قربانی کوئی رسم نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت ہے!

120

از قلم : مجاہد عالم ندوی

قربانی کا لفظ قربان سے ماخوذ ہے ، عربی میں قربان اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعے اللّٰہ تعالٰی کا قرب حاصل کیا جائے ، قربانی شعائر اسلام میں سے ہے ، یہ عظیم عبادت کے ساتھ تقرب الٰہی کا بہت بڑا ذریعہ بھی ہے ۔
قربانی مذہب اسلام کا ایک ایسا عظیم الشان شعار ہے جسے رہتی دُنیا تک فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے ، چونکہ قربانی ایک اہم دینی فریضہ ہے ، جو ہر صاحب استطاعت مسلمانوں پر ضروری ہے ، قربانی محبت الٰہی و عشق خداوندی کا مظہر ہے ، اور قلب و روح کی پاکیزگی ، دل و دماغ کی تازگی اور اعمال و اخلاق کی طہارت کا ذریعہ ہے ، قربانی کامل اطاعت و فرمانبرداری اور سچی محبت اور وفاداری کی علامت ہے ، قربانی حضرت ابرہیم علیہ السلام کی یادگار ہے ۔
قرآن مجید میں نبیوں کے بہت سارے قصے مذکور ہیں ، ان میں سب سے بہترین اور مؤثر قصہ حضرت ابرہیم علیہ السلام کا ہے ، دین اسلام کی بنیاد توحید پر ہے ، اور انسان کی زندگی میں ایک اللّٰہ کی عبادت اور نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اتباع و پیروی نہیں تو اس کے سارے اعمال بے سود ہیں ، اللّٰہ تعالٰی نے حضرت ابرہیم علیہ السلام کو توحید کے باب میں امامت کا درجہ عطا کیا تھا ، اور یہ مقام انھیں یوں ہی نہیں ملا بلکہ اس کے لیے انھیں مختلف قسم کی آزمائشوں سے گزرنا پڑا ، اوامر کی بجاآوری اور نواہی سے اجتناب کیا ۔

آپ نے دین حق کی تبلیغ اور نشر و اشاعت میں ہر قسم کی تکلیفیں برداشت کیں ، اور ہر طرح کی قربانیاں پیش کی ہیں ، حق کی راہ میں آپ نے اپنے ماں باپ ، دوست و احباب ، اعزہ و اقارب سے ناطہ توڑا ، اور گھر باڑ چھوڑ کر خدائ کا دعویٰ کرنے والے وقت ظالم بادشاہ نمرود کے سامنے بڑی حکمت و دانائی کے ساتھ توحید خداوندی کی دعوت پیش کی ، اور
ان کے اعتراضات کا دنداں شکن جواب دے کر انھیں لاجواب کیا ، نار نمرود میں خندہ پیشانی کے ساتھ داخل ہوئے ، وطن سے ہجرت کو نہایت حوصلے کے ساتھ قبول کیا ، بیوی اور بچے کو وادی ذی زرع میں رب کے حوالے کیا ۔
حضرت ابرہیم علیہ السلام کو خدا کی طرف سے خواب دکھلایا گیا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں ، انہوں نے اس خواب کا تذکرہ اپنے بیٹے سے کیا ، بیٹے نے سر اطاعت خم کرتے ہوئے جواب دیا ، ابا جان! آپ کو جو حکم ملا ہے ، وہ آپ پورا کریں ، انشاء اللّٰہ آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے ، حضرت ابرہیم علیہ السلام نے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیا ، لیکن خدا کو بیٹے کی قربانی مقصود نہ تھی ، صرف حضرت ابرہیم علیہ السلام کی محبت کا امتحان مقصود تھا

چنانچہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جنت سے بھیجا ہوا جانور ذبح کرنے کا حکم ہوا ، حضرت ابرہیم علیہ السلام کے اس عمل کو خدا کی بارگاہ میں وہ مقبولیت حاصل ہوئی کہ قیامت تک تمام اہل ایمان کے لیے وہ اسوہ قرار دے دیا گیا ، اور انھیں اس بات کا حکم دیا گیا کہ وہ بھی جانور کی قربانی کی شکل میں اپنے خدا کے حضور اپنی خدا پرستی اور سچی محبت و اطاعت کا پرخلوص نذرانہ پیش کریں ، اور اتباع سنت و شریعت کے ذریعہ اپنی عبودیت و بندگی کا اظہار کریں ، اور خدا کی محبت میں اپنی جان و مال آل اولاد سب کچھ قربان کر دینے کا حوصلہ رکھیں ، کیونکہ ہمارا سب کچھ اسی کا دیا ہوا ہے ۔
قربانی کا یہ عمل ہمیں پیغام دیتا ہے کہ ہم اپنی خواہشات و مرضیات کو اللّٰہ تعالٰی کی مرضی پر قربان کر دیں ، اپنے آپ کو اس کے احکام کا پابند اور اس کے نظام پر عمل کا خوگر بنائیں ، اور اپنی عبادت کو اخلاص و للہیت اور خشوع و خضوع کے ساتھ انجام دیں ، اور اللّٰہ تعالٰی کے اس حکم کو اپنے سامنے رکھیں ، جس میں کہا گیا ہے کہ ” آپ کہ دیجیے کہ میری نماز ، میری قربانی ، میری زندگی ، میری موت سب اللّٰہ تعالٰی کے لیے ہے ، جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے “۔
حضرت زید بن ارقم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نے دریافت کیا کہ یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یہ قربانی کیا ہے ؟ فرمایا : تمہارے باپ حضرت ابرہیم علیہ السلام کا طریقہ ( سنت ) ہے ، صحابہ نے عرض کیا کہ : پھر اس میں ہمارے لیے کیا ثواب ملے گا ؟ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : جانور کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی ، صحابہ نے عرض کیا کہ ( دنبہ ، وغیرہ اگر ذبح کریں تو ان کی ) اون ( میں کیا ثواب ہے ؟ ) آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : اون کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ” ۔ ( ابن ماجہ )
قربانی پر یہ بے پایاں اجر و ثواب رحمت خداوندی و انعام الٰہی کے سوا اور کیا ہے ، قربانی کے بدن پر بےشمار بال ہوتے ہیں ، چنانچہ قربانی کے بدلہ ملنے والی نیکیاں بھی بےشمار ہوتی ہیں ۔

قرآن مجید میں قربانی کے مقصد کو واضح کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ” خدا تک نہ قربانی کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ہی خون اس تک صرف تمہارا تقوی پہنچتا ہے ” ، قربانی کا اصل مقصد تقویٰ ہے ، اور تقویٰ کی بنیاد خدا کی سچی محبت و اطاعت اور کامل اتباع سنت و شریعت ہے ، اگر ہم قربانی کا یہ عمل اللّٰہ تعالٰی کا حکم سمجھ کر اور آنحضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہوئے پورے خلوص نیت و وفاداری کے ساتھ کریں گے ، اور اس میں کسی قسم کی ریاکاری ، شہرت و ناموری کا شائبہ بھی نہ ہوگا تو یہ قربانی مقبول بارگاہ ہوگی ، اور اگر فخر و مباہات ، نام و نمود یا کسی اور دنیوی غرض کے لیے کی تو حقیقت میں یہ قربانی نہیں ہوگی ، کیونکہ ہمارا وہی عمل قبول ہوتا ہے جو خالص اللّٰہ تعالٰی کیلئے ہو ۔
قربانی کی اہمیت و عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ” عید الاضحی کے دن سب سے زیادہ زیادہ محبوب عمل قربانی ہے ، اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی خدا کی بارگاہ میں مقبول ہو جاتا ہے ” ۔
شریعت نے ہر صاحب نصاب پر قربانی لازم کی ہے ، اگر صاحب نصاب قربانی نہ کرے تو گنہگار ہوگا ، حدیث میں اس کے متعلق بڑی سخت بات ارشاد فرمائی گئی ہے ” جو وسعت کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے ” ۔
اس سے با آسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ قربانی کتنی اہم اور ضروری ہے ، قربانی کے سلسلہ میں یہ بھی ضروری ہے کہ قربانی کے جانوروں میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ان کی عمریں پوری ہوں ، وہ عیب دار نہ ہوں ، بہت دبلے ، بہت کمزور ، مریل نہ ہوں ، تندرست و توانا اور فربہ ہوں ، ذبح کے بعد ان کے باقیات کو احتیاط سے دفن کر دیا جائے ، کسی طرح کی بےحرمتی نہ ہو ، کیونکہ قربانی ایک عبادت ہے ، اور عبادت کے ضروری ہے کہ وہ اپنے تمام شرائط و آداب کے ساتھ ہو ۔
قربانی ہمیں توحید پرستی کا درس دیتی ہے ، اور شرک سے بیزاری کا اعلان کرتی ہے ، ایک بندہ مومن کے لیے سب سے بڑی چیز عقیدہ توحید پر قائم رہنا ہے اور خدا کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا ہے ، مومن اپنے ہر عمل سے خدا کی محبت اور غیر اللّٰہ سے برات کا اعلان کرتا ہے ، اور شرک و بدعات و غیر اسلامی رسومات و خرافات سے کلی طور پر اجتناب کرتا ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ سنت ابراہیمی ہم سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنے انفرادی و اجتماعی طرزِ زندگی پر نظر ثانی کریں ، اپنی خواہشات اور جھوٹے نفسانی تقاضوں کی بجائے اللّٰہ تعالٰی کی رضا اور ملت کے اجتماعی مفاد کو اپنے فیصلوں کا معیار بنائیں ، اور دین اسلام اور ملت اسلامیہ کی سربلندی اور مفاد کی خاطر کسی بھی قربانی سے گریز نہ کریں ۔

اللّٰہ رب العزت کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کی معافی ، دین اسلام پر قائم و دائم رہنے اور دین متین پر سو فیصد عمل پیرا ہونے اور حضرت ابرہیم علیہ السلام کی عظیم سنت کو صحیح معنوں میں زندہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں ۔

آمین ثم آمین یارب العالمین.