قوم کے ان معماروں کا بھی خیال رکھیں : محمد قمر الزماں ندوی

44

اس سے کسی کو انکار نہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں کے دین و ایمان کے معمار مدارس اسلامیہ ہیں، اور ہمارا ایمان و عقیدہ ان مدارس کی رہین منت ہے۔۔ یہ مدارس یقینا دین کے قلعے ہیں اور اس قلعے کے محافظ یہاں کے منتظمین، اساتذہ اور خدام ہیں۔ جن علاقوں میں مدارس و مکاتب نہیں ہیں، یا جہاں دینی تعلیم کا انتظام نہیں ہے، دعوتی محنت نہیں ہے، ان علاقوں کا بہت ہی برا حال ہے، مسلمان مشرکانہ تہذیب سے متاثر ہیں، وہ غیروں کے تیہوار میں برابر کے شریک ہوتے ہیں، اس کو مناتے ہیں، دیوالی، چھٹ اور ہولی ان تہواروں میں برادران وطن کے ساتھ شانہ بشانہ نظر آتے ہیں،شادی بیاہ میں ان کے یہاں ہندوانہ رسم و رواج عام ہے، وہاں کے مسلمان ایمان و عقیدہ، فرض و سنت واجبات کی معلومات تو دور اسلامی ناموں سے بھی محروم ہیں، خدا تعالیٰ نے آج بر صغیر ہند و پاک کو پوری دنیا میں دینی تعلیم کی مرکزیت عطا کی ہے۔ اگر لاک ڈاون کی اس مصیبت میں،ہم نے ان مدارس، اور ان کے معماروں کے وجود و بقا کے لیے سنجیدہ کوشش نہیں کی، ان کے گزر بسر اور معاش کے لیے فکر مند نہیں ہوئے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ مرکزیت بصرہ، عراق اور اسپین و اندلس کی طرح ہم سے چھین لیا جائے، کیونکہ جہاں علم اور علماء کی قدر نہیں ہوتی، ان کی کفالت کا انتظام نہیں ہوتا،دینی مراکز کے معماروں کی ضرورتیں پوری نہیں کی جاتیں، وہاں سے مرکزیت چھن کر دوسرے ملکوں اور علاقوں کے علم اور علماء کے قدر دانوں کو عطا کر دیا جاتا ہے۔۔
لاک ڈاون کی وجہ سے تقریباً سات آٹھ ماہ سے مدارس بند ہیں، مرکزی اداروں میں تو تنخواہیں مل رہی ہیں، لیکن متوسط اور غریب مدارس کا بہت برا حال ہے، بہت سی مساجد کے ائمہ اور موذن حضرات بھی حالات کی مار جھیل رہے ہیں۔ اکثر لوگوں نے مدارس کو طاق نسیاں پر رکھ دیا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کو ائمہ کرام، علماء،مدارس اور دینی مراکز کی ضرورت نہیں ہے، حال یہ کہ دینی مدارس کے بہت سے اساتذہ سبزی بیچتے اور بعض وہ کام کرتے نظر آرہے ہیں جو ان کے شایان شان نہیں ہے اگر چہ حلال روزی کا ذریعہ ہے۔ مدارس کے انتظامیہ کی بھی کمیاں ہیں لیکن اس وقت ہمیں ان کمیوں پر بحث نہیں کرنی ہے، اصلاح اور شکوہ و شکایت کی باتیں بعد میں ہوں گی، ابھی تو ہمیں ان مدارس اور وہاں کے علماء اور اساتذہ کی حالت زار پر ترس کھانا ہے اور ان کے لیے کچھ سوچنا ہے۔۔ حالت یہ ہے کہ پچھلے کئی مہینوں سے نہ صرف انتظام و انصرام بلکہ ان سے متعلق اساتذہ و عملہ کی حالت تشویش ناک بنی ہوئی ہے۔ خودکشی تک کے واقعات پیش آرہے ہیں، اگر دین کے یہ معمار ہی مٹ گئے وہ دست و پا ہوگئے ناامیدی میں جلتی ایک جوت بھی بھج گئی تو جانتے ہیں پھر کیا ہو گا، الحاد و دہریت، لادینیت کا طوفان برپا ہو جائے گا اور ہماری ہوا اکھڑ جائے گی، اور ہم بے حقیقت ہوکر رہ جائیں گے۔۔ اس لیے وقت کی نزاکت اور ضرورت کو سمجھیں، اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔۔۔۔
اس موقع پر ہم استاذ گرامی قدر فقیہ عصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی مدظلہ کی تحریر کا اہم اقتباس نقل کرتے ہیں، جس میں حقیقت حال خون جگر سے رقم کیا گیا ہے، آپ لکھتے ہیں:
“اس پس منظر میں عرض ہے کہ گزشتہ سات مہینوں سے یوں تو پورا ملک معاشی مشکلات سے گزر رہا ہے؛ لیکن سب سے زیادہ جو طبقہ دشواری سے دوچار ہو اہے ، وہ دینی خدمت گزاروں کا ہے، گورنمنٹ ملازمین کی تنخواہیں اس معیار کی ہوتی ہیں کہ اگر ان کو نصف تنخواہ بھی مل جائے تو روزمرہ کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں، پرائیویٹ کمپنیوں کے ملازمین کی صورتحال بھی یا تو یہی ہے یا اس سے بہتر ہے، پھر یہ کہ ان حضرات کے پاس پس انداز کی ہوئی رقم بھی ہوتی ہے،کرونا کی اس وبا کے دوران اس جمع شدہ رقم سے بھی لوگوں نے اپنی ضرورتیں پوری کیں؛ لیکن غیر منظم اور کم یافت کے حامل ملازمین یا یومیہ اجرت کی بنیاد پر کام کرنے والے مزدوروں کے پاس کوئی رقم پس انداز نہیں ہوتی، پھر بھی مزدورں کے لیے یہ آسانی ہے کہ وہ کوئی بھی ذریعہ معاش اختیار کر سکتے ہیں، اور ان کو لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے میں بھی عار نہیں ہوتی، دینی خدمت گزاروں کی صورت حال یہ ہے کہ نہ ان کے پاس کوئی پس انداز کی ہوئی دولت ہے، نہ وہ محنت مزدوری کر سکتے ہیں، اور نہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا سکتے ہیں، بعض لوگ ان کی اس پریشانی کے لیے صرف اداروں کی انتظامیہ کو قصوروار قرار دیتے ہیں؛ لیکن یہ درست نہیں ہے؛ کیونکہ مدارس کا نظام عوامی تعاون سے چلتا ہے اور عام طور پر یہ تعاون رمضان المبارک میں حاصل ہوتا ہے، اور اس سال اسی ماہ میں لاک ڈاؤن نافذ ہونے کی وجہ سے مدارس کی آمدنی کہیں معمولی پیمانہ پر ہوئی اور کہیں وہ بھی نہ ہوسکی؛ اگر مدرسے میں پیسے ہوں اور خدامِ مدرسہ کی خدمت نہ کی جائے، تو یہ بات قابل شکایت ہوسکتی ہے؛ لیکن اگر مدرسے میں پیسے ہی نہ ہوں تو انتظامیہ بھی کیا کر سکتی ہے!
مگر سوال یہ ہے کہ اس سلسلہ میں عام مسلمانوں کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں یانہیں؟حقیقت یہ ہے کہ مدارس کے اساتذہ و عملہ اور مساجد کے ائمہ و مؤذنین پوری قوم کی خدمت کر رہے ہیں؛ اس لئے قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ بہتر اور باعزت طریقے پر ان کی کفالت کریں، اس کفالت کی ایک صورت تو یہ ہے کہ مدارس و مساجد کی انتظامیہ کو تعاون پیش کیا جائے، اور موجودہ حالات کے پس منظر میں ہنگامی مدد کی جائے، دوسرے: دینی خدمت گزاروں کی انفرادی طور پر کفالت قبول کی جائے؛ اگر ہر شہر میں دس اصحاب خیر مل کر اپنا گروپ بنائیں اور یہ گروپ خدام دین میں سے ایک فرد یاایک سے زائد افراد کی بنیادی ضروریات– راشن، علاج اور بچوں کی تعلیمی فیس– کا آئندہ چھ ماہ کے لیے ذمہ لے لیں اور خاموشی کے ساتھ اپنی اعانت ان تک پہنچا دیں، توان پر کچھ زیادہ بوجھ نہیں پڑے گا، اورکتنے ہی خدام دین کی کفالت ہو جائے گی، ہر شہر میں ایسے ہزاروں گروپ بن سکتے ہیں اور بہ سہولت مدارس اور مساجد کے خدمت گزاروں کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے، یہ دس افراد کے گروپ کی بات تو بطور سہولت کہی گئی ہے؛ ورنہ ملت میں ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو تنہا خدمتِ دین میں مشغول کئی خاندان کی کفالت کر سکتے ہیں، اس طبقہ پر خرچ کرنے میں دوہرا اجر ہے، ایک تو صدقہ کا، دوسرے :بالواسطہ دینی خدمت میں تعاون کا؛ چنانچہ مشہور محدث امام عبداللہ بن مبارکؒ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اپنی اعانتیں علماء پر ہی خرچ کرتے تھے، اور فرماتے تھے کہ مقام نبوت کے بعد علماء سے بڑھ کر کوئی بلند مرتبہ نہیں، (الاتحاف:۴/۴۱۷) مشہور فقیہ علامہ علاء الدین حصکفیؒ فرماتے ہیں: التصدق علی العالم الفقیر أفضل و الی الزھاد (درمختار:۳/۳۰۴) ’’ محتاج عالم یا عابد و زاہد لوگوں پر صدقہ کرنا افضل ہے‘‘۔(شمع فروزاں:١٦/١٠/٢٠٢٠)