قوم جاننا چاہتی ہے!!

49

تحریر :خورشید انور ندوی

Nation wants to know!!

جمہوریت اور جمہوری معاشرے بہترین تماشہ گاہ ہوتے ہیں.. اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جمہوریت کے مخالف ہیں، ایسا بالکل نہیں.. مشترک معاشرے کے لئے جمہوریت ایک بہتر سیاسی نظم ہے.. کثیر المذاہب اور متنوع تمدنی، لسانی اور علاقائی شناخت کے حامل ملک کے لئے، جمہوریت ایک مشترک سماجی قدر اور بقائے باہم کی بنیاد فراہم کرتی ہے.. دراصل جمہوریت ایک وسیع سماجی سیاسی تمدنی عمرانی معاہدہ ہی تو ہے، جو آبادی کی ساری جہتوں کو تسلیم کرتا ہے اور ان کے شہری حقوق کی پاسداری کا پابند کرتا ہے.. یہ تو ایک بہترین انسانی تجربہ کہہ لانے کا مستحق ہے.. لیکن بات اس معاہدے سے اعلانیہ یا غیر اعلانیہ انحراف، دھونس اور سماج کے کسی ایک حصے کی طرف سے غلبہ کی نفسیات کے اظہار سے خراب ہوتی ہے.. جب یہ منحرف اور غلبہ کی بلاجواز خواہش سے مغلوب طبقہ من مانی کی ٹھان لیتا ہے اور موقع ملتے ہی ہر کونے پر اپنا تسلط قائم کرنے لگتا ہے.. رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والے وسائل پر بھی اپنی گرفت مضبوط کرنے لگتا ہے اور ایک طرح کی اجارہ داری قائم کرنے لگتا ہے.. پچھلی کئی دہائیوں سے ہندوستان میں ہندو احیاء پسند قوتیں یہی کچھ کررہی ہیں..2014 سے اقتدار ملنے کے فوراً بعد حکمران جماعت بی جے پی اور اس کی منٹر تنظیم آر ایس ایس نے حکومت کی پالیسیوں کے ذریعہ جو کیا سوکیا، حکومت کے دائرہ سے باہر کی ہر موثر یونٹ پر قبضہ کرکے سارے سماجی تانے بانے اور قومی خدمت کے ہر اداریے کو پوری طرح تباہ کرنے پر تل گئیں.. انھیں میں سے ایک موثر اور رائے عامہ پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والا شعبہ صحافت بھی ہے.. جس کی ہر کل ٹیڑھی کردی گئی.. بدعنوانی اور غلط پیسوں کے بےدریغ استعمال کے ذریعہ پورے پورے میڈیا ہاؤسز بنائے گئے اور کچھ پہلے سے موجود خریدے گئے.. اپنی بات مسلط کرنے، اقلیتوں کو دبانے، ان کو بےآواز کرنے کے لئے صحافت کے ادنی سے ادنی معیار کو بھی روندا گیا.. شائستگی، زبان وبیان کی سطح، آداب گفتگو، اور بات کہنے سننے کی روایتی رواداری ہر چیز کو تہس نہس کردیا گیا.. کچھ نئے نئے چہرے ایک سانچے میں ڈھالے گئے اور آسمان چھولینے کی ان کی پر زور آرزو کو دوسروں کی کردار کشی کے لئے استعمال کیا گیا.. انھیں نو خرید خود فروشوں میں ایک نام أرنب گوسوامی کا بھی ہے.. جس کی ساری ہیکڑی تو ہندوستان کے ایک ذہین کامیڈین کنال کامرہ نے نکال دی تھی.. اب رہی سہی ممبئی پولیس نے نکال دی.. آج جس طرح جھوٹ کا سہارا لے کر انھوں نے اپنے ہاتھ پر پولیس کی زیادتی کا زخم دکھانا چاہا وہ بالکل نہ دکھ سکا.. اب قوم جاننا چاہتی ہے کہ حقیقت کیا ہے.. قوم یہ بھی جاننا چاہتی ہے.. انٹیریر ڈیزائنر کے ساتھ ایسی کیا مالی بدعنوانی کی گئی اور کس طرح اس کو پریشان کیا گیا کہ اس نے اپنی زندگی ہارجانے کا فیصلہ کرلیا.. اور کیس شیٹ اتنے سارے ثبوتوں کے باوجود اس وقت کی أرنب گوسوامی کی حمایتی ریاستی حکومت نے کیوں بند کردیا تھا.. قوم یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ ریپبلک چینل کی ٹی آر پی فراڈ کیس کا فطری انجام کیا ہوگا؟.. اب قوم یہ بھی جاننا چاہے گی.. آخر راتوں رات اتنا بڑا چینل بنتا کیسے ہے.. قوم جاننا چاہتی ہے ٹائم ناؤ کا ایک کم صلاحیت اینکر ایک بڑے میڈیا ہاؤس کا ڈائریکٹر یا سی او کیسے بن جاتا ہے.. اتنی آسانی سے سارے اجازت نامے کیسے مل گئے..؟ اور اس تیز رفتار دفتری کاروائی میں وزارت اطلاعات کی سبک دستی جادو کے کس تار سے بندھی ہے؟ قوم جاننا چاہتی ہے جس ملک میں ای میل اور واٹساپ پر عام لیڈروں کو اس ام اس بھیجنے پر اف آئی آر درج کی جاتی ہے، ایک ریاست کے سربراہ، چیف منسٹر کو چینخ چینخ کر خود کو گرفتار کرنے کی دعوت دینے اور ملک کو بے پناہ ٹیکس دینے والی فلم انڈسٹری کی سبھی اہم شخصیات کو نام لے لے کر بدنام کرنے پر کوئی کاروائی کیوں نہیں کی گئی.. قوم کو یہ جاننے کا حق ہے کہ لاک ڈاؤن میں ہزاروں نہتے شہریوں پر پولیس کی سفاکی پر خاموش حکومت اور سیاسی پارٹی کو ایک ملزم کی گرفتاری زیادتی کیوں نظر آتی ہے.؟ . قوم جاننا چاہتی ہے کہ خود کشی کرنے والے شخص کے ساتھ اس کی ماں بھی انصاف سے مایوس ہوکر جان دے بیٹھی تھی تب شریمتی سمرتی ایرانی نے جو ڈراموں میں منوں ٹسوے بہاچکی ہوں گی کیوں غم زدہ نہیں ہوئیں؟ ارنب ابھی قیدیوں کی وین میں بیٹھا بھی نہیں تھا اور ان کا واویلا ریکارڈ ہوگیا.. کیا متعلقہ لوگ اس قوم کو یہ بتانا پسند کریں گے جس کو ارنب نے سب کچھ جاننے کا عادی بنادیا ہے؟

کم از کم قوم یہ ضرور جاننا چاہتی ہے…