قرآن کریم سے شغف ترقی کا رازہے۔ حافظ نصیراحمد اسعدی

37

مدرسہ علوم شرعیہ گوٹے شاہ سہارنپور میں ادارہ کے سرپرست حافظ نصیراحمد اسعدی صاحب کے خسرماموں حضرت مولانا بلال احمد صاحب مظاہری استاذ جامعہ مظاہرعلوم (وقف) سہارنپور کی رحلت پر تعزیتی نشست منعقد کی گئی،جسمیں مولانا مفتی بشیر احمد صاحب مظاہری نے کہا کہ اس وقت ہم معلم الحجاج حضرت مولانا بلال احمد صاحب کی رحلت کے صدمہ سے دوچارہیں آج کی تعزیتی مجلس میں ان کی تین اہم خصوصیات عرض کرتاہوں جو ہم سب کے لئے اور خاص طورپر طالبانِ علوم نبوت کے لئے بہت اہم ہیں۔
۱/وقت کی پابندی، یہ ایسی صفت ہے جس سے انسان عظیم انسان بنتاہے اور ہمارے حضرت مولانا اس بات کا اہتمام اسقدر کرتے کہ لوگ ان کو دیکھ کر وقت کا پتہ لگالیاکرتے تھے کہ اب کیاوقت ہورہاہے کیونکہ گھرسے آنے جانے، مدرسہ ومسجد پہونچنے اور وہاں رہنے، متعلقین، محبین ومتوسلین سے ملاقات کا وقت طے تھا جس کے آپ ہمیشہ پابند رہتے۔
۲/وقت کی حفاظت، یہ صفت آپ کے اندر اس قدر تھی کہ کبھی لغوبات کرتے ہی نہیں تھے،
مفوضہ امور کی انجام دہی کے بعد ذکر، تلاوت، دعاء وغیرہ میں مشغول رہتے۔

SAVE 20201107 182722
۳/گھرکے کاموں کو انجام دینا، یعنی اس قدر عظیم انسان ہونے کے باوجود گھر کے کاموں میں اہلِ خانہ کے ساتھ ہاتھ بٹا تے تھے۔
اس لئے میرے عزیزو! ہمیں بھی اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلنا چاہئے اسی میں خیروبرکت ہے۔
حافظ نصیراحمد اسعدی صاحب نے اپنے قلبی تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا رح کی ترقی کا راز قرآن کی مخلصانہ خدمت ہے جس کا اندازہ آپ کے جنازہ کی نماز کے شرکاء سے لگایا جاسکتا ہے۔
مہمان خصوصی مفتی محمد ناصر ایوب ندوی رفیق فیض العلوم خانقاہ بوڑیہ نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حضرت رح گونا گوں صفات کی حا مل شخصیت تھے جو اس زمانہ میں نایاب نہیں تو کمیاب ضرورہیں بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
بس اب ہمیں ان کی دکھائی ہوئی راہ پر چلنے اور ان کے کاموں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے مہمان خصوصی نے پہلی نشست کی دعاء کرائی جبکہ آخری نشست کی اختتامی دعاء مفتی بشیر احمد صاحب نے کرائی۔
مولانا فہیم احمد، مولانا جنید احمد مظاہری، مولوی محمد اسامہ کی زیر نگرانی زیر تعلیم بچوں نے قرآن کریم مکمل کئے، سورہ یاسین شریف، کلمہ، درود وغیرہ پڑھنے کا اہتمام کرتے ہوئے ایصال ثواب کیا گیا اللہ تعالیٰ شرفِ قبولیت سے نوازے آمین