچکےہیں, یہ سلسلہ ابھی جاری ہے.
—————- محسن و مشفق, مجاہد ِمیوات مولانا محمد ابراہیم خان الوری رحمہ اللّہ(المتوفیٰ:4نوبر1970ء,الور.میوات) کو میں بچپن سے ہی جانتا پہچانتا تھا,دراصل ہمارے خاندان کے بزرگ مولانا کے حلقۂ ادارت میں شامل تھے مولانا الوری جب بھی جماعتی دورے پر نکلتے تو ہمارے گاؤں میں ضرور تشریف لاتے تھے, رات قیام فرماتے, مغرب یا عیشاء کے بعد مسجد میں خطاب فرماتے,صبح نماز فجر کے بعد درس قرآن دیتے, مجھے مولانا کی شخصیت سے انس ہوگیا تھا اور وہ بھی مجھ پر شفقت فرمانے لگےتھے,اسی تعلق کی بناپر 1966ء میں مولانا مجھے اپنے مدرسے میں استاد کی حیثیت سے لے کر گئے تھے, وہاں پر مولانا الوری کے چھوٹے دوفرزندوں (طلحہ/زبیر)نےابتدائی تعلیم مجھ سے ہی حاصل کی تھی,میں کافی عرصہ مولانا کے پاس رہا, مولانا کے ساتھ نا صرف حضر بلکہ سفروں میں بھی ساتھ جاتا تھا,میرے دوران تدریس ہی مولانا پر فالج کا حملہ ہوگیا تھا,اس مرضِ علالت میں مجھے اللّہ تعالیٰ نےاپنےاس بر گزیدہ بندے کی خوب خوب خدمت کرنے کی توفیق ارزانی فرمائی, جسے میں اپنے لیے ذریعۂ نجات سمجھتا ہوں, مولانا کے مرض و علالت میں,میں ازخود,اپنی سعادت سمجھتےہوئےمولاناکو اپنی کمر پر لاد کر گھر سے مدرسہ لاتا اور مدرسہ سےگھر چھوڑ کر آتا تھا,یہ تقریباً یک کلو میٹر کا فاصلہ تھا,مولانا دن بھر مدرسہ میں ہوتے, مدرسہ میں مولانا کی دیکھ بھال کرنا, اُنہیں کھانا کھلانا, دوا دینا,وضو و غسل وغیرہ کرانا میں نے اپنے ذمہ لیا ہوا تھا, مولانا مجھ سے بہت خوش تھے, مجھے بڑی دعائیں دیتے تھے,اس علالت و معذوری میں بھی مولانا چین سے نہیں بیٹھتے تھے, حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہتے, یومیہ اخبار ‘الجمعیت’دہلی اور’مدینہ’ بجنور مجھ سے پڑھوا کر سنتے تھے, ان کا ذھن اور دماغ برابر چلتا رہتا تھا,زبان سے ہدایات دیتے, دوسروں کو کام کے لیے انگیخت کرتے رہتے تھے, میوات کی بازآباد کاری, مساجد کی بحالی, تعلیمی اداروں کا قیام اور جمعیت علمائے ہند کے مشن کو گھر گھر پھیلانا, انہوں نے اپنے ذھن اور دماغ پر مسلط کر رکھے تھے,اس حالت و کیفیت میں بھی, جس قدراُن کےلیے ممکن تھا,بلکہ امکان سے بڑھ کر سرگرمِ عمل رہتےتھے,میں نے اپنی زندگی میں ان سےزیادہ متحرک و فعال کوئی نہیں دیکھا,کہناچاہیے کہ وہ حقیقی معنوں میں ایک سیماب صفت انسان تھے.
مولانا نےتحریکی مزاج پایاتھا,وہ آزادی کے متوالے تھے, سامرج دشمنی تو ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ,انہوں نے تحریکِ آزادیِ ہند میں باقاعدہ حصہ لیا,ماریں کھائیں,جیلیں کاٹی, لیکن وہ کسی بھی مرحلہ میں پست ہمت نہیں ہوئے, ان کی تحریک آزادی کے سلسلے کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکیم اجمل خان میو (شکراوہ) نے اپنی کتاب”میوات کے سو تنترتا سینانی”(مولاناآزادمیوات اکیڈی. شکرواہ. میوات/جنوری 2010ء) میں ان کاتذکرہ تفصیلاً(صفحہ134تا148)کیاہے. مولانا بڑے حق آشنا,حق پسنداورغضب کےحق گو انسان تھے, حق سچ کو بلا خوف و خطر کہہ دیا کرتے تھے, دل کے اندر کسی کا,کسی قسم کا خوف نہیں رکھتے تھے, ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ایک میٹنگ میں چیف منسٹر مدن موہن سُکھاڑیانے مولانا سے مخاطب ہوکر انہیں زِچ کرنے کے لیے الزام تراشی کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ کے بارے میں ایسا سناہے؟,مولانا نے کہا میں نے بھی تمہارے بارے میں سنا ہے کہ تم رنڈی کی ناجائز اولادہو,اس پر سُکھاڑیا جی سہم کررہ گئے, کہا کہ مولانا آپ تو بُرا مان گئے, میں تومزاقاً کہ رہاتھا, مولانا نے جواباً فرمایا کہ ” مجھ سے ایسی بات مزاق میں بھی کرنے سے پہلے سو بار تو سوچا ہوتا,یا کم از کم پنڈت نہرو سے ہی پوچھ لیا ہوتا کہ آیا ابراہیم خاں سے ایسی بات مزاق میں بھی کی جا سکتی ہے یا نہیں؟ “مولانا بہت دبنگ اور نڈر تھے, سامنے کوئی ہو, کسی ہی مجلس کیوں نہ ہو, بلا جھجک گفتگو کرتے تھے, مولانا تو پنڈت جواہر لعل نہرو کو بھی ڈانٹ دیا کرتے تھے, مولانا الوری کے مولانا ابوالکلام آزاد سے بہت اچھے اور گہرے مراسم
تھے, مولانا آزاد نے میوات کی باز آباد کاری, میوات کی اہم تاریخی مساجد ومدارس اور مزارات و قبرستانوں کی واگزاری میں مولانا الوری کے ساتھ بھر پور تعاون فرمایا تھا, مولانا کا مولانا آزاد کے ہاں بلا روک ٹوک آناجانا تھا, مولانا آزاد مولانا الوری کی قدر کرتے تھے, مولانا الوری نے مولانا آزاد کو حقِ تعلق اور میوات کے لیے ان کی خدمات کا صلہ یہ دیا کہ 11مارچ1957ء کو گوڑگانواہ (میوات) کے حلقۂ انتخاب سے الیکشن جتوا کر پارلیمنٹ کا رکن منتخب کرایا تھا,حیرت انگیز تاریخی بات یہ ہےکہ مولاناایکشن سے پہلےاور نا الیکشن کےایام میں اپنےحلقۂ انتخاب میں گئے ہی نہیں تھے, ان کی ساری کمپین مولانا محمد ابراہیم خان الوری اور ان کے رفقاء نے چلائی تھی, مولانا نے اہل میوات کا شکریہ ادا کرنے کے لیے میوات جانے کا پروگرام بنایا تھا لیکن دوسری حیرت افزابات یہ ہےکہ مولانا الوری میوات کے علماء اور چودہریان و خوانین کا وفد لے کر خود مولانا کےہاں اُن کاشکریہ اداکرنے پہنچ گئے تھے کہ انہوں نے اہلِ میوات پر اعتماد کیا اور اس دھرتی کو الیکشن لڑنے کے لیے منتخب کیا,مولانا آزاد وفد سے مل کر بہت متاثر ہوئے تھے, مولانا آزاد کو میوات کا بہت پاس اور لحاظ تھا, مولاناالوری مجھے دوسرے لوگوں کے پاسں کام سے بہیجا کرتے تھے, ایک دفعہ مولانا نے مجھے علاقے کے ایک لیڈر کے پاس کسی کام سے بھیجا,جب میں ان سے ملا تو انہوں نے دورانِ گفت و شنید کہا کہ اب مدرسہ کو سمبھالنا,اور اس کے نظم کو چلانا مولاناکےبس کا نہیں رہا,مولانا کو چاہیے کہ وہ مدرسے کو حضرت جی کےسپردکردیں. میں نے جاکر مولانا سے عرض کیا کہ وہ صاحب یہ کہہ رہے تھے. مولانا کو یہ بات بہت ناگوار گزری, فرمایا کہ ان سے کہنا’ تم اور تہمارے حضرت جی اس وقت کہاں تھے جب یہ مدرسہ و مسجد بلکہ میوات کی کتنی ہی مسجدیں ہندؤں کے قبضے میں چلی گئی تھیں؟,فرمایا کہ میں تبلیغی جماعت کے خلاف نہیں ہوں, جماعت کی بنیادوں میں میری دن رات کی محنت و ریاضت اور میرا پسنہ شامل ہے, لیکن اب یہ مدرسہ ومسجد جمعیت علمائےہند کا مرکز ہے,مرکزر ہے گا, اس کی عمارت پر ہمیشہ اسی شان بان سے جمعیت کا پرچمِ نبوی لہراتا رہے گا, میں زندہ رہوں یا نہ رہوں. مجھے بتاکید فرمایا کہ میری ناگواری اور میری یہ باتیں ان تک لازمی پہنچانی ہیں. مولاناکو اس مرکز سے بہت لگاؤ تھا, معذوری کی حالت میں اس کی تعمیر و توسیع کے لیے نا صرف فکر مند تھے بلکہ پُرانی عمارت کو منہدم کرواکر نئی عمارت کی تعمیر شروع کروادی تھی,جو اُن کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ہی تکمیل پزیر ہوئی تھی,
مولاناکی خدمات اور قربانیوں کی بناپر عوام انھیں بہت چاہتی تھی, عوام بہت ان سے محبت کرتی تھی, ہم نے دیکھا ہے جب کسی قصبہ یا گاؤں میں جاتے تھے تو وہاں کےلوگ مولانا کا زبردست طریقے سے بہت پُر جوش استقبال کرتے تھے,ان کے ارد گرد جمع ہوجاتے تھے, مولانا کو جمعیت کے پیغام کو عام کرنےکا بہت غلبہ تھا,بلکہ کہنا چاہیے کہ جنون تھا, ہروقت جمعیت کے کام کی فکرلاحق تھی,مولانا ہر شخص کو جمعیت کے مشن کو عام کرنے کے لیے کہتے تھے, مولانا کا چندہ کرنےکاانداز سب سے منفرد تھا, قصبہ کے جوبڑے لوگ ہوتے تھے ان سے مولانا کہتے تھے کہ فلانے چودہری صاحب آپ نے اتنے رقم جمعیت کے لیے اور اتنے پیسے مدرسہ کے لیے دینے ہیں,فلاں خان صاحب تمارے ذمہ جمعیت کے لیے اتنی ادائی ہے اور درس کے لیے اس قدر, اور فلانے بھائی تم نےاتنے پیسے جمعیت فنڈمیں دینے ہیں اور اتنے مدرسہ کے لیے دینے ہیں اور وہ خوشی خوشی دیتے تھے, اللہ نے کمال کا رعب دبدبہ دیا تھا لیکن اس کےساتھ ساتھ نرم مزاج بھی بہت تھے,وہ ایک تحریکی شخصیت تھےاور بہت قائدانہ اوصاف وکمالات رکھتےتھے, اللّہ نے انہیں پیداہی میوات کی قیادت و رہنمائی کے لیے کیا تھا,حق تو یہ ہے کہ انہوں نےقیادت کاحق ادا کردیا تھا, اللّہ ان کی بال بال مغفرت فرمائے, ان کےدرجات بلند کرےاورہمیں ان کےنقش قدم پرچلنےکی توفیق دے,آمین
__________________
از میانجی محمد فاروق میواتی
__________________
پیش کردہ مبارک میواتی آلی میو