قیام دارالافتاء والقضاء نیپالی جامع مسجد کاٹھمنڈو اور انکی تین سالہ مختصر کارگزاری

44

الحمد للہ (از محمد ابوبکر صدیق قاسمی خادم دارالافتاء والقضاء نیپالی جامع مسجد کاٹھمنڈو) آج دارالافتاء والقضاء کے قیام کو تین سال ہوگئے، اس سے قبل نیپال میں خصوصا پہاڑ میں کوئی مستند دارالافتاء والقضاء وجود میں نہیں تھا، عام طور پر مسلم عوام اپنے مسائل کے حل کے لئے ترائی یا ہندوستان کے اداروں کی جانب رجوع کرتے تھے، اب ایک اہم ضرورت پوری ہوتی نظر آرہی ہے، اب مسلمانان نیپال اپنے حساس اور پیچیدہ مسائل حل کرانے اور آپسی اختلاف و نزاع کو حل کرانے کے لئے دارالافتاء والقضاء کا قصد کرتے ہیں، ان تین سالوں کے دوران دارالافتاء والقضاء سے مسلمانوں کے بھت سے مسائل حل ہوے ہیں جنکی تمام تر تفصیلات دارالافتاء والقضاء کے رجسٹر میں اندراج ہے، کئی مواقع پر مسلمانوں کے بیچ آپسی اختلافات کو رفع کرکے فریقین میں مصالحت کرائی گئی، ان کو مستقبل میں شدید تنازع و جھگڑے سے بچایا گیا، ھمارے ملک نیپال میں اگرچہ قاضی کے حکم کو نافذ کرنے کی قوت ملکی سطح پر دارالافتاء والقضاء کو نہیں ہے لیکن جنکے اندر خوف خدا و خوف آخرت پائے جاتے ہیں وہ اپنے مسائل شرعی قانون (قرآن و حدیث) کے مطابق حل کرانا چاہتے ہیں وہ دارالافتاء والقضاء کا رخ ضرور کرتے ہیں تاکہ شریعت کے دائرے میں رہ کر معاملہ حل کراسکیں اور یہی در حقیقت سچے مؤمن کی پہچان ہے نیز الحمد دارالافتاء والقضاء سے تقریبا دیڑھ سو فتاوے نکلے ہیں، یہاں مسلمانوں کا اسلامک میرج سرٹفکیٹ (نکاح نامہ) بھی بنایا جاتا ہے، مسلمانوں کے نزدیک ہر ماہ ۲۹ کے چاند دیکھنے کا اہتمام کرنا و کرانا دینی فریضہ ہے، اس لئے شریعت کی روشنی میں ہر ماہ چاند کا اعلان دارالافتاء والقضاء سے کیا جاتا ہے، الحمد للہ کاٹھمنڈو میں دارالافتاء والقضاء کے قیام کی تائید صرف اکابر علماء نیپال ہی کی جانب سے نہیں ہے بلکہ اس تائید میں اکابر علماء ہند و پاک بھی شامل ہیں، نیز عوام الناس کی نظروں میں اسکی افادیت کوئی مخفی و چھپی ہوی نہیں ہے، دعا کریں اللہ ان خدمات کو قبول فرمائیں اور اخلاص کے ساتھ ہم خدام کو خدمت کرنے کی توفیق نصیب فرمائیں آمین