قرآن بہت محترم کتاب ہے اس کو بغیر وضو کے نہیں چھو سکتے،مولانا غفران احمد ندوی

129

قرآن بہت محترم کتاب ہے اس کو بغیر وضو کے نہیں چھو سکتے،
مولانا غفران احمد ندوی
سمریاواں ،سنت کبیر نگر
رپورٹ ظفیر علی کرخی
تپہ اجیار کے معروف دینی ادارہ مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں میں قرآن کی فضیلت، دینی تعلیم کی اہمیت اور مدارس دینیہ کی ضرورت پر غور و فکر کے لئے ایک اصلاحی و بیداری نشست کا انعقاد کیا گیا، جس کو خطاب کرتے ہوئے مدرسہ کے صدر مدرس مولانا غفران احمد ندوی نے کہا کہ دنیا میں صرف قرآن ہی ایسی کتاب ہے جس کے پڑھنے، سننے اور اس پر عمل کرنے پر حرف حرف اور لفظ لفظ پر نیکیاں ملتی ہیں، ایک حرف پر 10 نیکیاں ملنا اللہ کا بہت بڑا انعام ہے، اس لئے پابندی کے ساتھ گھر گھر تلاوت کا ماحول اور معمول بنانا چاہئے. تلاوت نہ کر کے ہم بہت بڑی نیکی سے محروم ہوجاتے ہیں اور کتاب اللہ سے بے ادبی اور بے توجہی کی بنیاد پر ہمارے مسائل الجھتے چلے جاتے ہیں،
قرآن مجید میں تقریبا 321250 حروف ہیں، ایک مرتبہ تلاوت کلام اللہ مکمل کرنے پر کم از کم 3212500نیکیاں حاصل ہوجاتی ہیں، قرآن دستور حیات بھی ہے اور
تقرب مع اللہ کا ذریعہ بھی،
مولانا نے کہا کہ لوگ قرآن کے عربی زبان میں ہونے اور پیچیدہ ہونے کا بہانا بناتے ہیں جب کہ قرآن کی خصوصیت ہے کہ وہ بہت واضح ہے، ہر چیز کھول کر بیان کی گئی ہے،
بڑی آسانی سے یاد ہوجاناہے، اسی لئے آج لاکھوں حفاظ دنیا میں ایسے موجود ہیں جو ایک دو دن میں زبانی سنا سکتے ہیں، قرآن بہت محترم کتاب ہے اس کو بغیر وضو کے نہیں چھو سکتے، اس کا ادب ضروری ہے، جب اسے پڑھا جائے تو کان لگا کر خاموش رہ کر سنا جائے، قرآن کا منکر کافرہے،وہ فصاحت و بلاغت میں دنیا کی تمام کتابوں سے فائق تر ہے، قرآن سراپا معجزہ ہے، وہ راہ نما، غَذا، دوا، شفاء سب کچھ ہے،
مدارس کی ضرورت واہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا ندوی نے کہا کہ اسلامی مدارس دین کی حفاظت کا مضبوط ذریعہ ہیں، مدارس کی طرف اس نازک دور میں عوام الناس کی توجہ دوبارہ مبذول کرانے کی ضرورت ہے، اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کیلئے اسلام کے بارے مین ضروری معلومات حاصل کرنا ہر مسلمان پر ضروری ہے، مولانا نے کہا کہ آج مدارس ناگفتہ بہ حالات سے گزر رہے ہیں، مالی حالت بہت خستہ ہے، اگر عوام نے توجہ نہ دیا اور مدارس سے وابستہ علماء کرام اور طلبہ عظام نے اپنے آپ کو دوسرے کاموں میں لگا دیا تو آئندہ ہماری نسلوں کا ایمان و عقیدہ خطرے میں ہے.دعائیہ کلمات پر نشست کا اختتام ہوا، اس موقع پر علاقہ کے سیکڑوں مستفیدین موجود تھے.