“قربانی کا بکرا ”  (طنز و مزاح ) ۔

67
“قربانی کا بکرا ”  (طنز و مزاح )
۔______________
از قلم :_ شیبا  کوثر ( برہ بترہ  آ ر ہ ،بہار ) انڈیا ۔
۔______________________________________
صاحب ! یہ قربانی بھی بڑا عجیب فرضیہ  ہے اس میں صرف جانوروں کی ہی قربانی نہیں دی جاتی بلکہ اس کے ساتھ کئی دیگر قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں ۔پہلے دیجئے اپنی خواہشات اور تمناؤں کی قربانی ،پھر اپنی اپنی عزت و وقار کی قربانی ،پھر رو پیو ں کی قربانی اور پھر کہیں آخر میں جا کر جانور کی قربانی کی نوبت آتی ہے ۔تفصیل یوں سمجھئے کہ مثلاً آپ نے قربانی کرنے کا ارادہ کیا تو پہلے آپ اپنی ضروریات اور دوسری خوا ہشات کا گلا گھونٹ کر اتنا پیسہ بچا ئے کہ جس سے آپ ایک جانور خرید سکیں ۔اب آپ مار کٹ میں پہنچے ،آپ نے اس کی قیمت پوچھے  دمنبہ پینتالیس ہزار روپے ، بکرا بیس ہزار اور بھینس و   گائے  کی قیمت  ساٹھ سے ستر ہزار  کی قیمت میں دستیاب ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ اگر آپ نے غلطی سے دام کم کروا دئے تو بس پھر کچھ نہ پوچھیئے ایسے ایسے فقرات آپ کے قو ت سما عت سے ٹکرا ئیں گے کہ ساری عزت و شان  خاک میں مل جائیں گی ۔
“اماں یار مرغ کی قربانی کر لو ” کوئی کہے گا “لے بھائی جمن !یہ بھائی میاں شیر ببر  جیسے بکرے کا دے رہے ہیں دس ہزار روپے ___؟” مت دیجئو بے ” جمن خاں دور ہی سے ہانک لگائیں گے ۔
لیجئے خرید لیجئے بکرا اور اگر آپ نے اس منہ مانگے دام اس کے ہاتھ پر رکھ دئے تو بکرا آپ کو بقول  مالک کے کوڑیوں کے  مول ملا اور اب آپ کیجئے بکر ے کی قربانی اِلا ما شا ء اللّه ۔
ہاں تو صاحب قصّہ کچھ یوں تھا ہمارے پڑوس میں اصغر صاحب نے کیبل ڈش  قسطوں پر خریدا ہے اور ابھی کئی قسطیں باقی ہیں (کسی کو بتائے گا نہیں )  . اور ہمارے اصغر صاحب کے اس کیبل ڈش کی وجہ کر محلے میں ان کی بہت اچھی پوزیشن ہے بلکہ کچھ لوگ تو انہیں قار و ن کے طبقہ سے سمجھنے لگے ہیں ۔
“ذی الحجہ کا چاند نظر آیا “۔   شامت ا عمال کہ انہوں نے اپنی اس شاخ کو قائم رکھنے کیلئے سوچا کہ اگر میں نے قربانی نہیں کی تو اہل محلہ کی نظر وں میں انکا جو مقام ہے وہ گھٹ جائے گا ۔لہذا کیوں نہ اس سال بھی قربانی کر ہی دیں ۔بہر حال عید ہو یا پھر بقر عید ہو بڑو ں سے زیادہ اس کی خوشی بچوں کو ہوتی ہے ۔بچوں کے روز کی چیخ و پکار کو سنکر بیچارے اصغر صاحب تنگ آگئے ۔
“اصغر صاحب کا پانچ سالہ  ننھا منا بڑا پیارا سا  بچہ نومی اپنی توتلی زبان سے کہتا ہے کہ پاپا پاپا ہمارے پڑوس میں قریب سبھی کے یہاں بکرا آگیا ہے اور میرا دوست منو ہے نا پاپا اس کے ڈ یڈ ی بھی  بکر ا منڈی  سے بہت موٹا تگڑ ا بکرا لائے ہیں   اور پھر وہ بڑی معصومیت سے کہتا ہے میرے اچھے پاپا آپ کب لائیں گے خرید کر بکرا ۔۔۔۔بولو نا پاپا ۔۔۔۔؟”
“اور بیچارے اصغر صاحب بڑی مشکل سے اپنے بچوں کو دلاسہ دیتے ہیں کہ وہ آج ایسا بکرا لائیں گے کہ دیکھنے والے دیکھتے رہ جائیں گے ؟” وہ اپنی بیگم کو آواز پر آواز دیتے ہیں ” اجی  سنتی ہو  پیاری بیگم !”
بیگم دور سے ہی ہانک لگاتی ہیں ۔۔۔۔۔ ہاں میں سن رہی ہوں جو کہنا ہے وہیں سے آپ کہو “۔
“اصغر صاحب اپنی بیگم سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ میں منڈی سے بکرا لانے جا رہا ہوں تم کھو نٹی وغیرہ کا انتظام کر کے رکھو گی “۔   تبھی بیگم صاحبہ  بڑ ے تنک دار پٹا خے سے بولتی ہیں “آئے ہا ئے پہلے تم بکرا تو لے کر آ جاؤ  پھر کھو نٹی کا انتظام کوئی مشکل کام نہیں ہے”۔ اور وہ اپنے گھر سے نکل کر سیدھے اپنے دوست انور حیات کے گھر گئے اور اسے بتایا کہ “بھئ میرے پاس کل دو  ہزار روپے ہیں تم مجھے ایک اچھا سا بکرا دلا دو یار ” اتنا سننا تھا کہ انور صاحب لگے قہقہ لگانے ۔
“ابے یار ہم چیخ رہے ہیں کہ ا و بھائی عقل مند ذرا ہماری بھی سن ۔ہم نے ایسا کون سا لطیفہ سنا دیا ہے کہ جو تو اپنے کوئلے سے منجھے دانتوں کی نمائش کر رہا ہے “مگر ان کے قہقہے تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لیتے ۔آخر جھنجھلا کر ہم نے ایک ہاتھ ان کے بالوں پر مارا ۔ہاتھ مارنا تھا کہ ان کی ہنسی میں بریک لگ گیا ۔انور کو اپنے بالوں سے بڑی محبت تھی اور جب وہ اپنے بال کو سنوار نے بیٹھتے ہیں تو آدھے گھنٹے سے پہلے فرصت نہیں پاتے ۔انہوں نے غصے سے میرا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا ۔۔۔۔”ابے سالے دو ہزار روپے میں تو تم بقول شخصے بکر ے کی دم بھی نہیں خرید سکوگے پھر تم کوئی مرغ خرید لو “۔
“اور نہیں تو کیا چار ہزار روپے میں بکرا دلوا ئے گا “۔اصغر صاحب نے طنز یہ انداز میں انور سے پوچھا “اے تیرے منہ میں خاک ،خدا وند  نہ کرے کہ چار ہزار کا بکرا ہو یہ کیا منہ سے نکال رہا ہے۔پاجی انور نے بڑی بوڑھیوں کی طرح ڈانٹ کٹکٹا ئے،،۔
آخر بڑی دیر بعد ہم دونوں نے یہ طئے کیا کہ محلے کے سات افراد ملکر ایک بھنیس خرید لیں اور اس کی قربانی کر دیں ۔اس طرح سستا بھی پڑے گا اور قربانی کا فر یضہ بھی ادا ہو جائے گا اور پھر ہم لوگوں نے مل کر اپنی گلی کے تمام لوگوں کو جمع کرلیا اور ان سے مشورہ کیا ۔ہمارے ساتھ جو افراد شامل ہوئے ان میں ایک ڈاکٹر صاحب ،دوسرے ایک مولانا میاں ،تیسر ے صاحب ایک انتہائی کارو باری اور چمڑی جائے پر ڈمڑی نہ جائے والے ،چوتھے صاحب ایک سیٹھ جی تھے جو بقول شخصے پیسے کو نہیں دیکھتے تھے بلکہ آنکھیں بند کر کے تمنا پوری کرنے والوں میں سے تھے ،پانچو یں ہمارے ایک دوست سعید صاحب تھے جن کا دعوی تھا کہ اچھے قسم کے جانوروں کی پہچان ان سے زیادہ کسی کو نہیں ہے ،چھٹے ہم اور ساتواں انور ۔ شام کے وقت ہم سات افراد پر مشتمل یہ کافلہ جب منڈی پہنچا تو وہاں بڑی چہل پہل تھی ۔شور اتنا تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی ۔مجمع سے اٹھتی ہوئی مختلف  آواز یں اور قریب کے ہوٹل کے ریکا رڈ نگ کچھ عجیب سے انداز میں گد مد ہو کر کانوں سے ٹکرا رہی تھیں ۔” لے لو بابو جی ،پیسے کو مت دیکھو ،پیسہ نہیں تو ادھار کر لے ۔۔۔۔ہو پیار کر لے۔،، بابو جی دو  دانت کے ،، اجی آپ  ڈر ئے نہیں یہ بھنیس مارے گی نہیں “ڈر نہ محبّت کر لے ۔۔۔۔۔ڈر نہ !”  ہم بھی ایک بھینس والے کے پاس جا کر کھڑے ہوگئے ۔ “او بھائی  کتنی قیمت ہے اس بھینس کی ؟”انور بولے ۔
چالیس ہزار جی ” جواب ملا ۔
“لینے دینے والی بات کرو بھائی کیا لوگے ؟” بابا کی طرف سے آواز آئ ،ایک سو روپے دے دو ہو ایک سو روپے دے دو ،،  ہا ئے بس ایک سو روپیہ ؟مذاق تو نہیں کر رہے ہیں “میں نے حیرت سے کہا ۔ “مذاق تو آپ کر رہے ہو جی اس نے اس قدر ناراضگی سے کہا اور بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ وہ تو کسی فلمی گانے کے بول تھے جو اس کے جواب کے بجائے ہمارے کانوں سے ٹکرا ئے تھے ۔ “دیکھو میاں  ہم اس تیس ہزار روپے دے دیتے ہیں کیا خیال ہے ؟”ڈاکٹر صاحب بولے ،اس سے پہلے کہ وہ بیچارہ اپنا خیال ظاہر کرے ۔۔۔مولانا چلّا ئے ۔۔۔۔”اماں یار مت خرید نا اس کا کان ذرا کترا ہوا ہے  شریعت کے رو سے اس کی قربانی جائز نہیں ہے “اور یہ کہتے ہوئے مولانا ہم سب کو گھسیٹ کر دوسری طرف لے گئے اور اس غریب کو یہ موقع بھی نہ مل سکا کہ وہ مولانا کو سمجھاتا کہ “قبلہ کان تو نشانی کے طور پر کٹوا یا گیا ہے اور اس کی قربانی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا “۔ یہ دیکھئے اس سے اچھی بھینس “۔مولانا ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے ۔
“نہ ۔۔۔نہ ڈاکٹر صاحب بولے ۔۔۔میاں یہ بھینس کچھ غیر صحت مند ہے ،دیکھتے ہیں یہ اپنی دم کو کتنی تیز ی سے گردش دے رہی ہے جس طرح ایک صحت مند آدمی کا دل ایک منٹ میں ستر بار دھڑکتا ہے ،اسی طرح بھینس کی دم ہلا نے کی رفتار بھی مقر ر ہے اور یہ بھینس مقر ر ہ رفتار سے زیادہ اسپیڈ سے دم ہلا رہی ہے اور پھر یہ بھی دیکھو کہ ایک ٹک سے اپنے سامنے پڑی  ہوئی  گھاس کو گھو ر رہی ہے ۔ڈاکٹر ی نقطہ نظر سے اسے کم از کم اپنی پلکیں تو جھپکا نا چاہئے کیوں کہ ایک صحت مند آدمی کی قوت اجازت کا بہت کچھ انحصار نظام دماغ پر ہوتا ہے اور دماغ کا تعلق معدے سے ہوتا ہے “۔
اور اصغر صاحب ڈاکٹر صاحب کو کھینچ کر دوسری طرف لے گئے ۔یہاں انہوں نے جو بھینس دیکھی وہ اچھی خاصی صحت مند تھی ۔اس کا کان بھی کٹا ہوا نہیں تھا اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ وہ خوبصورت بہت تھی اور پھر دام بھی مناسب تھے ،یعنی ا ڑ  تیس  ہزار روپے ۔
“بھئی اگر مجھ سے پوچھو تو بھینس کل خرید یں گے کیوں کہ آج اتوار ہے اور بازار بھی کافی چڑھا ہوا ہے دیکھئے نا کتنی منہگی مہنگی بھینس ہیں ۔اڑتیس ہزار، چالس ہزار، پچاس ہزار، سا ٹھ ہزار سے کم تو کوئی بات ہی نہیں کر رہا ہے “کا رو باری میاں گویا ہوئے ۔
عجیب مصیبت میں جان تھی کوئی بھینس اگر دوسروں کو پسند تھی تو ڈاکٹر صاحب کو وہ بھینس نا پسند تھی کہ وہ دم ہلا تی تھی ۔مولانا کو بھینس اس لئے پسند نہیں آئ کہ اس کا کان کترا ہوا تھا ،میاں کاروباری اس لئے بھینس نہیں خرید رہے تھے کہ آج اتوار تھا اور بازار کافی چڑھا ہوا تھا ۔ہم  اور انور ہو نقوں کی طرح ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے کیونکہ ان لوگوں کے چہروں سے صاف ظاہر تھا کہ آج بھینس نہیں خرید ی جا سکےگی۔آچا نک ہم نے دیکھا کہ سعید صاحب ایک سے بھاگے چلے آرہے تھے انہوں نے دور ہی سے ہانک لگائی ۔۔۔۔”اجی ڈاکٹر صاحب ادھر آئے کیا شاندار بھینس ہے قسم سے مزہ آجا ئے گا ۔ہم سب ان کی بتائی ہوئی سمت میں چل دئے ۔بھینس واقعی بہت شاندار اور فر بہ تھی ہم سعید صاجب کے حسن انتخاب کی داد دئے بغیر نہ رہ سکے ۔”بھائی کیا  دام ہے اس کے “مولانا نے پوچھا ۔۔۔؟ “پیتالس ہزار روپے صاحب اس نے جواب دیا ۔ ” لو میاں ۔تیس ہزار روپے لے لو،اور بھنیس کی رسی ہمیں پکڑا دو “۔سیٹھ جی پہلی مرتبہ گویا ہوئے ۔۔۔۔۔
“نا بھئی نا “ایک زبان  ہو کر بولے “اگر آپ اور اصغر صاحب چاہیں تو خرید لیں ہم اتنی منہگی بھینس نہیں خرید سکتے “۔اب کی اصغر صاحب کو بھی غصہ آگیا انہوں نے کہا جیسی آپ کی مرضی ہو ویسی بھینس خرید لیں اب  مزید  کچھ نہیں بولیں گے “۔ انور صاحب نے انکی تائید کی اور سب پھر ادھر ادھر چھٹکنے لگے لیکن ان میں سے کسی کو بھی بھینس پسند نہیں آئ ۔ہر بار کسی نہ کسی کو کوئی نہ کوئی شکایت ہو جاتی ۔کبھی ڈاکٹر صاحب فرماتے کہ “میاں اس کو تو ڈ کا ریں بہت آرہی ہیں معلوم ہوتا ہے اس کا ہا ضمہ کچھ خراب “۔کبھی مولانا کو شکایت ہوتی کہ اجی اس کے سینگ ہی کھو نپڑی سے ملے ہوئے ہیں اس کیا قر بانی ہوگی “۔   “نا جی نا کوئی سستی بھینس خرید کر مذاق اڑوانا ہے اپنا ۔۔۔۔؟سیٹھ جی فرماتے ۔
غرض ہر بار اسی قسم کے جملے کہے جاتے اور ہر فتوے پر اصغر صاحب اور انور صاحب صبر کے گھونٹ  پی کر رہ جاتے ۔ آخر کار کافی دیر ٹکر یں کھانے کے بعد پھر سعید میاں چلّا ئے ۔۔۔۔”اجی اصغر صاحب ادھر آئے کیا شاندار بکرا ہے قسم سے مزہ آ جائے گا ۔بینس میں حصّہ لینے کا ارادہ ترک کیجئے اب اور زیادہ ٹکریں کھانے کی ہمّت مجھ میں نہیں ہیں “۔سعید صاحب بولے ۔ہم اور انور ان کی بتائی ہوئی سمت چل دئے محض اس لئے کہ کہیں پھر سعید صاحب ناراض نہ ہو جائیں ۔بہر حال کسی بھی قیمت پر بکرا تو لے کر ہی گھر جانا ہے اور پھر میں نے اپنی بیگم اور بچوں سے بکرا لانے کا آج ہی وعدہ جو کر دیا ہے اسے تو ہر حال میں پورا کرنا ہے ۔
بکرا تو واقعی بہت شاندار اور موٹا تازہ تھا ۔”کیا دام ہے بھئی اس کے۔”انور نے پوچھا :   “ساڑھے پانچ ہزار “صاحب اس نے جواب دیا ۔
“لو میاں پانچ ہزار لے لو اور اس بکرے کی رسی ہمیں پکڑا دو “۔    خیر بڑی مشکل سے بکر ے مالک پانچ ہزار پر تیار ہوا ۔اصغر صاحب نے بکر ا کی قیمت ادا کی اور تینوں دوست بکرے کو لے کر ابھی شاہی گلی میں جیسے ہی داخل ہوئے کہ تبھی ایک صاحب نے انہیں ٹوک دیا ۔۔۔۔۔۔”اماں یار ! یہ بکر ی آپ نے کتنی قیمت میں خریدی ہے  ۔”
تبھی اصغر صاحب ،انور صاحب اور سعید صاحب کافی شدید غصے میں بولے ۔۔۔۔”بھائی صاحب لگتا ہے کہ    آپ کی نظر کچھ کمزور ہے دیکھ نہیں رہے ہیں یہ بکر ی نہیں بکرا ہے ” تو وہ صاحب قہقہ لگاتے ہوئے بولے ۔۔۔۔۔”مجھ پر کیوں خفا ہوتے ہو بھئ نیچے کی جانب دیکھئے حضور ۔۔۔خود پتہ چل جائے گا “۔یہ کہ کر وہ صاحب آگے بڑھ گئے ۔
جب ان تینوں  حضرات نے نیچے کی جانب رخ کیا تو دیکھا کہ سچ مچ وہ موٹی تگڑی بڈ ھی کھو سٹ  بکر ی ہی تھی ۔اور پھر وہ تینوں حضرات اس بڈ ھی بکری کو لیکر اس کے مالک کو ڈھو نڈنے نکل پڑے ۔۔۔۔۔ہائے تب تک وہ مالک جا چکا تھا۔۔۔۔۔؟؟
(غیر مطبوعہ )