مجاہدین آزادی کو سلام۔ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ

61

مجاہدین آزادی کو سلام

ہم آزاد ہیں اور آزاد ملک بھارت کے رہنے والے ہیں۔آج آزادی کی ۷۵ویں سالگِرہ منارہے ہیں۔ ہرسال پندرہ اگست کو یوم آزادی کی تقریب منعقد کرتے ہیں۔رسمی طور پر کچھ نعرے لگالیتے ہیں۔سرسری طورپرانگلی میں گن کر مجاہدین آزادی کے نام بھی لیتے ہیں اور انہیں سلام بھی کہتے ہیں۔جبکہ ہم مدارس والوں کی بالخصوص اس موقع پر ذمہ داری دوگنی ہوجاتی ہے۔ایک مدارس سے وابستہ مجاہدین آزادی کی تاریخ سے اپنے نونہالان علوم نبوت کو روشناس کرانا۔
دوسری ذمہ داری بحیثیت مسلم یہ عائد ہوتی ہے کہ ان شہداءومرحومین کے لئےدعائے مغفرت کرناان سب کے لئے ایصال ثواب کا اہتمام کرنا۔صرف زبانی نعروں سے کچھ دیر فضاؤں میں ارتعاش پیدا کردینے سے ان کا قرض ہم نہیں چکا سکتے ۔افسوس تو اس بات پر بھی ہے کہ ہمیں اپنے آباء واجداد کے نام بھی معلوم نہیں ، کس نام سے فاتحہ خوانی کریں اور کن کے لئے ایصال ثواب کا اہتمام کریں۔ہمارے بچوں کے نام بھی اسوقت ماڈرن تلاش کرکے رکھے جاتےہیں، اے کاش!! اگر مجاہدین آزادی کےنام پر ہوتے تو ہمارے بچے بھی اپنے اسلاف کے نقش قدم پرسوتے، اور ہم بھی اپنے آباء واجداد کے کارناموں سے واقف ہوتے، ملک کی آزادی کے خاطر ان کی قربانیوں سے ناواقف نہیں ہوتے۔
ہم مدارس سے جڑے لوگ ہیں۔جنگ آزادی میں اہل مدارس نے بڑی قربانیاں پیش کی ہیں۔ان کے نام اور کام سے واقفیت اس وقت ہمارےلئےازحد ضروری ہے۔
شاملی کی جنگ یہ خالص مولویوں نے انگریزوں سے لڑی ہے اور اسی میں حافظ ضامن رحمہ اللہ علیہ شہید ہوئے ہیں۔ان کی لاش شاملی سے تھانہ بھون لائی گئی اور آپ حضرت تھانوی کی خانقاہ میں سوئے ہوئے ہیں۔اس جنگ میں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی اور حاجی امداد اللہ مہاجر مکی پیش پیش رہے ہیں۔شہدائے بالاکوٹ میں علماء کرام کی ایک لمبی فہرست ہے، سرفہرست سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید رحمہم اللہ ہیں۔
۱۹۱۵ء میں ان ارباب مدارس کی طرف سے ملک کی آزادی کے لئے ایک انوکھی تحریک شروع کی گئی، جسے ریشمی رومال کی تحریک سے موسوم کرتےہیں۔یہ تحریک اسیر مالٹا شیخ الہند حضرت مولانا محمودحسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں شروع کی گئی، انگریز اپنی چالاکی میں ضرب المثل ہونے کے باوجود اس تحریک پراپنی انگلی اپنے دانت میں دبا رہے تھے۔مجلس احرار کا قیام بھی انہیں مدارس سے وابستہ جیالوں نے کیااوراس کا خاص اثر دیکھا گیا۔مدارس کی دیواروں اور مساجد کے میناروں سے بھی آزادی کی جنگ لڑی گئی ہے۔مولانا فضل حق خیر آبادی جامع مسجد دہلی کے مینار پر چڑھ گئے اوراس بلندی سے آزادی کا پرشور اعلان کردیا۔دارالافتاء سے بھی آزادی کی لڑائی لڑی گئی ہے، حضرت مولانا شاہ عبد العزیز دہلوی نے انگریزوں کے خلاف فتوی جہاد دیا، اس پر حضرت کو سخت آزمائش وامتحان سے گزرنا پڑا، چھپکلی کا تیل جسم پر مل دیا گیا، گوشت کٹ کٹ کر گرتا جاتا مگر پائے ثبات میں ذرہ برابر بھی لغزش پیدا نہ ہوئی، ثابت قدم رہے اور فتوی سے واپسی نہیں کی، (فجزاہم اللہ خیر الجزاء)
مولانا محمد علی جوہر نے لندن میں جاکر گول میز کانفرنس میں شرکت کی اور وہاں یہ اعلان کردیا کہ میں غلام ملک نہیں جاسکتا، مجھے آزادی دی جائے یا یہیں مرنے کے لئے دوگز زمین چاہئے۔اس سے قبل نہ کسی نے ایسا اعلان کیا اور نہ سوچا تھا۔اس پر پوری دنیا کے کان کھڑے ہوگئے اور عالمی پیمانے پر آزادی کے ایک عالمانہ فضا بنتی چلی گئی ۔
ایک لمبی فہرست ہے، اس کا احاطہ اس مختصر تحریر میں مشکل ہے،آج کا وقت بہت قیمتی ہے۔آئیے ہم ان کو سلام پیش کرتے ہیں اور ان سبھوں کے لئے ایصال ثواب کا بھی اہتمام کرتے ہیں ۔
اپنے بچوں کو ان اکابرین ومجاہدین کے نام سے واقف کرانا ہم سبھوں پر آج کے دن فرض ہے اور قرض بھی! اس فرض کو ادا کرنے کے لئے بچوں کے ذریعہ یوم آزادی کے دن لگائے جانے والے نعرہ میں ان مبارک ہستیوں کے نام کو بھی شامل کرلیں۔مذکورہ بالا تحریر میں کچھ نام آگئے ہیں، ان کے ساتھ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ، حجتہ الاسلام مولانا قاسم نانوتوی،مولانا جعفر تھانیسری، مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی،بطل حریت مولانا عبید اللہ سندھی، مفتی اعظم مفتی کفایت اللہ دہلوی، شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد،امام حریت مولانا حسرت موہانی،سحبان الہند مولانا احمد سعید دہلوی، مولانا محمد میاں دیوبندی،مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی،مولانا ولایت علی عظیم آبادی،( رحمہم اللہ )

ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
رابطہ، 9973722710