جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتقریب جلتے ہوئے دل کے اپنادل کردے

قریب جلتے ہوئے دل کے اپنادل کردے

قریب جلتے ہوئے دل کے اپنا دل کردے  !

از: محمد ندیم الدین قاسمی

مدرس ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد

اس میں شک نہیں کہ "صحبت” سے انسانی زندگی پر مثبت ومنفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، انسان کے عقائد و اعمال ،افکار ونظریات، سیرت وکردار، اخلاق وگفتار،اس سے ضرور متأثر ہوتے ہیں،اور حقیقت بھی ہے کہ  بروں کی ہم نشینی نے جہاں کئی خدا پرستوں کو راہِ حق سے بھٹکادیا ، تو وہیں اہلِ دل واہل صدق کی  نگاہِ  فیض نے  مِسِ خام کو کُندن بنادیا ،قتل وغارت گری کے خوگر اورانسانیت کے دشمن ،امن کے سفیر اور حق کے پرستار بن گئے ، یہ صحبت ہی کا کرشمہ تھا کہ نبی کریم ﷺ کی فیضِ تربیت نے حضراتِ صحابہؓ کرام کو آسمانِ ہدایت کا درخشندہ ستارا بنادیا:

جمال ہم نشیں درمن اثر کرد

وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم۔

اسی لئے قرآن وحدیث میں اہل صدق وتقوی کی ہم نشینی اختیار کرنے کی  تاکید آئی ہے۔

*صحبتِ اہلُ اللہ کی اہمیت :*

حدیث پاک میں ہے:’’وَخَالِطُوْا الْحُکَمَاء۔‘‘ (الجامع الصغیر،حدیث: ۳۵۷۷)

 ترجمہ:’’ حکماء سے اختلاط یعنی ملنا جلنا رکھو۔‘‘

 حکیم الأمت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ  ’’التشرف في معرفۃ أحادیث تصوف‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’ اس سے مراد "اہل اللہ” ہیں۔‘‘

ایک حدیث میں آتا ہے:

’’إن رجلا خرج من بیتہ زائرًا الخ۔‘‘      (مشکاۃ المصایح ،کتاب الادب ، باب الحب فی اللہ)

ترجمہ :’’جب کوئی اللہ کے لیے کسی سے ملنے جاتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کے ساتھ چلتے ہیں۔‘‘

اور اس حدیث میں آگے ہے کہ وہ دعاء کرتے ہیں:

 ’’رَبَّنَا إِنَّہٗ وَصَلَ فِیْکَ فَصِلْہُ۔‘‘

’’اے ہمارے رب! یہ آپ کے لیے اس (اللہ والے، بزرگ) سے مل رہا ہے، آپ اس کو اپنے سے ملائیں (یعنی اپنا قرب دے کر اپنا بنالیں)۔‘‘

مفسر کبیر سیّد محمود آلوسیؒ نے اپنی مایۂ ناز تفسیر’’روح المعانی‘‘ میں یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَ کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ کی  تفسیر  میں یہ فرمایا ہے کہ خَالِطُوْھُمْ لِتَکُوْنُوْا مِثْلَہُمْ(روح المعانی ۱۱/۵۶) یعنی اللہ والوں کے پاس اتنا رہو کہ تم بھی اُن جیسے بن جاؤ۔

مولانا ظفر احمد عثمانیؒ نے جامعہ اشرفیہ لاہور میں ختم ِ’’بخاری شریف‘‘ کے موقع پر فرمایاکہ اے طلبائے کرام ! جاؤ کچھ دن کسی صاحبِ نسبت ، صاحبِ تقویٰ کی صحبت میں رہ لو ؛ تاکہ ان کے صدقے میں تم بھی متقی بن جاؤ۔ پھر یہ شعر پڑھا:

دردِ دل نے اور سب دردوں کا درماں کر دیا

دل کو روشن کردیا آنکھوں کو بینا کردیا(صحبت اہل اللہ کے فوائد ۱۴۱)

*صحبت اہل اللہ کی وجوہات:*

طبیب الأمت حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحبؒ نے اس کی چار وجوہات بیان کی ہیں جو یقینا پڑھنے کے قابل ہیں،اہل اللہ کی صحبتِ بابرکت سے چار وجہوں سے فیض حاصل ہوتا ہے:

(۱) پہلی وجہ نقل ہے، یعنی انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے نقّال واقع ہوا ہے، جب اہل اللہ کی صحبت میں رہے گا اور شب وروز ان کے طریقہٴ مناجات، ان کے طریقہٴ فریاد، ان کے آداب واخلاق اور خدا کے حضور ان کے رونے اور گڑگڑانے اور نالہٴ نیم شبی کو دیکھے گا تو ممکن نہیں کہ  ان صفاتِ عالیہ کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش نہ کرے۔

(۲) دوسری وجہ صحبت کی عام برکت ہے۔ اگر کوئی اہل اللہ کی صحبت میں بغیر کسی خاص ذہن وفکر کے آئے اور کوئی غرض بھی ہو جب بھی وہ اس کی برکت محسوس کرے گا، اور آہستہ آہستہ ان کی مقناطیسی شخصیت اپنی طرف کھینچتی رہے گی۔

(۳) تیسری وجہ معرفت ہے۔ یعنی ان کی صحبت سے اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے،نفس و شیطان سے مقابلہ کرتے ہوئے اسے کس طرح مغلوب کیا جائے؟ ان کی صحبت سے اس کا فن آتا ہے، نفسانی اور شیطانی مکروفریب سے ایک انسان خوب واقف ہوجاتا اور ان سے بچنے کی تدبیروں سے اچھی طرح آگاہ ہوجاتا ہے۔

(۴) چوتھی وجہ دعا ہے، یعنی یہ جہاں ساری اُمت کے لیے دعا کرتے ہیں،تو وہاں خصوصیت کے ساتھ اپنے متعلقین اور مریدوں کے لیے بھی دعا کرتے ہیں،بارگاہِ الٰہی میں ان کی مخلصانہ دعا بہرحال قبولیت کی تاثیر رکھتی ہے۔

ان چار وجوہ کے علاوہ مولانا رومیؒ ایک اور وجہ بیان کرتے ہیں کہ دلوں میں سے دلوں میں خفیہ راستے ہوتے ہیں، غیرمرئی طور پر اللہ والوں کے دلوں کی ” ایمانی طاقت” ان کے ہم نشینوں پر اثر کرتی ہے،اور ان کے طاقتور یقین کا نور ان کے جلیسوں کے ضعیف اور کمزور یقین کو توانائی بخشتا اور نورانی بناتا رہتا ہے۔(باتیں ان کی یادرہیں گی صفحہ ۱۱۴)

*صحبت اہل اللہ کے فوائد وثمرات:*

اہل اللہ کی صحبت کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ان سے تعلق رکھنے والا گناہ پر قائم نہیں رہتا،توفیقِ توبہ مل ہی جاتی ہے،شقاوت ،سعادت سے تبدیل ہوجاتی ہے،

’’بخاری شریف‘‘ میں ہے: ھُمُ الْجُلَسَاءُ لَا یَشْقٰی جَلِیْسُھُمْ الخ(صحیح البخاری ۲/۹۴۸)(یعنی اہل اللہ ایسے مقبولانِ حق ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی محروم اور شقی نہیں رہ سکتا)علامہ حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ اپنی مشہور شرح’’ فتح الباری‘‘ میں رقم طراز ہیں:

 اِنَّ جَلِیْسَہُمْ یَنْدَرِجُ مَعَہُمْ فِیْ جَمِیْعِ مَا یَتَفَضَّلُ اللہُ بِہٖ عَلَیْہِمْ اِکْرَامًا لَہُمْ(فتح الباری ۲۱۲/۲)

یعنی اہل اللہ کی صحبت میں بیٹھنے والا ان ہی کی فہرست میں درج ہوجاتا ہے،ان تمام نعمتوں میں جواللہ تعالیٰ اہل اللہ کو عطا فرماتا ہے ۔

حضرت تھانویؒ فرماتے ہیں کہ ایک صاحبِ نسبت بزرگ تھے، حالتِ جذب میں اللہ کے حضور میں مراقبہ میں بیٹھے تھے، اچانک آنکھ کھلی ،ایک کتا گزر رہا تھا اس پر نگاہ پڑگئی، فرمایا کہ جہاں جہاں وہ کتا جاتا تھا سب کتے اس کے سامنے ادب سے بیٹھ جاتے تھے، پھر ہنس کر فرمایا کہ شیخ الکِلاب ہوگیا ظالم! تو جب اللہ والوں کی نظر کاجانوروں پر یہ اثر ہے تو میرے دوستو ! کیا کہوں کہ انسانوں پر ان کی نگاہ ، کیااثر کرتی ہوگی ۔( صحبت اہل اللہ کے فوائد،ص۳۲)

مولانا رومیؒ فرماتے ہیں کہ میاں! بغیر اللہ کادیوانہ بنے کام نہیں بنتا؛لیکن بس کسی دیوانے سے پالا پڑجائے! اللہ کے عاشقین ہم سے خدا نخواستہ دنیا نہیں چھڑا ئیں گے، ان کی برکت سے دنیا ہاتھ میں ہوگی، جیب میں ہوگی ،بس دل سے نکل جائے گی، دل میں صرف اللہ ہوگا، پھر معلوم ہوگا کہ "ہفت اقلیم”کی سلطنت اور زمین وآسمان سے بڑھ کر دولت ہمیں حاصل ہوئی ہے۔(صحبت اہل اللہ کے فوائد،ص۳۳)

ایک شخص نے کانپور سے حضرت تھانوی کولکھا کہ میں پہلے اوّابین اور تہجد بھی پڑھتا تھا،اب میری تہجد قضا ہونے لگی، اور اوّابین بھی چھوٹنے لگی،اشراق اور چاشت سب چھوٹ گئی،پھر کچھ دن کے بعد لکھا کہ اب تو میری جماعت کی نماز بھی ختم ہوگئی،پھر لکھا کہ اب تو فرض خطرے میں ہے،تو حضرت نے لکھا کہ معلوم ہوتا ہے کہ تم کو صالحین کی صحبت میسر نہیں ہے۔

علامہ آلوسیؒ فرماتے ہیں کہ اللہ والوں کی صحبت کی تاثیر تو دیکھو! کہ کتّا (اصحاب کہف کا )جیسا نجس جانورجس کا لعابِ دہن پیشاب کے برابر ناپاک، اس ناپاک کو بھی اللہ تعالیٰ پاک کر کے جنت میں بھیج دیں گے۔ (روح المعانی ۱۵/۲۴۶)

حضرت مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے جب پوچھاگیا کہ حضرت! آپ تو بہت بڑے عالم ہیں،آپ تو بخاری پڑھاتے ہیں،آپ کیوں گئے تھے حاجی امداد اللہ صاحب کے پاس؟ فرمایا: حاجی صاحب کے پاس میں مسئلہ پوچھنے نہیں گیا تھا؛بلکہ مسئلہ پر عمل کرنے میں جہاں جہاں نفس غفلت اور سستی کرتا تھا اور جہاں نفس ہم پر غالب آجاتا تھا حاجی صاحب کی برکت سے نفس کو مغلوب کرنے گئے تھے، ہم قوتِ عمل لینے کے لیے حاجی صاحب کے پاس گئے تھے، علم لینے نہیں گئے تھے۔( صحبت اہل اللہ کے فوائد،ص۵۵)

حضرت مولانا محمد احمد صاحبؒ علماء کو اللہ والوں سے تعلق پیدا کرنے کی ترغیب  دیتے ہوئے یہ شعر کہتے تھے :

نہ جانے کیا سے کیا ہو جائے میں کچھ کہہ نہیں سکتا

جو دستارِ فضیلت گم ہو دستارِ محبت میں۔

*ایک شیطانی دھوکہ*

یہ کہنا کہ اب اس زمانہ میں اللہ والے کہاں "مسلمانی در کتاب و مسلمان در گور” تو یہ محض شیطانی دھوکہ ہے ،حضرت حکیم الامت فرماتے ہیں کہ جس کی صحبت میں دس آدمی بیٹھتے ہوں ،اگر ۵ یا ۶ آدمی بھی نیک بن گئے ہوں تو سمجھ لو کہ وہ اللہ والا ہے(باتیں ان کی یاد رہیں گی ص ۱۱۶)

ایک اہم نصیحت :

حضرت مولانا حکیم محمداختر صاحبؒ نے ایک موقع پر فرمایا:

”آج ہمارا حال مختلف ہے، اللہ والوں کی مجلس سے ہم بھاگتے ہیں، ہم جس ماحول میں رہتے ہیں وہ گناہ وعصیان کا ماحول ہے، گردوپیش سے عام انسان تو عام انسان ہے، ”ولی“ بھی متاثر ہوجاتا ہے، سنیما اور گانوں کی آواز، دنیا کی فحاشی یہ سب کچھ انسان کو متاثر کرتے ہیں، صحابہ کرامؓ کا عادوثمود کی بستی سے جب گزر ہوا تو حضور  صلى الله عليه وسلم نے منہ چھپالیا اور صحابہ کرامؓ  کو جلدی سے گزرجانے کے لیے فرمایا، دیکھئے ماحول کا اثر، حضور  صلى الله عليه وسلم کی نگاہ میں کس قدر اہمیت کا حامل ہے، اگر اثر کا خوف نہ ہوتا تو جلدی سے کیوں گزرتے؟ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ برے ماحول سے کٹ کر اللہ والوں کی مجلس میں بیٹھو، نورانیت پیداہوگی اور اچھے اثرات پڑیں گے۔ (باتیں ان کی یاد رہیں گی صفحہ ۳۵، از مولانا محمد رضوان القاسمی)

قریب جلتے ہوئے دل کے اپنا دل کردے

یہ آگ لگتی نہیں ہے لگائی جاتی ہے۔

خواجہ صاحب فرماتے ہیں ؎

جوآگ کی خاصیت وہ عشق کی خاصیت

اِک سینہ بہ سینہ ہے اک خانہ بہ خانہ ہے۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے