قربانی کاجانوراچھااورتیارہوناچاہیے

280

قربانی کاجانوراچھااورتیارہوناچاہیے

ایک حاجی صاحب کہ رہے ہیں کہ میں نے ایک شاندار جانور قربانی کی نیت سے خریدلیا ہےجو مجھے بےحدپسند ہے۔کچھ لوگ یہ کہ ریے ہیں کہ اس کی سینگیں نہیں ہیں لہٰذا اس کی قربانی صحیح نہیں ہے۔
دوسرےایک صاحب کا یہ سوال ہے؛ کہ میرےگھر کا پلاہواایک فربہ جانورہے،جس سے مجھے کافی انسیت ہوگئی ہے،میں نےسن رکھا ہے کہ ایسا جانور قربانی کے لئےاجروثواب کے اعتبارسے بہت ہی موزوں ہے۔میں اسےقربان کرناچاہتاہوں ، مجھ سےایک آدمی نے کہاکہ اس کی قربانی درست نہیں ہے۔اس کے منھ میں دانت پورے نہیں ہیں۔
مسئلہ کی روسےحاجی صاحب والے شاندارجانور کی قربانی جائز ہے۔فقہ کی کتاب میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ جس جانورکوپیدائشی طور پرسیینگ نہیں ہے،اس کی قربانی جائز ہے۔سینگ اگر ٹوٹ بھی گئی ہے تواس کی بھی قربانی ہوسکتی ہے،(البحرالرائق:۱۷۶/۸)
جانورکی سینگ اگر جڑ سے اکھڑ گئی ہےاوردماغ تک پہونچ گئی ہےتو ایسے جانورکی قربانی درست نہیں ہے ،فقہ حنفی کی مشہور کتاب شامی میں اس کی تفصیل لکھی ہوئی ہے۔
رہی بات دوسرے صاحب کے فربہ جانور کی ،اس کی بھی قربانی جائز ہے۔دانت اورکان کےتعلق سے یہ بات یاد رکھنے کی ہےکہ جس جانور کےکان اوردانت بالکل نہ ہوں تو اس کی قربانی درست نہیں ہے، اگردوچاردانت نہ ہوں یاایک کان ذرا سایعنی تہائی سے کم کٹ گیا ہوتو قربانی درست ہے۔
صرف یہی دو لوگوں کی طرف سے دوسوالات نہیں ہیں بلکہ قربانی کے جانوروں کے تعلق سے بہت سارے سوالات قربانی سےپہلے جنم لیتے ہیں۔
آج ذوالقعدہ کی ۲۵/تاریخ ہوگئ ہے۔عیدالاضحٰی کی آمد آمد ہے۔قربانی کی تیاری قربانی کے جانور کی خریداری سے شروع ہوتی ہے۔گاؤں دیہات شہر بلکہ ہرگھر کے لئے یہ مسئلہ بڑی اہمیت کاحامل ہے۔
یہ باتیں ہر صاحب ایمان کے علم میں رہنی چاہئے کہ اندھے،کانے،لنگڑے اوردم کٹےجانورکی قربانی درست نہیں ہے، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کہتی ہے۔لنگڑے کا مطلب یہ ہے کہ تین پاؤں چلتا ہے ایک پاؤں زمین پر رکھا نہیں جاتااگررکھتاتوہےلیکن چلتا نہیں ہے تواس کی بھی قربانی درست نہیں ہے۔(فتاوی عالمگیری )
مریل اوردبلےجانورکی قربانی نہیں کرنی چاہئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہےکہ قربانی کا جانور اچھا اورتیار ہونا چاہئے۔مریل اوردبلےکامطلب یہ ہےکہ صرف ہڈی چمڑا رہ گیا ہوبدن پرگوشت نہیں ہو،(فتاوی عالمگیری )
قربانی یہ واجب عمل ہے۔اس کے احکام ومسائل کا علم یہ دین کا بنیادی علم ہے۔اس کاجانناہرصاحب ایمان کے لئے ضروری ہے۔ کسی مسلمان کےلئے خواہ وہ مرد ہے یاعورت اس سے راہ فرار اختیار کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔
اللہ جزائے خیر دے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو اس بات پر، کہ آپ نے عورتوں اور بچیوں کے لئے بالخصوص آسان اردوزبان میں دین کی بنیادی معلومات کو”بہشتی زیور” نامی کتاب میں جمع کردیا ہے۔
مذکورہ کتاب میں قربانی کا جانور کیسا ہونا چاہئے اس پرتفصیل سے مسئلہ وار گفتگو کی گئی ہے۔
ہماری ماوں اور بہنوں کو اس کتاب سے کافی نفع ہوا ہے،آج اس کتاب کوپڑھ کروہ دین کی بنیادی معلومات رکھنے لگی ہیں۔افسوس کے ساتھ یہ کہناپڑھ رہا ہےکہ ہمارے وہ بھائی جو مدارس نہیں جاسکے ہیں، اب وہ بزرگ ہیں،ڈاکٹر ہیں، اور عصری علوم کےماہرہیں ،حتی کہ حاجی ہیں اورنمازی بھی ہیں مگر اس آسان زبان میں لکھی گئی کتاب سے فائدہ نہیں اٹھاپارہے ہیں اور دین کی بنیادی معلومات سے بھی ناواقف ہیں۔باوجوداس کے کہ وہ اردو اچھی بولتے ہیں اور لکھتے ہیں مگر اردوزبان میں لکھی گئی اس کتاب کا مطالعہ نہیں کرتے ہیں۔شاید اس کتاب کو بھی عورتوں کازیور سمجھ رہے ہیں اور کبھی کھول کردیکھنے تک کی زحمت گوارا نہیں کرتے ہیں۔میں نےمذکورہ بالا دونوں مسائل کو حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ کی کتاب بہشتی زیور میں دیکھا ہےاورمذکورہ بالادونوں حضرات سےپیش آمدہ مسئلے کواس کتاب میں دیکھنے کی گزارش بھی کی ہے،امید کہ وہ دونوں اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھیں گے اوربرملایہی کہیں گے کہ “شنیدہ کےبود ماننددیدہ”
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
رابطہ، 9973722710