قاری معین الدین صاحب کاانتقال ملت کا   بڑا ملی نقصان ___مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی

69
پٹنہ 2مءی2021 (عبد الرحیم برہولیا وی)امارت شرعیہ بہار اڑیسہ جھارکھنڈ کے نائب ناظم ورکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ  مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی صاحب نے قاری معین الدین صاحب کے انتقال پر گہرے صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ انکے انتقال سے ملت نے ایک بڑے عالم دین، اچھے خطیب اور ملت کے تئیں ہر دم متحرک اور سرگرم رہنے والی شخصیت کو کھو دیا ہے، یہ بڑا ملی نقصان ہے.مفتی محمد ثناء الھدیٰ قاسمی صاحب نے فرمایا کہ  مولانا مرحوم دیوبند میں ہمارے معاصر تھے. دور طالبعلمی میں ہی سنجیدگی اور متانت کے پیکرِ اوراپنے عظیم خانوادہ کے نمائندہ نظر آتے تھے. اس خاندان کا روحانی تعلق پہلے حضرت مولانا بشارت کریم گڑھولوی رح سے تھا جسکی تفصیل درس حیات نامی کتاب میں دیکھی جا سکتی ہے. جو غالباً انکے والدقاری فخر الدین رح کی تصنیف ہے. بعد میں شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رح کے فدائین میں اس خاندان کا شمار ہونے لگا. تنظیمی اعتبار سے اس خاندان نے بہارمیں جمیعت علماء کے کاموں کو مضبوطی سے آگے بڑھا یا. قاری معین الدین صاحب ایک زمانے میں امارت شرعیہ کے رکن بھی رہے اور مٹنگوں میں انکی حاضری بھی ہوا کرتی تھی. حضرت امیر شریعت سادس انکے مشورے کو اہمیت دیا کرتے تھے. مفتی صاحب نے اس موقع سے انکے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے فرمایا کہ تعزیت کے مستحق قاری محمد یعقوب صاحب مولانا یوسف فریدی مولانا شاہد ناصری حنفی بھی ہیں. جنکی سسرالی رشتہ دار ی اس خاندان سے ہے’اللّٰہ تعالیٰ مولانا کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین