قربانی ؛ اللہ سے محبت کی نشانی۔۔۔۔۔۔مفتی بشیر احمد

172

قربانی ؛ اللہ سے محبت کی نشانی۔۔۔۔۔۔مفتی بشیر احمد
(پریس ریلیز)
آج شہر سہارنپور کی شاہی مسجد ہرن ماران میں نماز جمعہ سے قبل خطاب میں مفتی بشیر احمد مظاہری استاذ ومعین مفتی جامعہ مظاہر علوم نے فرمایا کہ قربانی کے ایام قریب آرہے ہیں، قربانی عظیم الشان عمل ہے، زمانہ کیسے ہی حوادث وانقلاب کا شکار ہو مگر جسم کو غذاء پہنچانے اور اسے زندہ رکھنے کے لئے کاروبار زندگی جاری رہتا ہے ،کھانا ،پینا ،کمانا سب کچھ کیا جاتا ہے، ایسے ہی روح کو زندہ اور تازہ رکھنے کے لیے دینی احکامات اور شرعی فرائض اور واجبات پر عمل آوری ضروری ہے۔
قربانی کا عمل نہایت عظیم الشان عمل ہے، یہ اللہ سے بندہ کی محبت کا نشان، مظہر اور تھرمامیٹر ہے، قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے اللہ تعالیٰ کے یہاں قربانی کا نہ گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون لیکن دلوں کا تقوی پہنچتا ہے (الحج) مطلب یہ ہے کہ قربانی کا عمل سے پہچان ہوتی ہے کہ کس انسان کے قلب میں تقوی، اللہ کا خوف و خشیت، اس کی ذات عالی پر ایما‌ن ویقین اور اس سے محبت و انس ہے اور کس کا قلب ان اوصاف وکمالات سے خالی وعاری ہے۔۔۔
مفتی صاحب نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کی طرح آ جکل بھی قربانی کے بارے میں غیروں کی طرف سے ریشہ دوانیاں ہورہی ہیں ،اسی کے ساتھ بہت سے اپنے بھی قربانی کے بارے غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں ۔مثلا:
(١) بعض کہتے ہیں کہ قربانی چوتھے دن بھی کرسکتے ہیں
(٢)بعض کہتے ہیں کہ گھر کے ذمہ دار کا قربانی کردینا کافی ہے
(٣)اور یہ کہ بھینس کی قربانی نہیں ہو سکتی وغیرہ وغیرہ
حالانکہ فقہاء احناف اور جمہور فقہاء وعلماء یہ فرماتے ہیں کہ چوتھے دن قربانی نہیں کی جاسکتی اور عموما احادیث میں یہی مذ کور ہے،اور جیسے نماز، روزہ، زکوۃ اور حج گھر کے تمام بالغ افراد پر الگ الگ فرض ہیں ایسے ہی گھر میں جتنے افراد بالغ اور صاحب حیثیت ہیں ان سب پر الگ الگ قربانی کرنا ضروری ہے اور بھینس اور گائے ایک ہی قسم کے جانور ہیں،یہ ایسے ہی ہیں جیسے سفید گلاب اور سیاہ گلاب ، اسلئے بھینس کی قربانی بلاشک وشبہ جائز ہے، جو بھینس کی قربانی کو غلط کہہ رہے ہیں انہیں سوچنا چاہئے کہ اونٹ اور گائے کی قربانی پہلے ہی متروک ہوتی جارہی ہے، بھینس کی قربانی کو آپ نے غلط کہدیا اور “بکرے نے کب تک خیر منائی” اس طرح ہماری ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے قربانی کا دروازہ بند بلکل مسدود ہو جایئگا اور
سادگی اپنوں کی دیکھ
اوروں کی عیاری بھی دیکھ
کا شعر صادق آئیگا۔
مفتی صاحب نےمزید فرمایا کہ اس سے انکار نہیں کہ ان میں سے بعض مسائل کے بارےمیں احادیث بھی موجود ہیں،لیکن احادیث و روایات کی مثال میڈیکل اسٹور پر موجود دوائیوں کی طرح ہے،کونسی دوا کھانی ہے اور کونسی نہیں؟ کیسے لینی ہے اورکیسے نہیں؟ اس بارے میں ڈاکٹر اور طبیب کی صلاح پر عمل کیا جاتا ہے بلکل اسی طرح احادیث وروایات پر عمل آوری اور کیفیت عمل کے سلسلہ میں ائمہ مجتہدین کی آراء کو ملحوظ رکھا جاییگا، ورنہ انسان گمراہی کا شکار ہوجایئگا، لہذا تمام سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس طرح کے کسی مغالطے کا شکار نہ ہوں اور بڑھ چڑھ کر قربانی کا عمل انجام دیں اور اللہ سے اپنی بےپناہ محبت کا ثبوت دیں، مفتی صاحب نے آخر میں زور دے کر فرمایا کہ قربانی کے ساتھ گلیوں اور محلوں کی صفائی کا بھی خیال رکھا جایے اور اس کے لیے کچھ روپیہ خرچ ہو تو اس سے بھی گریز نہ کیا جایے، کیونکہ قربانی بھی ضروری ہے اور صفائی ستھرائی بھی، بالخصوص موجودہ وبائی حالات میں صفائی کا خیال انتہائی ضروری ہے۔۔۔۔اللہ ہم سب کو اس فريضہ کو ٹھیک ٹھیک انجام دینے کی توفیق عطاء فرمائے آمین۔