جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالات"قرآن پاک کی اردو تفاسیر" :ایک مطالعہ

"قرآن پاک کی اردو تفاسیر” :ایک مطالعہ

انوار الحسن وسطوی 
"قرآن پاک کی اردو تفاسیر" :ایک مطالعہ
 زیر مطالعہ کتاب کے مصنف ڈاکٹر سید شاہ حیدر رضوی ہیں جن کا تعلق سرزمین بہار کے ایک مشہور و معروف علمی خانوادے سے ہے- محترم ڈاکٹر طلحہ رضوی برق قبلہ مد ظلّہ العالی کو کون نہیں جانتا- ڈاکٹر حیدر رضوی صاحب حضرت موصوف کے برادر عزیز ہیں- ڈاکٹر حیدر رضوی کی مذکورہ تصنیف دراصل ان کا وہ تحقیقی مقالہ ہے جس پر انھیں 2008 میں  پٹنہ یونیورسٹی سے پی ایچ – ڈی کی ڈگری تفویض ہوئی تھی- اس تحقیقی مقالے کے نگراں ڈاکٹر ذکی الحق مرحوم و مغفور شعبہ اردو بی این کالج پٹنہ مقرر ہوئے تھے لیکن ان کے انتقال فرما جانے کے سبب ڈاکٹر خواجہ افضل امام شعبہ فارسی پٹنہ کالج کے زیر نگرانی یہ مقالہ پایہ تکمیل کو پہنچا- کتابی شکل میں یہ مقالہ 2018 میں زیور طباعت سے آراستہ ہوا ہے جو 392 صفحات پر مشتمل ہے- ڈاکٹر حیدر رضوی نے اپنی اس تصنیف کا انتساب اپنے والدین سید شاہ سراج الدین رضوی مرحوم و بی بی وسیع النساء مرحومہ کے نام کیا ہے-
 زیر تذکرہ کتاب "قرآن پاک کی اردو تفاسیر” پانچ ابواب پر مشتمل ہے-” باب اول” میں تمہیدی کلمات کے طور پر تفسیر کی تعریف، اس کی ضرورت اور اس کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی گئی ہے – "باب دوم” فارسی تفاسیر سے متعلق ہے، گرچہ یہ مقالہ کا موضوع نہیں ہے مگر پس منظر کے طور پر اس کا ذکر ناگزیر اس لیے تھا کہ قرآن پاک کے ترجمے اور تفسیر کی پہلی کوشش جس زبان میں کی گئی وہ فارسی ہے-” باب سوم” میں اردو زبان کی پیدائش اور اردو ادب کے ارتقائی سفر کے سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے ان اردو تفاسیر کا ذکر کیا گیا ہے جو یا تو جزوی طور پر ہیں یا پھر مکمل صورت میں ہیں – جزوی تفاسیر وہ ہیں جن میں مختلف سورتوں اور آیات کریمہ کی تفسیر یں ہیں جن کی تعداد 44 بتائی گئی ہے اور تفصیلی تفسیریں وہ ہیں جو مکمل تیس پاروں پر مشتمل ہیں – ان مکمل تفاسیر کی تعداد37 شمار کرائی گئی ہے – اس باب کی خصوصیت یہ ہے کہ تمام تفاسیر کا مختصر تعارف بھی بطور نمونہ پیش کیا گیا ہے- اس باب کے مطالعے سے مصنف کے دقت نظر، وسعت مطالعہ اور  ذوق تحقیق کی داد دینی پڑتی ہے-” باب چہارم” میں ہندوستان کے جن سات ممتاز معروف مفسرین کرام کے احوال و آثار کا مفصل ذکر کیا گیا ہے ان کے اسمائے گرامی ہیں مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا ثناء اللہ امرتسری، سرسیداحمدخان، مولانا عبد الماجد دریابادی، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا ابوالاعلی مودودی اور مولانا محمد شفیع- ڈاکٹر سید شاہ حیدر رضوی نے مذکورہ شخصیات کی تفسیری خدمات کے مفصل بیان کے ساتھ دوسرے میدان عمل میں بھی ان کی نمایاں خدمات کا نہ صرف ذکر کیا ہے بلکہ ان کے سوانحی حالات کے ساتھ ساتھ ان کے امتیاز، ان کی انفرادیت اور ان کی علمی، ادبی،تحریری اور تقریری صلاحیت کو بیان کرتے ہوئے ان کے تعلق سے سیر حاصل گفتگو کی ہے – کتاب کے اس باب کا مطالعہ مذکورہ تمام شخصیتوں کو سمجھنے اور جاننے کا بہترین وسیلہ ہے – یہ تحریریں قاری کے علم میں اضافے کی حیثیت رکھتی ہیں – اس باب کی دوسری اور ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ مصنف نے مذکورہ شخصیات کے تعارف اور ان کی خدمات کے ذکر میں مسلکی عینک کا استعمال نہیں کیا ہے اور اظہار بیان میں مکمل دیانت داری اور وسیع النظری کا مظاہرہ کیا ہے – مصنف موصوف کا یہ عمل قابل تعریف بھی ہے اور قابل تقلید بھی- ” باب پنجم” اس مقالے کا آخری باب ہے جسے "ماحصل” بھی کہا جا سکتا ہے- اس باب میں تفسیر کی مذہبی ادبی اور لسانی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے- کتاب کے آخر میں ان کتابوں، اخبارات و رسائل کی فہرست درج ہے جن سے مقالے کی ترتیب میں مدد لی گئی ہے-
   کتاب کے آغاز میں بعنوان” پیش آہنگ” (از :پروفیسر طلحہ رضوی برق)” تقریظ” (از: ڈاکٹر پروفیسر حبیب المرسلین شیدا، پٹنہ یونیورسٹی) اور” افتتاحیہ” (از :ڈاکٹر لیاقت علی خان، یو پی) تین پر مغزاور بصیرت افروز تحریریں شامل کتاب ہیں جن کے مطالعے سے جہاں ڈاکٹر سید شاہ حیدر رضوی کی زیر تذکرہ کتاب کو بنظر غائر پڑھنے کی ترغیب ملتی ہے وہیں ان تحریروں کے مطالعے سے علم و بصیرت کے کئ دریچے بھی وا ہوتے ہیں- قارئین کی دل چسپی کے لیے مذکورہ تحریروں سے اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں:-
* "اس گراں قدر مقالے کے مصنف میرے برادر عزیز ڈاکٹر سید شاہ حیدر رضوی مدعمرہ ہیں – الحمد اللہ کی یہ مقالہ اپنی گوناگوں تحقیق کی خصوصیات اور لسانی خوبیوں کی وجہ سے بے نظیر ہے- ہر چند تحقیقی دروازہ کبھی بھی بند نہیں ہوتا اور مزید تحقیق کے امکانات و مواقع باقی رہتے ہیں – مصنف موصوف نے بڑی محنت، تلاش و جستجو اور عمیق مطالعے کے بعد اپنی تحقیقات کو خوبصورتی سے مرتب کیا ہے – "
(پروفیسر طلحہ رضوی برق-ص:16)
* ” یہ مقالہ چونکہ بلاامتیاز مسلک و مذہب اور عقائد ہر مکتب فکر کے مفسرین کی لکھی ہوئی تفاسیر کا جامع ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ پیش نظر "قرآن پاک کی اردو تفاسیر” کا مطالعہ مختلف مذہبی اور فرقوں کے افکار و آراء کو سمجھنے کا اچھا اور موثر ذریعہ ہے اور اسے دین کے مختلف مذہبی گروہوں کے افکارو آراء اور معتقدات کے مطالعے کا اچھا وسیلہ قرار دیا جا سکتا ہے-"
( ڈاکٹر پروفیسر حبیب المرسلین شیدا – ص:23-24)
* ” جناب ڈاکٹر سید شاہ حیدر رضوی صاحب کا "قرآن پاک کی اردو تفاسیر” پر تجزیاتی مضمون(Thesis) اردو داں طبقے کے لیے بڑا ہی نادر اور قابل ستائش قدم ہے – محترم مصنف کو یا کسی اور کو اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ اسی طرح کی مزید کوشش دوسری ہندوستانی (ملکی) زبانوں میں بھی ہو تا کہ قرآن پاک جو کہ بلاغ للناس ہے، اس کا حق ادا ہوسکے-"
( ڈاکٹر لیاقت علی خاں- ص، 31)
  ڈاکٹر سید شاہ حیدر رضوی نے اپنی گراں قدر قابل تعریف اور قابل رشک تحقیقی کاوش کو اپنی کم علمی اور بے بضاعتی پر محمول کرتے ہوئے نہایت عاجزی اور خاکساری کے ساتھ تحریر فرمایا ہے:
” ‘الانسان مرکب من الخطا والنسیان’ کے مصداق میں بھی ایک انسان ہوں- اپنی کم علمی و بے بضاعتی کا احساس و اعتراف کرتے ہوئے
حتی الامکان میں نے کوشش کی ہے کہ اس تحقیق میں کوئی تشنگی باقی نہ رہے – پھر بھی اہل علم وہ ارباب نظر سے چشم عطا و عفوخطا  کا امیدوار ہوں-"
(” عرض مؤلف” ص:43″)
 ڈاکٹر سید شاہ حیدر رضوی کی پیش نظر تصنیف "قرآن پاک کی اردو تفاسیر” اردو زبان میں تفسیری خدمات کا بہترین جائزہ ہے – یہ کتاب نہ صرف دینی نقطہ نظر سے استفادے کی چیز ہے بلکہ اس کی ادبی و لسانی حیثیت بھی مسلم ہے- اس کتاب کے ذریعے شروع سے ابھی تک اردو میں لکھی گئی تفسیروں سے جہاں قاری کی واقفیت ہوتی ہے وہیں اردو زبان کی پیدائش اور اس کے ارتقاء کے تعلق سے بھی قاری کے علم میں اضافہ ہوتا ہے- اس کی یہ کاوش دینی و دنیاوی دونوں اعتبار سے قابل قدر اور قابل ستائش ہے – میں دل کی عمیق گہرائیوں سے مصنف موصوف کو مبارکباد دیتا ہوں اور ان کی صحت و تندرستی کے ساتھ ان کی درازئ عمر کی بھی دعا کرتا ہوں- اس گراں قدر اور قابل استفادہ کتاب کی قیمت 450 روپے ہے جسے سید فرحان رضوی، نواب کوٹھی، نزد گرلس آئی ٹی آئی (گیٹ نمبر 97) دیگھا، پٹنہ – 11 اور "بک امپوریم” اردو بازار، سبزی باغ، پٹنہ- 4 سے حاصل کیا جا سکتا ہے -کتاب کے تعلق سے مزید معلومات کے لئے مصنف کے موبائل نمبر 9708978329 سے رابطہ کیا جا سکتا ہے –
روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے