قرآن سے وابستگی کئی نسلوں تک زندگیوں کو منور کرتی ہےمحمد النعمان اور عبدالرحمن  کے بعد محمد الحسان بھی بن گئے حافظ قرآن مولانا ظفر کمال مظاہری

53

قرآن سے وابستگی کئی نسلوں تک زندگیوں کو منور کرتی ہے : مولانا ظفر کمال مظاہری
لاک ڈاؤن میں ایک ہی گھر میں تیسرے بچے کے حافظ قرآن بننے پر دعائیہ تقریب ، محمد النعمان اور عبدالرحمن  کے بعد محمد الحسان بھی بن گئے حافظ قرآن
نانپارہ ، بہرائچ (رپورٹ : محمد رضوان ندوی)
نانپارہ میں واقع محلہ قلعہ میں مشہور واعظ و داعی مولانا ظفر کمال مظاہری کی صدارت میں ایک دعائیہ تقریب کا ہتمام کیا گیا ، جس میں محمد الحسان نے اپنے استاذ قاری جنید احمد ہربس پوری کی رہنمائی میں حفظ قرآن مکمل کرنے کی سعادت حاصل کی، اس موقع پر اہل خانہ، محلہ اور اطراف کے بہت سے علماء اور دانش وروں نے کم سن حافظ قرآن کو مبارک باد پیش کی اور مستقبل کے لئے مخلصانہ دعائوں سے نوازا، صدر تقریب مولانا ظفر کمال مظاہری نے آخر میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خوشی کی بات ہے کہ آپ نے لاک ڈاؤن میں بھی ہمت و حوصلہ باقی رکھا اور جب ہر طرف صرف ڈر اور دہشت کا سایہ تھا ، لوگ بیماریوں سے اپنی جان بچاکر اور کام کاج چھوڑ کر گھروں میں دبکے ہوئے تھے آپ نے اپنے گھر کو ہی مدرسہ اور اسکول بنالیا اور حفظ مکمل کرکے دوسرے طلبہ میں نیا جوش بھردیا جو افسوس ہے سب کچھ کر سکتے ہیں لیکن تعلیم سے جی چراتے ہیں ، حالات نے ہر گھر کو مسجد بنا دیا ، آپ اسی مسجد میں مدرسہ قائم کرلیجئے اور ہر گھر کو مسجد اور مدرسہ کی تعلیمات سے روشن کردیجئے ،آپ نے حفظ مکمل کرلیا اور بڑی کم عمری میں اللہ نے آپ نے اس بڑی سعادت سے نواز دیا جس کو پانے کے لئے بے شمار لوگ ترستے اور تمنا کرتے ہیں ، اب آپ اس کو مضبوط کیجئے ، قرآن کو خوب پڑھئے ، نمازوں میں زیادہ سے زیادہ پڑھنے کی عادت ڈالئے ، خاص طور سے اوابین میں اگرقرآن پڑھنے کی پابندی کرلیجئے تو قرآن ان شاء اللہ دیر تک محفوظ رہے گا،مولانا مظاہری نے کہا کہ قرآن کی بڑی فضیلت ہے ، ایک دور میں لوگ انگلینڈ سے پڑھ کر آتے تھے تو ان کے لئے یہاں ہندوستان میں بڑا اعزاز و اکرام ہوتا تھا ، جہاں بیٹھتے تھے ان کے لئے کرسی لائی جاتی تھی ، ان کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا تھا لیکن قرآن پڑھنے والوں کو بہت حقیر سمجھا جاتا تھا ، ہمارے بزرگوں نے ایک تحریک چلائی کہ قرآن کے پیغام کو امت میں عام کیا جائے ، جگہ جگہ حفظ قرآن اور قرآنی تعلیمات کے لئے مکاتب اور مدارس کھولے جائیں ، آج الحمد اللہ ان مدارس کی برکت سے بے شمار حفاظ قرآن کی حفاظت و صیانت میں لگے ہوئے ہیں ، ان مشکل حالات میں جب کوئی اپنے سینے میں اللہ کے کلام کو محفوظ کرتا ہے توواقعی بڑی خوشی ہوتی ہے ،مولانا نے کہا کہ حافظ محمد الحسان کے دادا الحاج ماسٹر نسیم احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا خلوص ہے، ان کی قرآن سے سچی وابستگی کا نتیجہ ہے کہ آج ان کی اولاد میں نصف درجن بچے حافظ قرآن اور عالم دین بن چکے ہیں، آپ گھر کے ماحول کو بناکر قرآن کی تعلیمات کو عام کریں، اور اس کے سانچے میں زندگی ڈھال کر تاریک گوشوں کو روشنی سے بھر دیجئے، مولانا نے کہا کہ آپ تمام علوم حاصل کریں ، قرآن کسی علم کے حصول سے نہیں روکتا ، بلکہ قرآن آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی ترقیات کے دروازے کھولتا ہے ، کتنے لوگ ہیں جو پائیلٹ ہیں اور حافظ قرآن بھی ہیں ، کتنے لوگ ہیں جو ڈاکٹر ہیں اور حافظ قرآن بھی ہیں ، انجینئر ، تاجر ، بادشا ہ ، وزیر ، سیاست دان اور دیگر پیشے والے بھی قرآن سے جڑکر اپنی زندگیوں میں روشنی بکھیرتے رہتے ہیں ، آپ کچھ بھی حاصل کریں لیکن قرآن اور اللہ سے آپ کا تعلق کمزور نہیں ہونا چاہئے ، جو قرآن سے وابستگی اختیار کرتے ہیں اللہ تعالی ان کے سینے کھول دیتا ہے ، ان کے علم و عمل میں برکت عطا کرتا ہے ، حافظ ہونے کے ساتھ اگر عالم و فاضل بن جائے تو سونے پر سہاگہ ، ایسے لوگ اکثر امتیازی کام کرنے کی صلاحیت پیدا کرلیتے ہیں ، مولانا نے کہا کہ آج ہر طرف باطل نے کھیل کود اور دنیا طلبی میں ہم کو مشغول کردیا ہے ، لوگ اسی میں مگن ہیں ، باطل کے جال میں پھنسنے والے کوتاہ نظر ہیں ، ان کی نظر صرف دنیا تک ہے ، قرآن پڑھنے پڑھانے والے اور اس کے مطالبات کو پورا کرنے والوں کی نظر آخرت پر ہوتی ہے وہ آخرت میں اس کا فائدہ حاصل کریں گے ، اللہ نے ان کے لئے جنت کی کھڑکیاں کھول دی ہیں ، فرشتے ان کو بشارتیں سنائیں گے ، اس حقیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اللہ کا دین غالب ہوکر رہے گا ، یہ دنیا فنا ہوجائے گی ،موت سے کوئی نہیں بچ سکتا ، دنیاوی نظام چند روزہ ہے ، اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے، سارا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے ، اس کا فیصلہ اٹل ہے ، قیامت آکر رہے گی اور جو اللہ کے حقیقی بندے ہیں وہ ہمیشہ ہمیش راحت اورجنت پاکر ہی رہیں گے ، جب انسان کی آنکھ ہمیشہ کے لئے بند ہوجائے گی تو سب کچھ اس کی سمجھ میں آسانی سے آجائے گا ، ابھی دنیا کے بہت سے پردوں نے اصل حقیقت سے دوری پیدا کردی ہے۔
اس موقع پرمحمد الحسان کو حفظ قرآن کریم کی تکمیل پر مبارک باد پیش کرنے والوں میں مولانا محمد احمد انصار قاسمی ، مولانا نفیس احمد مظاہری ، قاری اسامہ نوری ، مولانا محمد فیضان نسیم ندوی ، ماسٹر کلیم الدین انصاری ، حافظ عبداللہ انصاری ، سابق امام شاہی جامع مسجد قاری محمد یوسف ، حافظ محمد النعمان ، حافظ محمد الفرقان ، حافظ عبدالرحمن وغیرہ کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔