بدھ, 30, نومبر, 2022

لمحہ فکریہ

لمحہ فکریہ

ہنی سنگھ بنادیجئے،یہ جملہ ایک مسلم لڑکے نے حجام سے کہا اور کرسی پر بیٹھ گیا، نائی کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی،وہ تو روزانہ سینکڑوں لوگوں کو ہنی سنگھ بنانے کا تجربہ رکھتا ہے،سننتے ہی شروع ہوگیا،سر کے تینوں جانب سے موصوف کےبال کاٹے گئے، اورسر کے اوپری حصے کے بال کاٹنے سے رہ گئے، اسی پرحجام کاکام پورا ہوا،اور وہ لڑکا ہنی سنگھ بن کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگیا،
بظاہر یہ ایک معمولی سی بات ہے،کوئی نقصان سمجھ میں نہیں آرہا ہے،مگرغور کرنے پر ایک بڑا حادثہ معلوم ہوتا ہے ،چند منٹ کے اندر عبداللہ ہنی سنگھ بن رہا ہے،یہ دین وایمان کا بھاری نقصان ہے،
وضع میں تم ہو نصارٰی تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں!جنہیں دیکھ کےشرمائیں یہود
بال رکھنا بھی اسلام میں سنت ہے اور بال کٹوانا بھی سنت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بال رکھتے بھی تھے، اور کٹواتے بھی تھے،آپ صلی علیہ وسلم کے بال کبھی کان تک، کبھی کان کی لو تک اور کبھی کندھے تک بھی پہونچ جاتے، مگر کندھے سے نیچے نہیں ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بال کٹواتے تو ہرطرف سے برابر کٹواتے،یہ بال رکھنا سنت ہے اور اس طرح سے کٹوانا بھی سنت ہے، سر کے کچھ حصوں کے بال کٹوانا اور کچھ حصہ کا چھوڑ دینا یہ غیروں کا طریقہ ہے، یہ بات مذکورہ واقعہ سے ثابت ہوتی ہے کہ اس کا نام ہنی سنگھ ہوجاتا ہےجو غیروں کی مشابہت اختیار کرتا ہے، یہ ہمارے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔
آج یہ سب فیشن کے نام پر ہی نہیں ہورہا ہے بلکہ ایک خاص پلاننگ کا حصہ ہے، ہندوانہ رسوم ورواج کو بھی فیشن کے نام پر پروموٹ کیا جارہاہے،مسلم بچیاں پیار ومحبت کے جال میں پھنس کر ارتداد کا شکار ہورہی ہیں، تو وہیں فیشن کے نام پر مسلم بچے ہنی سنگھ بن رہے ہیں، بال ہی نہیں بلکہ اپنا حال بھی غیروں جیسا بنا رکھا ہے۔شہروں میں دیکھئے اور دھیان دیجئے کہ ہاف پینٹ پہنے ہوئے،اپنے ہاتھوں میں کڑے ڈالے یہ کون جارہا ہے؟،یہ مسلم نوجوان ہے،اورایک صاحب ایمان کی اولاد ہے،مگر کہیں سے دیکھنے پر مسلمان نہیں نظر آتا ہے، ملک میں یہ کوشش بڑی تیزی کے ساتھ اس وقت ہورہی ہے کہ ایسے مسلمان ہوں اور مسلم جوان ہوں، جو اپنی شناخت اور اپنی تہذیب سے نا آشنا ہوں،اسی لئے بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ ملک کا رہنے والا ہر آدمی ہندو ہے،اسی لئےہراس جگہ کےنام بدلنے کی کوشش ہورہی ہے جس سے اسلام اور مسلمان کی خوشبو آتی ہے، یکساں سول کوڈ کی آواز اسی لئےاٹھائی گئی ہے، آج خود کو اور اپنے بچوں کو سنت رسول کے سانچے میں ڈھالنے کی ضرورت ہے،زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جو اسلام میں تشنہ رہ گیا ہو،آقائے مدنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لئے نمونہ ہے، اسے اپنی زندگی میں داخل کرنا ہی دراصل آپ سے محبت کا عملی اعلان ہےاور ماہ ربیع الاول کا پیغام بھی یہی ہے۔
کی محمد سے وفا تونے توہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں

ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
۹/ربیع الاول ۱۴۴۴ھ

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے