قصہ پٹنہ کے دو سروں(Sir) کا از قلم: مشتاق نوری        کشن گنج، بہار

120
       جی ہاں آپ نے سہی پڑھا۔مگر یہ وہ سر نہیں جو دھڑوں کی گردن کے سہارے دو کندھوں پر براجمان ہوتے ہیں۔اور نا ہی یہاں پر ان کی بات مقصود ہے جنہیں برطانیہ خطاب دے کر سر بناتا ہے۔جیسے سر سید احمد ،سر علامہ اقبال،سر اسحاق نیوٹن۔مروجہ بھاشا میں لوگ عصریات پڑھانے والے اساتذہ کو “سر” کہتے ہیں۔یہاں یہی موضوع سخن ہے۔آج میری تحریر بہار کی راجدھانی پٹنہ کے ان دو ٹیچرز سے متعلق ہے جن کی ان تھک محنت، بے لوث خدمت،تدریسی اہلیت اور روز فزوں شہرت نے اپنی الگ پہچان بنائی ہے۔کہا جاتا ہے کہ ان اساتذہ میں اپنے طلبہ کے اندر گن اور صلاحیت بھر دینے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ان دونوں نے اپنی تعلیمی و تدریسی قابلیت سے وہ ہیرے تراشے ہیں جن کی ہر ترقی پذیر ملک کو اشد ضرورت ہوتی ہے۔مگر دونوں کے مذہبی میلانات مختلف ہیں یہ ہیں آنند سر ( Anand Sir IAS)اور خان سر (Khan Sir GS)۔
آپ کو بتا دیں کہ شہر پٹنہ جدید و عصری تعلیم کے مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے لیے ایک بہت بڑے مرکز کے بطور سامنے آیا ہے۔یہ الگ بات ہے وہاں امارت شرعیہ،ادارۂ شریعہ، مرکز جماعت اسلامی جیسے بڑے بڑے مسلکی اداروں کے باوجود دینی تعلیم کو وہ معیار و منہاج حاصل نہ ہوسکا ہے جس کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔عصری تعلیم کے لیے کئی بڑے بڑے انسٹیٹیوٹشن وجود میں آ چکے ہیں۔شہر میں چلنے والے ہزاروں کوچنگ سینٹرز اس بات کی بین دلیل ہے کہ پٹنہ آماجگاہ علم و فن بن چکا ہے۔
پہلے بات کرتے ہیں آنند سر کی۔
یہ ایک اعلی ذہانت کے حامل ٹیچر ہیں جن کی کوچنگ نے ہزاروں طلبہ و طالبات کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔اسی وجہ سے “لمکا بک آف ورلڈ ریکارڈز” میں ان کا نام اور کام درج ہو چکا ہے جو ایک بہت بڑی حصولیابی ہے۔ان کی جد وجہد بھری زندگی پر بالی ووڈ نے رتک روشن کی اداکاری میں بنام سوپر تھرٹی مووی بھی بنائی ہے۔میری معلومات کی حد تک گیا کے دشرتھ مانجھی کے بعد بہار کے یہ دوسرے شخص ہیں جن کی زندگی پر فلم (Biopic) بنائی گئی۔
معلومات کے مطابق انہوں نے ۲۰۰۱ میں سوپر تھرٹی(Super Thirty) کے نام سے IIT,JEE کی تیاری کے لیے کوچنگ کی شروعات کی۔اور بہت کم وقت میں ان کی کوچنگ کے طلبہ جے ای ای، آئی آئی ٹی کوالیفائی کرنے کے بعد یو پی ایس سی میں بھی جھنڈے گاڑتے چلے گئے۔آنند سر کے کوچنگ بیچ میں صرف تیس ہی لڑکے ہوتے ہیں مگر اس کا رزلٹ پرسنٹیج ۹۰ پلس ہوتا ہے۔آج بھی اس کوچنگ کی کامیابی کے چرچے ہندوستان بھر میں چل رہے ہیں۔مکیش امبانی جیسے بزینیس مین نے آنند سر کو فائنانشیل سپورٹ کے لیے آفر بھی کیا تھا۔ان کا عروج دیکھ کر اور بھی کئی کمپنیوں نے مالی تعاون کی پیش کش کی تھی۔ان کی کوچنگ کی خاص بات یہ بھی ہے کہ پہلے آنند سر کی بوڑھی ماں طلبہ کے لیے کھانا خود بناتی تھی اور اب ان کی وائف یہ کام کر رہی ہے۔
اسی سوپر تھرٹی کی طرز پر بہار کی خانقاہ رحمانی منگیر کے سابق سربراہ جناب ولی رحمانی صاحب نے بھی انہی آنند سر کی گائڈ لائن و تدریسی تعاون پر رحمانی تھرٹی کی داغ بیل ڈالی تھی جو آج خاصی کامیاب نظر آتی ہے۔اس میں بھی آنند سر ہی پڑھاتے ہیں۔حال ہی میں ولی رحمانی صاحب کے انتقال کے بعد اس کوچنگ کی کیا صورت رہی نہیں معلوم۔امید ہے اچھا ہی ہوگا۔
ویسے اکثر میرے ذہن میں دو سوال گردش کرتے رہتے ہیں ایک یہ کہ آنند سر جیسے بے لوث خدمت گار، سماج سازی میں اپنا اسپیشل رول پلے کرنے والے لوگ ہمارے سماج میں کیوں نہیں پیدا ہوتے؟ دوسرا یہ کہ ملک بھر میں جب یو پی ایس سی کا کوالیفائنگ رزلٹ آتا ہے تو کامیاب ہونے والے مسلم طلبہ کبھی ۲۵، کبھی ۳۰، کبھی چالیس تک ہی رہ جاتے ہیں۔ہم نے پچاس کا ہندسہ بھی مشکل سے عبور کیا ہے۔اگر پیسوں سے مالا مال اہل خانقاہ چاہیں تو رحمانی تھرٹی کی طرز پر ملک کے مختلف حصوں میں کئی سنٹرز کھولے جاسکتے ہیں اور کامیابی کے ساتھ چلاۓ بھی جا سکتے ہیں۔
اب بات خان سر کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خان سر آج کل بہت چرچا میں ہیں۔یو ٹیوب پر ان کے ۸؍ ملین کے قریب سبسکرائبرز (Subscribers)ہیں۔ویورز (Viewers) کی تعداد کئی ملین میں ہے۔سونو نگم اور انوپم کھیر جیسے بھگوا مائنڈ سلیبریٹی ان کے فین ہیں۔جی ایس (General Studies) کے ماہر استاذ مانے جاتے ہیں۔کرنٹ اشوز پر ویڈیو بناتے ہیں۔اس وقت ان کی کوچنگ میں لاکھوں طلبہ و طالبات اسٹڈی کر رہے ہیں۔
جب سے خان سر کی ہوا (قارئین ہوا کے بجاۓ وبا بھی پڑھ سکتے ہیں) چلی ہے میں نے بہت قریب سے اسے پڑھنا شروع کیا۔یو ٹیوب و فیسبک پر کئی ویڈیوز دیکھے۔یہاں تک کہ گوگل بابا پر جاکر اس کی مزید حقیقت جاننے کی کوشش کی۔پر مجھے بہت افسوس ہوا کہ ایک ایسا اچھا ٹیچر وقت کی آزاد خیال رو میں بہ کر کیسے گمراہ ہوگیا۔حد سے زیادہ لبرل بننے کی سوچ ہی اسے کہیں کا رہنے نہیں دے گی۔
اس وقت ان کے متعلق سوشل میڈیا پر کئی افواہیں گردش میں ہیں۔کوئی کہتا ہے کہ یہ ہندو ہے۔کسی نے لکھا کہ اس کا نام امت سنگھ ہے۔کسی نے کہا کہ دہلی کے خان چاچا کی طرح اس نے بھی دھوکہ دینے کے لیے خان نام رکھ لیا ہے۔جب کہ یہ سب باتیں محض افواہ ہیں۔ان کا گھر یوپی کے گورکھ پور میں ہے اور یہ ایک مسلم پریوار سے آتے ہیں۔نام فیصل خان ہے۔
آپ کو بتا دیں کہ خان سر مذہب کے معاملے میں سیکیولر ہیں۔اول درجے کا مذہب بیزار لبرل شخص ہے۔نیوز ۲۴ کے مانک گپتا نے ان سے مذہب کے بارے میں پوچھا تو اس کا جواب تھا کہ میرا مذہب ہندوستانی ہے۔میرا ذاتی شکچھک ہے اس سے زیادہ میں کچھ نہیں ہوں۔مگر اسے پڑھنے سننے سے پتا چلتا ہے کہ جھکاؤ ہندومت کی طرف ہی زیادہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی کوچنگ میں بڑے جتن سے ہر تہوار کے موقعے سے ہندو پوجا کا انعقاد ہوتا ہے۔اور ان کا سیکولرازم اکثریت کے دباؤ کی پیداوار لگتا ہے۔یہ کہیں تو بے جا نہ ہوگا کہ ان کے اندر ضرورت سے زیادہ سیکولرازم بھرا ہے۔ان کا راسٹرواد(Nationalism) بھی کسی اندھ بھکت یا گوبر بھکت سے متأثر ہی ہے بلکہ مجھے تو ان سے بھی زیادہ لگتا ہے۔
اسلامیات کا علم نہ ہونے کے باوجود اس پر گیان پھینکتے ہیں۔بات بات پہ اسلامی تعلیمات و نظریات پر طنز کرنا ان کو پسند ہے۔دینی معلومات تو ان کو ایک فیصد بھی نہیں ہیں۔پر ہندو ویورز کو خوش کرنے کے لیے کچھ بھی بول جاتا ہے۔زبان بڑا عامیانہ ہے۔کہیں سے بھی ایک سنجیدہ ٹیچر کی بھاشا نہیں لگتی۔
آپ ان کے کچھ ہی ویڈیوز دیکھ جائیں تو یہ طے کرنا آسان ہوجاۓ گا کہ بھگوا سماج کی واہ واہی کے لیے مسلمان، پاکستان اور اسلامی تعلیمات کو اپنی اسپیچ کے درمیان گھسیٹنا یہ لازمی جانتے ہیں۔کشمیر اشو پر مذاق بناتے ہوئے بول گیا کہ آتنکوادیوں کی گولی جیسے ہی ختم ہوتی ہے “ہماری آرمی انہیں ۷۲ حور کے پاس پہنچا دیتی ہے”۔یہ بڑی خطرناک قسم کی بات ہے۔آپ جانتے ہیں کہ آج کی تاریخ میں ۷۲ حور کی بات اکثر ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے بطور طنز و ملامت سننے کو ملتی ہے۔بلکہ بالی ووڈ اور ٹالی ووڈ کی کئی فلموں میں کسی داڑھی ٹوپی و تسبیح والے کو گولی مارتے ہوئے یہ ڈائلاگ دکھایا گیا ہے کہ جا تجھے ۷۲ حوروں کے پاس بھیج دیتا ہوں۔
ایک ویڈیو کلپ میں انٹرنیشل اشوز پر بولتے ہوئے تحقیرا و استہزاء یہ کہ گیا کہ عمان و لبنان جیسے مسلم ملک خود لڑ بھڑ کر ایک دن ختم ہو جائیں گے۔دنیا کے نقشے سے غائب ہوجائیں گے۔ایک ویڈیو میں “شائنی” کے بارے میں سمجھاتے ہوئے کہتا ہے کہ جیسے آئرلینڈ کے شہری آئرش ہے،فرانس کے شہری فرنچ ،”پاکستان کے شہری آتنکوادی” اسی طرح چائنا کے شہری کو شائنی کہتے ہیں۔اب یہاں سوچیں کہ اسے پاکستان کا نام لینے کی ضرورت کیا تھی؟ اگر لیا ہی تھا تو “پاکستانی” کے بجاۓ “اتنکوادی” کہنے کی ضرورت کیوں آن پڑی؟ دو لفظوں میں بتا دوں کہ یہ اسی ضرورت سے زیادہ سیکولرازم اور گوبر بھکتوں سے سیکھے گیے بھگوا نیشنلزم کا نتیجہ ہے۔جس طرح بھاجپا چناو جیتنے کے لیے پاکستان ،بنگلہ دیش اور مسلمان کا راگ چھیڑ کر ماحول بناتی ہے ٹھیک وہی چال یہ خان سر بھی چلتے ہیں۔اس سے خان سر کو دو بڑے فائدے ہیں ایک تو یہ کہ ہندو سماج اس سے خوش ہوجاتا ہے۔دوسرا یہ کہ اس کے فالوورز کی تعداد بڑھنے سے سوشل میڈیا سے کمائی بھی خوب ہورہی ہے۔خان سے جڑی ایسی درجنوں اسلام مخالف باتیں ہیں ہم چھوڑ رہے ہیں یہاں صرف اشارہ مقصود ہے۔کہانی سنانا نہیں۔
لمحۂ فکریہ
آنند سر سیکولر ہیں مگر اپنے دھرم سے ایک انچ بھی ہٹے نہیں اور نہ کبھی اپنی دھارمک آستھاؤں پر کوئی کمینٹ کیا۔بڑے سلجھے ہوۓ سنجیدہ طریقے سے اپنے شاگردوں کو ایڈریس کرتے ہیں لایعنی و غیر ضروری باتوں میں نہیں رہتے۔مال بنانے کی بھوک نہیں ہے ورنہ یہ بھی اسی طرح کی ٹرک چلتے۔
اور خان سر کے بھاشنوں سے لگتا ہے کہ اسے اسلام سے کوئی سروکار نہیں۔وہ دھرم کی تعریف میں کہتا ہے کہ دھرم ایک پرورش کا نام ہے مسلم کے پاس پرورش ہوئی تو مسلمان، ہندو کے پاس ہوئی تو ہندو۔جب کہ یہ بالکل ہی لغو بات ہے۔
ان سے خطرہ یہ ہے آپ کا لڑکا جو دین سے بالکل ناواقف ہے اگر ان سے متأثر ہیں تو آپ کو اپنے گھر میں لادینیت کا یا سیکولر دھرم کا ایک الگ کمرہ پہلے ہی بک کرا لینا ہوگا۔کیوں کہ کل وہی بچہ آپ کے دینی معمولات پر کمینٹ مارے گا پھبتی کسے گا اور آپ کچھ نہیں کر پائیں گے۔میں فکرمند ہوں کہ آج کئی ملین طلبہ ان سے کوچنگ لیتے ہیں۔انہیں یو ٹیوب پر سنتے ہیں اگر اس کی آدھی تعداد نے بھی ان کے افکار و نظریات قبول کر لیے تو بڑے شارٹ کٹ طریقے سے ملحدانہ نظریات اور سیکیولر خیالات ہمارے گھروں کے لیے بھی مسئلہ بن جائیں گے۔اگر مستقبل میں عارف محمد خان،طارق فتح یا وسیم رضوی کا کردار پلے کرے تو ہمیں تعجب نہیں ہونا چاہیے۔کیوں کہ ان کی تربیت ہی اسی دین بیزار نظریے کی پابند ہے۔اے کاش اس خان سر میں مسلمانی بھی ہوتی،جیسے آنند سر میں ہندوتو ہے!