جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہومبریکنگ نیوزماسٹرمحمد نصر الحق مرحوم

ماسٹرمحمد نصر الحق مرحوم

ماسٹر محمد نصر الحق مرحوم
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
ماسٹر محمد نصر الحق، عرف ناصو بھائی بن عبد المجید ساکن عیسیٰ پور ، پھلواری شریف پٹنہ نے ۴؍ اگست ۲۰۲۲ء مطابق ۵؍ محرم الحرام ۱۴۴۴ھ بروز جمعرات بوقت ۱۲؍ بجے دن اس دنیا سے رخت سفر باندھا ، وہ ذی الحجہ سے بیمار چل رہے تھے، ایمس اور دوسرے ہوسپیٹل میں علاج کے لیے لے جائے گیے، لیکن مرض الموت کا علاج ہی نہیں ہوتا، یہ تو لا علاج ہے، بلکہ کہنا چاہیے کہ جسے زندگی کی بیماری لگ گئی اسے موت تک پہونچنا ہی ہوتا ہے اور پھر موت سے آگے حیات برزخی و اخروی مرحلہ در مرحلہ سامنے آتا ہے، ماسٹر صاحب نے اپنی زندگی کے آخری پڑاؤ پر جا کر دم توڑ دیا، ۴؍ اگست کو ہی بعد نماز مغرب دار العلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ کے ناظم تعلیمات مولانا تبریز صاحب امام قربان مسجد نیا ٹولہ نے جنازہ کی نماز پڑھائی اور سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں حاجی حرمین قبرستان نیا ٹولہ میں تدفین عمل میں آئی، پوری زندگی مجرد گذاردی؛ اس لیے پس ماندگان میں نہ بیوی ہے اور نہ بچے، ایک بہن پھلواری شریف میں مقیم ہیں ، انہوں نے ہی ماسٹر صاحب کی تیمار داری کی، وہ آخری دنوں میں وہیں قیام پذیر تھے ، بہن دم واپسی تک ان کو راحت وآرائش پہونچانے کی کوشش کرتی رہیں، انہیں کیا پتہ تھا کہ ماسٹر صاحب کا مرض، مرض لا دوا ہے۔
ماسٹر صاحب نے بی اے تک تعلیم پائی تھی ،انگریزی ان کا خاص موضوع تھا، اس کے بعد انہوں نے ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی اور ہومیوپیتھی کا کورس مکمل کیا، ان کی دلچسپی تدریس سے تھی ، اس لیے انہوں نے بحیثیت معالج کبھی کام نہیں کیا،البتہ وہ جماعت اسلامی کے ذریعہ چلائے جا رہے ڈسپنسری میں کبھی کبھی بیٹھا کرتے تھے، وہ اردو تحریک سے وابستہ نمایاں لوگوں میں تھے، ستر کی دہائی میں ڈاکٹر ریحان غنی وغیرہ کے ساتھ مل کرانہوں نے اردو کی ترویج واشاعت کے لیے بڑا کام کیا، پھلواری شریف تھانہ کے قریب شاہین اسلام اردو لائبریری کے قیام میں بھی وہ اپنے حلقۂ احباب کے ساتھ لگے رہے اور پوری دل جمعی اور مستعدی کے ساتھ اس کو پروان چڑھایا، یہ لائبریری مسلم ایسوسی ایشن کی عمارت میں قائم تھی۔ان کی دلچسپی جماعت اسلامی کے کاموں سے بھی تھی او روہ اس کے بڑے مخلص کارکن تھے۔
ماسٹر صاحب نے مادیت کے اس دور میں حرص وہوس سے دور توکل اور قناعت کی زندگی گذاری، پوری زندگی درس وتدریس سے وابستہ رہے، کئی پرائیوٹ اسکولوں میں آپ نے خدمت انجام دی ، وہ بچوں کو ٹیوشن بھی پڑھایا کرتے تھے اور یہی ان کا ذریعہ معاش تھا۔
۲۰۰۸ء سے وہ امارت شرعیہ کے ادارہ المعہد العالی پھلواری شریف میں طلبہ کو دو گھنٹے انگریزی پڑھایا کرتے تھے، وہ اپنے شاگردوں میں مقبول تھے حالاں کہ معہد میں ان کے شاگرد ہندوستان کے بڑے تعلیمی اداروں سے فارغ فضلا ء ہوتے تھے، جن کی اپنی ایک خاص صلاحیت ہوا کرتی ہے ، چھوٹے بچوں کو پڑھانا نسبتا آسان ہوتا ہے ، لیکن علماء فضلاء کو انگریزی پڑھانا خود ان کی مضبوط صلاحیت کی دلیل تھی ، کئی طلبہ تو انگریزی میں پہلے سے ہی اچھی صلاحیت لے کر آتے ہیں، وہ وقت کے بھی انتہائی پابندتھے۔
میری ملاقات ان سے عمر کے آخری چند سالوں کی تھی ، میں نے انہیں لا یعنی اور بے کار کی باتیں کرتے کبھی نہیں سنا ، وہ کم سخن نہیں، کم گو تھے، خاموش رہنازیادہ پسند کرتے تھے، حالاں کہ معہد میں جب ہم لوگ کسی مجلس میں اکٹھا ہوتے تو وہ ہر ایک کے لیے تفنن طبع کا ذریعہ بن جاتے، جس کا وہ کبھی بُرا نہیں مانتے تھے، موضوع ان کی شادی سے متعلق ہوتا، اور وہ سن سن کر زیر لب مسکراتے جاتے، کوئی ان کے لیے بڑی عمر کی لڑکی ڈھونڈھنے کی بات کرتا، کوئی مہر کی ادائیگی کا وعدہ کرتا، کوئی نکاح پڑھانے کے لیے تیار ہوتا، لیکن وہ کسی کا جواب نہیں دیا کرتے۔
چند سالوں سے معہد العالی میں جاڑے کے موسم میں پائے اور نہاری کا دستر خوان سجتا ہے اور شرکاء مائدہ باری باری سے دعوت کیا کرتے ہیں، عام طور سے اس دعوت کا آغاز ان کی طرف سے ہوتا ، وہ دستر خوان پر بھی خاموش ہی رہتے، اور ہم لوگ اپنی چہل بازی سے باز نہیں آتے۔
خاموشی ، توکل اور قناعت کی وجہ سے زندگی انہوں نے قلندرانہ گذاردی، والدین کی طرف سے جو کچھ ترکہ میں ملا تھا وہ بھی دوسروں کے قبضے میں چلا گیا، مقدمہ وغیرہ کا بھی کچھ حاصل نہیں نکلا اور وہ پوری زندگی گذار کر دنیا سے چل بسے۔
جنت کی زندگی میں جس بھولا پن کا تذکرہ کیا جاتا ہے وہ ان میں بدرجہ ٔ اتم تھا، وہ نماز وغیرہ کے پابند تھے، ایسے میں اللہ رب العزت کی رحمت ان پر سایہ فگن ہوئی ہوگی، اس کی پوری پوری امید ہے ، لیکن انسان تو انسان ہی ہے ، بھول چوک ، خطاء اور گناہ اس کی فطرت کے لازمے ہیں، ان میں استثنا صرف انبیا اور صحابہ کرام کا ہے ، اس لیے کہ ابنیاء معصوم ہوتے ہیں اور صحابہ کرام محفوظ ، آئیے ہم سب مل کر دعا کریں کہ اللہ رب العزت ماسٹر صاحب کے گناہوں اور لغزشوں کو معاف کر ے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین ۔ مؤمن کا مطلوب یہی ہے، جنت مل گئی تو زندگی جیسی بھی گذری، کامیاب ہو گئی ، اللہ ہم سب کو بھی اپنی مرضیات پر چلائے اور ہم لوگوں کے لیے جنت کا فیصلہ فرمائے۔

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے