قربانی ایک عظیم حکم الٰہی ہے،جس کی تعمیل ضروری ہے!

41

قربانی ایک عظیم حکم الٰہی ہے،جس کی تعمیل ضروری ہے!

از قلم :انوار الحق قاسمی، نیپالی
قربانی کیا ہے؟ قربانی ایک عظیم حکم خداوندی ہے ،جس کا امتثال ہر مالک نصاب مرد و عورت پر ضروری ہے۔
قربانی نام ہے: مخصوص اوقات: یعنی دسویں ذی الحجہ کی صبح صادق سے جہاں عید الاضحٰی کی نماز ادا نہیں کی جاتی ہو(یعنی دیہات میں) اور جہاں ادا کی جاتی ہو (مثلا شہر میں)وہاں بعد نماز عید قرباں سے لے کر بارہویں ذی الحجہ کے غروب آفتاب سے قبل قبل تک محض رضائے الٰہی کی خاطر جائز جانوروں(یعنی جن جانوروں کی قربانی کرنے کا حکم دیا گیا ہے) کو قربان کرنےکا ،نیز قربانی نام ہے :جد امجد حضرت ابراہیم و اسماعیل ۔علیہماالسلام۔ کے عظیم اور حیرت انگیز کارنامے کو یاد کرنے کا۔
اس تحیر خیز کارنامے کوذرا یاد کیجئے، کہ حضرت ابراہیم۔ علیہ السلام۔ چھیاسی سال کی عمر کو پہنچ چکے تھے اور کافی تمناؤں اور آرزؤں کے بعد اللہ رب العالمین نے انہیں ایک حلیم فرزند بنام حضرت اسماعیل ۔علیہ السلام ۔عطا کیا تھا اور پھر جب وہ عمر کی اس دہلیز پر قدم رکھ چکے تھے، کہ اپنے والد محترم اور والدہ محترمہ کی اعانت و مدد کر سکے ،تو فورا حکم خداوندی ہوا کہ ائے حضرت ابراہیم ۔علیہ السلام ۔ اپنے فرزند ارجمند کو محض میری رضا جوئی کی خاطر ،میری راہ میں قربان کر ڈالو، حکم ربانی کےصادر ہونے میں تاخیر تھی ،اطاعت وامتثال اور انقیاد میں چنداں تاخیر نہیں تھی، حکم جاری ہونا تھا کہ حضرت ابراہیم ۔علیہ السلام۔ نے اپنے حلیم و بردبار اور جذبہ اطاعت سے مکمل سرشار فرزند ارجمند حضرت اسماعیل۔ علیہ السلام۔ سے مشورہ طلب کرتے ہوئے کہا: کہ ائے میرے فرزند مجھے،تجھےبارگاہ صمدی میں قربان کرنے کا حکم ملا ہے، اس سلسلے میں تمہاری کیا رائے ہیں؟ اطاعت شعار لڑکے نے بلا چوں چراں کہا:کہ ائے میرے والد محترم بھلااس میں بھی رائے طلب کرنے کی ضرورت ہے ،جس چیز کاحکم ملا ہے اسےفوراکرگذریے ،عنقریب آپ صابروشاکر پائیں گے، جواب ملتے ہی حضرت ابراہیم ۔علیہ السلام۔ اس عظیم حکم کی تعمیل کے لیے اپنے فرزند کو زمین پر لٹا دیتے ہیں،اور اس خوف سے کہ کہیں شفقت پدری غالب نہ آجائے اور تعمیل حکم میں تاخیر ہوجائے، اپنے چہرے کو ڈھانپ لیتے ہیں، اور پوری طاقت و قوت کے ساتھ گردن پر چھری چلاتے ہیں؛ مگر چھڑی ہے کہ چل نہیں رہی ہے، اتنا کرنا تھا کہ آسمان سے آواز آتی ہے،ائےابراہیم۔ علیہ السلام ۔تونے خواب کو خوب سچ کر دکھلایا۔
اس عظیم کارنامے سے خوش ہوکر،خدا وند عالم نے حضرت اسماعیل ۔ علیہ السلام۔ کی جگہ قربانی کے لئے ایک ذبیحہ جنتی میڈھے کی شکل میں عنایت فرمایا، اور حکم ہوا کہ اسے قربان کیجئے، پس آپ اسے بارگاہ ایزدی میں قربان کیے،حضرت ابراہیم۔ علیہ السلام ۔کا یہ عمل اللہ رب العالمین کو اتناپسند آیا کہ اسے رہتی دنیا تک کے لئے امت محمدیہ کے صاحب استطاعت لوگوں پر واجب قرار دے دیا،جسے آج امت محمدیہ کاہر فردمحض خوشنودی ربانی کی خاطر بارگاہ ایزدی میں جانوروں کوقربان کرکےانسانی فطرت سے ماورا کارنامے کو یاد کرتے ہیں ۔
ایام قربانی میں قربانی کرنے والوں کے لیےاحادیث مبارکہ میں بے شمار فضائل وارد ہوئی ہیں، اور حکم قربانی سے سرتابی کرنے والوں کے لیے بڑی وعیدیں آئی ہیں؛چناں چہ محبوب العالمین سردار انبیاء حضرت محمد مصطفی۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ارشاد فرماتے ہیں :کہ ایام قربانی میں بندہ کا کوئی بھی عمل،عمل قربانی سےزیادہ عند اللہ مقبول و محبوب نہیں ہے، اور قربانی کا خون کا قطرہ زمین پر گرنہیں پاتا ہے، کہ پروردگار عالم قربانی کرنے والوں کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں، اور اس جانور کو قیامت کے روز سینگوں ،کھروں اور بالوں کے ساتھ لایا جائے گا،حدیث مبارکہ ہے:ماعمل آدم من عمل يوم النحرأحب إلى الله من اهراق الدم ،إنه ليأتي يوم القيامة بقرونهاواشعارهاوان الدم ليقع من الله بمكان قبل أن يقع بالارض فطيبوا بها نفسا. {ترمذی، حدیث نمبر :۱۴۰۹}۔

قربانی کی ماہیت و حقیقت اور کنہ دریافت کرنے کے لئے بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے شہنشاہ کو نین سے سوال کیا :ماھی الاضاحی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ائے اللہ کے رسول صلی اللہ وسلم یہ قربانی جسےہم آج کرتے ہیں اس کی کیا حقیقت ہے؟ تو تاجداربطحانے فرمایا :هي سنة ابيكم ابراهيم عليه السلام. یہ تمہارے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت اوران کی یادگارہے،پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سوال کیا :ومالنا فيها؟ ہمیں اس کے بدلے کیا ملے گا؟ شافع محشر محمد مصطفی صلی اللہ وسلم نے فرمایا:بكل شعرة حسنة.ہربال کے عوض ایک نیکی، انسان غور و فکر کے ذریعے اپنے معاصی وسیئات اور ذنوب کی تعداد شمار کرنا چاہے،تو شمار کرسکتا ہے؛ مگر اللہ رب العالمین کی راہ میں قربان کردہ جانور کی پشت پر موجود غیر معمولی بالوں کی تعداد ہرگز ہرگز شمار نہیں کر سکتا ہے، یہ ہے شان کریمی اور رحیمی کہ وہ بہانہ تلاش تلاش کر، ہمارے گناہوں اور معاصی کو حسنات میں تبدیل کرنا چاہتا ہے مگر ہم ہیں کہ احکامات خداوندی کے امتثال میں کوتاہی اورکاہلی برتتے ہیں ۔
پس ہر مالک نصاب مرد عورت کو چاہیے، کہ وہ خوش دلی کے ساتھ فقط رضائے الہی کی خاطر ایام قربانی میں قربانی کرے اور غرباء فقراء مساکین کا خاص خیال رکھے، اور یہ بات بھی یاد رہے کہ قربانی ،نمودونمائش کے لیے اور اسی طرح گوشت خوری کی نیت سےہرگز ہرگز نہ کرے؛ ورنہ قربانی مقبول نہیں ہوگی، اور قربانی کرنے کا کچھ بھی فائدہ حاصل نہیں ہوگا، کیوں کہ قربانی سے مقصود و مطلوب عند اللہ تقویٰ ہے، کما قال اللہ تبارک وتعالی:لن ينال الله لحومها ولادمائها ولا كن يناله التقوي منكم.
باوجود وسعت واستطاعت کے اس عظیم حکم خدائی سے اعراض کرنے والے مسلمانوں کے لیے سخت تحدیدی وعید سناتے ہوئے محبوب العالمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:من وجد سعة فلم يضحي فلا يقربن مصلانا. مالک نصاب ہونے کے باوجود قربانی نہ کرنے والے مسلمانوں کے لیے سخت تحدیدی حکم یہ ہے ،کہ وہ میری عید گاہ ،تو درکنار؛ بل کہ اس کے دروازہ کے قریب بھی جانے کی جرات نہ کرے، اس ارشاد نبوی سے صاف یہ واضح ہوگیا کہ جس کے دل میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی عظمت و وقعت نہ ہو، اسی طرح سے ان کے لیے جان ثاری کا جذبہ جسم کی رگ وریشے میں موجود نہ ہو، تو پھر ایسے لوگوں کے لیے کوئی ضرورت نہیں ہے کہ وہ عیدگاہ آکر عید کا دوگانہ ادائیگی کے ذریعے جسم کے ظاہری اعضاء وجوارح کے ذریعے مذہب اسلام کا اظہار کرے، اس لیے وہ میری عید گاہ سے بہت ہی دور رہے اوران مسلمانوں سے بھی دور رہے، جنہوں نے بسر و چشم اس عظیم حکم ربانی کی تعمیل کی ہے۔
جن مسلمانوں کے افکار و قلوب پر معاندین اسلام کے باطل افکار و خیالات کا کچھ زیادہ ہی اثر ہو چلا ہے، وہ بلا تردد اور حیص بیص کے سوشل میڈیا پر شیطانی نظریات ( کہ ہم مسلمانوں کو ان مخصوص ایام میں اربوں، کھربوں روپیوں کا جانور خرید کر ،اللہ کے لیے قربانی دینے سے بہت ہی بہتر اور مناسب ہے، کہ ہم ان پیسوں کو قربانی کے جانوروں کی خریداری پر صرف نہ کرکے،ہم ان کے ذریعے غریبوں ،یتیموں، مسکینوں، اور محتاجوں کی مدد کریں؛ پھر دیکھیں کہ وقت قریب ہی میں کتنے ہی غرباء، فقراء خوش حال ہو جاتے ہیں، اور پھر چند سالوں کے اندر ہی دنیا سے فقر و غربت ختم ہو جاتا ہے)کے ذریعے سادہ لوح مسلمانوں کے دلوں کو متزلزل کرتے رہتے ہیں، اور افسوس کہ ہمارے بعض مسلمان ان کےدام فریب میں آکر ،اس عظیم حکم ربانی کی تعمیل سےباز آ کر، قربانی کے جانوروں پر خرچ ہونے والے پیسوں کے ذریعے غریبوں کی امداد کرتے ہیں، اس موقع سے میں صاف عرض کردینا مناسب خیال کرتا ہوں: کہ غریبوں، محتاجوں کی اعانت ایک نیک عمل اور کار خیر ہے، دنیاوی اوراُخروی اس کے بے شمار فوائد ہیں؛ مگر کیا مسلمان اس کے لیے شعائراللہ کو بھی ختم کر دے؟کیا غریبوں کی امداد کے لیے دیگر رقومات نہیں ہیں ؟جن کے ذریعے غریبوں کی مدد کی جا سکے، بلکل دیگر رقومات ہیں، اور بحمدہ تعالی ہر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق آج سے نہیں؛ بل کہ جب سے مذہب اسلام آیا ہے، اسی وقت سے غریبوں، محتاجوں کی مدد کرتے رہے ہیں اور جب تک اس روئے زمین پر اسلام باقی رہے گا کرتے رہیں گے ۔
اسلام کے شیدائیوں کو قربانی کے بجائے صدقات و خیرات کی ترغیب دینے والوں،اس سے باز آجاؤ،یہ تمہاری ترغیب دینے سے پہلے ہی، اس کے عادی ہو چکے ہیں، ایام قربانی میں قربانی کرنا، یہ خود ایک مستقل عبادت ہے، اور اس کا کوئی بدل نہیں ہے۔
وجوب قربانی کے جہاں اور بھی دیگر عظیم مقاصد ہیں، من جملہ ان میں سے ایک اہم مقصد بندہ کی بندگی کا امتحان بھی ہے، خداوند قدوس ہرمالک نصاب شخص پر قربانی واجب کرکے یہ دیکھنا چاہتے ہیں، کہ کون میرا بندہ کامل بندگی کا ثبوت دینے کے لیے بسروچشم اور بطیب خاطر میرے اس حکم کی تعمیل کرتا ہے، اور کون میرا بندہ ناقص بندگی کا ثبوت دینے کے لیے میرے اس حکم سے اعراض کرتا ہے، تعمیل کرنے والا بندہ محمود رہتا ہے اوراعراض کرنے والا مبغوض رہتا ہے؛ اس لیے بندہ کو چاہیے کہ قربانی کے ذریعے کامل بندگی کا ثبوت دے۔
دعا کریں کہ اللہ رب العالمین ہرمالک نصاب مرد و عورت کو ایام قربانی میں قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور اغیار کےباطل افکار و خیالات سے کلی حفاظت فرمائے، آمین۔