ماہِ رمضان کی تیاری۔۔۔۔۔۔۔۔ آخرت کی کامیابی

59

ماہِ رمضان کی تیاری۔۔۔۔۔۔۔۔ آخرت کی کامیابی

اللہ عزوجل کی رحمت ہم مسلمانوں پر بے انتہا برستی رہتی ہیں۔ اللہ ربّ العزت ہمیں نیکیوں و بخشش پانے کا ہر ممکن موقع عنایت فرماتا ہے۔ اسکی رحمت ہمیں دین و دنیا میں کامیابی کے لئے ہر لمحہ میسر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر ہمیں مثالوں سے سمجھایا ہے۔ کہ ہم اسکی حکمت و رحمت کو سمجھ جائیں اور قرآن و حدیث کی پیروی کرتے ہوئے زندگی گزارے۔ تاکہ ہم فلاح کو پہنچ جائے۔ اللہ کی خوشنودی حاصل کرلے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہمیں اپنی رحمت کی جانب بلاتا ہے۔ ہم ہی کوتاہیوں و سستیوں کی وجہ سے دنیاکی رنگینیوں میں کھوتے جارہے ہیں۔ اپنے خالقِ حقیقی کے احکامات کو بھلا بیٹھے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ہے کہ اس نے ہمیں رحمت والا، برکت والا، عظمت والا، مغفرت والا اور جہنم سے آزادی والا ماہِ رمضان نصیب کیا ہے۔ ہمارے کتنے ہی متعلقین ، دوست و احباب اور رشتے دار ایسے ہیں جو خاک کے سایے تلے مدفون ہیں‌۔ جنھیں اب یہ رحمتیں و برکتیں میسر نہیں ہو سکتی ہیں۔ نہ جانے اگلا رمضان ہمیں بھی نہ ملے۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ اس رمضان المبارک کے مہینے کو پوری منصوبہ بندی کرتے ہوئے نماز روزہ ، تلاوت، ذکر اذکار، درود وسلام میں گزارے۔ توآئیے ہم رمضان المبارک کی تیاری کچھ اس طرح سے کرتے ہیں۔
١- رات میں انٹرنیٹ کے استعمال سے پرہیز کریں اور رات عبادت میں گزارنے کا معمول بنائیں۔ قیام اللیل کریں۔
٢- ابھی سے سوشل میڈیا کے استعمال پر قابو رکھے اور رمضان کے مہینے میں بالکل دور رہیں۔
٣- پورے دن کا منصوبہ بنائے۔ نماز کے بعد تلاوت ذکر واذکار اوقات طےکرلے۔
٤- استغفار اور دعاؤں کی کثرت کریں۔ چلتے پھرتے یا کام کرتے ہوئے دل ہی دل میں اہتمام کریں۔
٥- سحر و افطار کے وقت کو ملحوظ رکھے۔ اہل کھانا کے لئے دسترخوان کو کشادہ کریں۔
٦- دوپہر میں قیلولہ کا معمول رکھے۔ یہ سنت ہے اور مفید و کارآمد ہے۔
٧- ضروری ساز و سامان کی خریداری رمضان سےقبل کر لے۔ تاکہ وقت نیکیوں میں گزرے۔
٨- ذیادہ تراوقات مساجد میں گزارے نماز کے بعد تلاوت، ذکراور دینی تعلیم و تربیت کا نظم و ضبط بنائے۔
٩- اللہ عزوجل کی طرف دل کو متوجہ رکھنے کو کوشش کریں تاکہ اعمال میں اخلاص و نورانیت پیدا ہو۔ دل غلط وسوسوں و خیال سے پاک ہوجائے۔
١٠- زکات و صدقات کا منصوبہ و حساب کرلے۔ اپنے قریب کون لوگ ہیں۔ جو حقیقی مستحقین ہیں‌۔ اسکی فہرست بنائیں-
١١- اہل خانہ اور دیگر متعلقین کو نیکی کی دعوت دیتے رہے۔ اپنے اخلاق و برتاؤ کا محاسبہ کریں۔ کہ آج کونسے اچھے اعمال ہوئے اور کونسی اچھی باتوں پر عمل نہیں کیاگیا۔ یہ اخلاق کی بہتری کا عمدہ عمل ہے۔ رمضان کے اعمال پورے سال مستقل کرنے کے لئے مشق ہے۔
١٢- بے ہودہ باتوں اور گانے باجے سے پرہیز کریں۔ شراب نوشی سگریٹ نوشی سے دور رہے۔ تمھارا رمضان کا یہ پرہیز پوری زندگی قائم رہ سکتا ہے۔ بشرط برتاؤ میں مثبت تبدیلی کرنے کی پکی و سچی نیت ہو۔

ہمیں رمضان کے بابرکت مہینے کا احترام کرنا ہے۔ اللہ عزوجل کی خوشنودی حاصل کرنے کے اعمال کرنا ہے۔ اس کے لئے منصوبہ بناکر وقت کا استعمال کریں۔ اللہ عزوجل ہمیں ماہ رمضان کی مکمل برکتیں ، سعادتیں اور رحمتوں سے نوازے اور ہم سب کی تمام نیک و جائز دعاؤں کو حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقے قبول فرمائیں۔ آمین یا ربّ العالمین

ازقلم
حسین قریشی
بلڈانہ ،مہاراشٹر