قربانی ضروری ہے ،، ریاکاری نہیں!!  تحریر: جاوید اختر بھارتی

45
قربانی ضروری ہے ،، ریاکاری نہیں!!
تحریر: جاوید اختر بھارتی
یوں تو ہر قوم اور ہر امت میں ایک مخصوص ایام میں قربانی متعین کی گئی ہے لیکن سب سے مشہور قربانی امت محمدیہ میں جو ساڑھے چودہ سو سال پہلے سے چلی آ رہی ہے اسی کی اصل شناخت ہے اور کیوں نہ ہو جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے اعلان کردیا کہ اے میرے محبوب اب صبحِ قیامت تک تمہارے ہی دین کا ڈنکا بجے گا ہم نے تمہیں جو دعوت و تبلیغ کا کام دیکر دنیا میں بھیجا تو تم نے وہ پورا کردیا اب میرے نزدیک سب سے پسندیدہ دین،، دین اسلام ہے- آپ سے پہلے جتنے بھی انبیاء کرام دنیا میں ہم نے بھیجا سب کی شریعتیں منسوخ اب جسے کامیابی حاصل کرنا ہے تو وہ آپ کی شریعت پر عمل کرے اب آپ کا کلمہ پڑھنے والا ہی راہ نجات پاسکے گا آپ کے اسوۂ حسنہ کو اب ہم نے نمونہ عمل بنادیا ہے اس لئے اب کوئی دوسرا نمونہ لے کر ہمارے پاس کوئی پاور فل، بڑے سے بڑا بھی آئے گا تو ہم اس نمونے کو ریجکٹ کر دیں گے- اب نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، قربانی سمیت دیگر ساری عبادتوں پر آپ کی مہر کا لگنا ضروری ہے کسی دوسرے کی مہر لگی ہوئی عبادت ہرگز قابل قبول نہیں ہوگی بلکہ اس کے منہ پر ماردی جائے گی اسی موقع پر کچھ لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ قربانی تو نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نہیں ہے بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے تو اس پر عمل کیوں؟ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ قربانی کو پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنت نہیں کہا ہے بلکہ واضح طور پر فرمایا ہے وہ بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے کہ قربانی تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے اور اس سنت پر عمل کرنا تم سب کے لئے اور میری امت کے لئے ضروری ہے حضرت آدم علیہ السلام تو بلا تفریق مذہب و ملت پوری انسانیت کے لئے باپ ہیں ان کے بعد کسی نبی کو سب کے لئے باپ نہیں کہا ہے صحابہ کرام کو مخاطب کرکے جن کے بارے میں یہ کہا ہے کہ تمہارے باپ تو وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں کیونکہ جب حضرت ابراہیم کو نار نمرود میں ڈالا گیا تھا تو جبرئیل علیہ السلام نے ابراہیم علیہ السلام سے خواہش پوچھی تھی کہ بتاؤ میں اللہ کی بارگاہ میں پیش کروں گا تو ابراہیم علیہ السلام نے آگ کو ٹھنڈی کرنے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا تھا بلکہ یہ کہا تھا کہ ہاں میری خواہش ہے اے جبرئیل رب کریم سے کہنا کہ تیرے خلیل کی خواہش یہ ہے کہ تو جسے خاتم الانبیاء بناکر دنیا میں بھیجے تو وہ میری خاندان کا ہو،، بس یہی میری خواہش ہے تو جس طرح خاتم الانبیاء پوری امت کے لئے روحانی باپ ہیں، مجازی باپ ہیں تو ان کا شجرہ نسب ابراہیم علیہ السلام سے ہے اسی وجہ سے ابراہیم علیہ السلام کی بلند ترین مقدس خواہش اللہ نے پسند بھی کیا اور پورا بھی کیا اور ابراہیم و حاجرہ علیہم السلام کی اداؤں کو بھی اللہ نے اتنا پسند کیا کہ حج کے ارکان میں شامل کرکے صبحِ قیامت تک کے لئے مقدس و بلند ترین بنا دیا صفا و مروہ کی سعی کرنا ، شیطان کو کنکریاں مارنا یہ ابراہیم و حاجرہ علیہم السلام کی ادا ہی تو ہے جن کو کئے بغیر حج مکمل نہیں ہو سکتا اب وسیم رضوی جیسا بدبخت قربانی کے نام پر جانور کو ذبح کرنے کو گناہ کہے اور دوسری طرف فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ وسعت ہوتے ہوئے قربانی کے ایام میں جو قربانی نہ کرے تو خبردار وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے تو گویا وسیم رضوی عیدگاہ سے بھگایا گیا ہے اب وہ بتائے گا کہ یہ گناہ ہے وہ گناہ ہے ارے حقیقت تو یہ ہے کہ اس کا جینا گناہ ہے اس کی رگوں میں دشمن رسول، دشمن اسلام، دشمن صحابہ اور دشمن مسلمان کا خون دوڑ رہا ہے اور وہ لعنت کا انبار لگا رہا ہے،، اب رہ گئی بات خود ہمارے طور طریقوں کی تو ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کے یہاں گوشت، ہڈیاں، بوٹیاں نہیں پہنچتیں بلکہ نیت پہنچتی ہے، خلوص اور تقویٰ پہنچتا ہے اس لئے نیت صاف ہوناچاہیے قرب خداوندی مقصد ہوناچاہیے نام و نمود، شہرت، پرچار پرسار والی قربانی منہ پر ماردی جائے گی،، یہاں تو عجیب حال ہے ایک دوسرے کا قربانی کا جانور مضبوط اور کمزور ہے تو طنز کسا جاتا ہے مہنگے جانوروں کا خوب پرچار کیا جاتاہے، روزانہ محفل لگاکر اپنی اپنی قربانیوں کی گنتی کرائی جاتی ہے، گھما گھما کر دیکھایا جاتا ہے، خود اپنے جانوروں کی کی قیمت بتا بتاکر داد و تحسین حاصل کرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے،، ایک طرف زید،، کی بیوی کہتی ہے کہ تم اتنا کمزور بکرا لائے ہو،، دیکھو ہمارا پڑوسی بکر،، خوب مہنگا بکرا لایا ہے تمہارا بکرا کمزور ہے اگر تم بھی مہنگا بکرا لاتے تو بکر،، کی طرح میں بھی باہر باندھ تی تم بھی باہر بیٹھے رہتے جو آتا اسے دکھلاتے، قیمت بتاتے تو اسے معلوم ہوتا پھر وہ بھی کسی کو بتاتا تو ہمارا کتنا نام ہوتا زید،، بولتا ہے کہ اپنی زبان بند رکھو کسی کو دکھانے کے لیے قربانی نہیں کی جاتی اللہ کی رضا کے لئے قربانی کی جاتی ہے دکھاوے کی قربانی سے کوئی فائدہ نہیں ہے،، ابھی میاں بیوی میں تکرار ہوہی رہی تھی کہ بکر،، آجاتاہے اور کہتا ہے کہ یار تمہارا جانور بہت ہلکا ہے دیکھو میرا جانور کتنا بڑا ہے، کتنا مضبوط ہے ہر شخص تعریف کرنے کے لئے مجبور ہے آخر ہم دونوں دوست ہیں تو کام ایک جیسا کرنا چاہیے سنتے سنتے پک گیا تو زید کا بیٹا بولتا ہے کہ تمہاری بات الگ ہے تم بڑے آدمی ہو ہمارے سامنے مجبوری ہے ہم اتنا ہی پاؤں پھیلا سکتے ہیں جتنی بڑی ہماری چادر ہے اور دوسری بات کہ شائد تمہیں معلوم نہیں کہ صرف حج کے لیے نہیں بلکہ قربانی کے لیے بھی لین دین کا معاملہ صاف ہوناچاہیے، حساب کتاب آنا پائی چکتا ہوناچاہیے مگر تمہارا تو سارا معاملہ ہی الٹا ہے مزدوروں کی مزدوری روکے ہوئے ہو، حساب کرنے کے بعد بھی جو پیسہ نکلتا ہے وہ بھی نہیں دیتے ہو اور نصف درجن بکرا کی قربانی کرنے جارہے ہو رسول کائنات نے فرمایا ہے کہ مزدور کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو اور تمہارا حال یہ ہے کہ مزدوروں کا خون چوس لینے کے بعد بھی مزدوری ادا نہیں کرتے ہو جب دو سگے بھائیوں کے درمیان دشمنی کی وجہ سے قربانی قبول نہیں ہوسکتی تو مزدوروں کی مزدوری روکنے کی وجہ سے قربانی کیسے قبول ہوسکتی ہے،، خدارا جھوٹ بولنا بند کرئیے تجارت میں جھوٹ بول بول کر تم نے آبادی کی رونق تک ختم کرڈالی خلوص کے ساتھ قربانی کرئیے، نیک نیتی کے ساتھ قربانی کرئیے بہت ہوگیا دکھاوا ایک دوسرے کو نیچا دکھانے سے باز آجائیے حضرات ابراہیم و اسماعیل علیہم السلام کے واقعات کے ایک ایک پہلو پر غور کرئیے اپنے اندر تقویٰ پیدا کیجئے تاکہ ہماری قربانی کامیاب قربانی ہو اس کے لئے دنیا میں نمبر حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ وہ نمبر جسے خدا کا قرب کہا جاتا ہے،، وہ نمبر حاصل کریں اور وہی نمبر نجات کا ذریعہ ہے ورنہ اس کے برعکس نیکی کر دریا میں ڈال،، کے مترادف ہے –