جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتقلم کامجاہد تھا،نہ رہا

قلم کامجاہد تھا،نہ رہا

قلم کا ایک مجاھد تھا،نہ رہا

           🖋️_____انظار احمد صادق ؔ

 *”آدابِ زندگی“* کتاب کا نام تو آپ نے سنا ہوگا بلکہ پڑھا بھی ہوگا۔ اسی طرح *”سچا دین“* جوچھ حصوں پر مشتمل ہے اس کو تو آپ لازماً جانتے ہوں گے۔ یہ تو درجہ ششم تک نصاب میں شامل ہے۔ اسکول و مدارس میں یکساں طورپر یہ کتاب پڑھائی جاتی ہے۔ ان دونوں کتابوں او ر ان جیسی دیگر درجنوں کتابوں کے مصنف مولانا محمد یوسف اصلاحی (رحمہ اللہ)اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ 21 دسمبر2021 منگل کے دن اپنے ربِ حقیقی سے جاملے۔إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعونَ.

    ”آدابِ زندگی“ تو مولانا رحمہ اللہ کی عالمی شہرت یافتہ کتاب ہے جو اب تک لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوچکی ہے۔ ”آداب زندگی‘‘ وہ کتاب ہے جو دنیا کی کئی مشہورزبانوں میں ترجمہ کی جاچکی ہے۔ یہ کتاب اسلامی تہذیب و اخلاق، اسلامی اصول و آداب، اسلامی طرز زندگی اور اسلامی مذاق و مزاج کی روشنی میں زندگی کا سلیقہ سکھانے والا ناقابلِ فراموش مجموعہ ہے، جسے آفاقی حیثیت حاصل رہے گی۔ اس کتاب میں اسلامی آداب، سلیقہ و تہذیب، حسنِ زندگی، معاشرت، دعوتِ دین اور زندگی کے مختلف پہلووں پرسادہ، سلیس اورانتہائی سہل زبان میں گفتگو کی گئی ہے۔

 مولانا رحمہ اللہ کی کوئی بھی تصنیف اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ آپ ان کو قلم بالسیف کا مجاھد پائیں گے۔ ان کی ایک کتاب ”روشن ستارے“ بھی ہے۔تقریباً تین سو صفحات پر مشتمل ہے، اس میں چار ابواب ہیں۔ اس کتاب میں اسلاف کرام کے ایسے ایسے واقعات و اقوال ہیں جنہیں پڑھ کر دلوں میں علم دین کی قدرو منزلت بڑھتی جاتی ہے، علم کے حصول کی راہ میں مصائب و آلام برادشت کرنے کا حوصلہ ملتاہے اور علم کے حصول کے لیے آگے بڑھتے رہنے کا جوش و جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ”روشن ستارے“ کتاب تو مجھے اتنی پیاری اور بھلی معلوم پڑتی ہے کہ میں کیا کہوں۔اس کو پڑھیے اور پڑھتے جایئے، پھر آپ محسوس کریں گے کہ اس کتاب میں بکھرے ہوئے الفاظ و جُمل اور اس کے پیام ویسے ہی ہیں جیسے آسمان میں قرینے سے روشن ستارے بکھرے ہوئے ہیں اور ہر ستارے خوشنما اور بھلے معلوم ہوتے ہیں۔ ہم ان کی اس کتاب ”روشن ستارے“ کو ”زمین کے تارے” کہنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرسکتے، یقیں نہیں تو ایک بار آپ ذرا پڑھ کے تو دیکھیے۔ اللہ مولانا رحمہ اللہ کی تربت میں بھی ستاروں کی روشنی بھر دے، آمین!

  مولانا رحمہ اللہ کومیں نے ”قلم کا مجاہد“ کہا ہے۔ در اصل مولانا رحمہ اللہ نے سیف کا کام قلم سے دکھایا ہے۔ قلم کے ذریعہ انہوں نے علم کی اشاعت کی ہے۔ اسلام اور حق کی تبلیغ کی ہے۔ انہوں نے قلم کو تبلیغ کا مؤثر ترین ذریعہ بنایا۔ قلم کی وسعت کا انہوں نے بھرپور فائد اٹھایا۔ انہوں نے قلم سے ویسے کام لیا جیسے پتھر پر لکیریں کھینچی جاتی ہیں، جسے جلدکوئی مٹا نہیں سکتا۔ انہوں نے قلم سے شاندار بھلی باتیں کی ہیں۔ مدافعت بھی کی ہے تو امن کے ساتھ، جارحانہ حملوں کا جواب بھی دیا ہے مگرانتہائی سکون کے ساتھ، انہیں اس بات کا ہنر تھا کہ قلم اپنے اندر کتنی روحانی طاقت رکھتا ہے، وہ جانتے تھے کہ قلم کی چشم کشا اہمیت کیا ہے۔الغر ض انہوں نے قلم سے وہ جوہر دکھائے ہیں جو ایک مجاہد اپنی سیف سے دکھاتا ہے، قلم اور سیف کی جھنکار کا ایک لطیف فرق ہے جسے ایک قلم کا مجاہد ہی سمجھ سکتا ہے۔ مولانا محمد یوسف رحمہ اللہ بھی قلم کے ایک عظیم مجاہد تھے،اس مجاہد کو دنیاان شاء اللہ مدتوں یاد رکھے گی۔

 مولانا رحمہ اللہ کو رو بروتو کبھی دیکھا نہیں ہے، البتہ ان کی تصویر دیکھی ہے۔ ان سے بہت قریب سے ملنے اور ان سے گفتگو کرنے والے ہمارے اسکول کے باوقار استاذ مولانا فضل کریم قاسمی نے بتایا کہ ان کے قلم کی زبان جتنی سادہ اور سلیس ہے،ان کی تقریر، درس قرآن اورعام گفتگو کی زبان بھی ویسی ہی سادہ اور سلیس تھی۔ مزاجاً انتہائی سنجیدہ اورگفتگو نرم، باتوں میں چاشنی، لبوں پہ مسکراہٹ، لب و لہجے میں شیفتگی پوری طاقت سے اپنی طرف کھینچتی تھی۔“ اللہ اس باکمال شخصیت کی تربت پرر حمت کی بارش کرے، آمین!

                                    ٭٭٭

روزنامہ "قومی تنظیم” ،پٹنہ 23 دسمبر 2021

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے