قاری محمد عثمان عظیم المرتبت انسان، مثالی استاذ اور اچھے منتظم تھے*۔ مہسول سیتامڑھی میں منعقد تعزیتی نشست سے مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی مولانا محمد انوار اللہ فلک اور دیگر  علماء کرام کا اظہار تعزیت

71
سیتامڑھی ٢١/مئی٢٠٢١  (پریس ریلیز) کارگزار مہتمم  دارالعلوم دیوبند کے مؤقر استاد،جمعیت علماء ہند کے صدر حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب کے انتقال پر ملال کی خبر سے علماء ،ائمہ مساجد،دانشوران قوم، مدارس اور ملی تنظیموں کے ذمہ داروں کو سخت صدمہ کا سامنا کرنا پڑا، اس موقع سے ایک تعزیتی نشست قاسم منزل  عید گاہ محلہ مہسول پوربی سیتا مڑھی میں منعقد ہوئی، جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی ناظم وفاق المدارس الاسلامیہ امارت شرعیہ ورکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور مدیر ہفت روزہ نقیب نے فرمایا کہ مولانا قاری محمد عثمان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی دارالعلوم دیوبند،جمعیتہ علماء ہند اور ملی کاموں کے لیے مثالی تھی، وہ عظیم المرتبت انسان اور دردمند دل کے مالک تھے، ملت کے تئیں ان کی فکرمندی سے بہت سارے مسائل حل ہوا کرتے تھے، حضرت قاری صاحب سے میرا تعلق قدیم تھا بلکہ بعض موقعوں سے ہم لوگ سفر میں بھی ساتھ رہے، ان میں سے ایک سفر شیخ یوسف القرضاوی اور ڈاکٹر محی الدین قرح داغی کی دعوت پر قطر کا ہوا تھا، اس سفر میں حضرت کی چھوٹوں پر شفقت سے مجھے بھی بہرہ ور ہونے کا موقع ملا تھا،اسی سفر کے موقع سے میری والدہ دنیا سے رخصت ہوئںیں ،دیر غیر میں جن لوگوں نے صبر و تسلی کے کلمات اور دلجوئی کے سامان کئے ان میں ایک بڑا نام حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا تھا،مفتی صاحب نے فرمایا کہ  ان کی وفات سے علمی،ملی اور انتظامی امور میں جو خلاء پیدا ہوا ہے اس کا پر کرنا بظاہر مشکل معلوم ہوتا ہے،دارالعلوم دیوبند کے استاذ مولانا نور عالم خلیل امینی،مولانا حبیب الرحمن اعظمی کے بعد یہ تیسرا بڑا حادثہ ہے، اللہ تعالیٰ دارالعلوم دیوبند کو ان حضرات کا نعم البدل عطا فرمائے، تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد انوار اللہ فلک قاسمی بانی و مہتمم ادارہ سبیل الشریعہ آوا پور شاہ پور سیتامڑھی اور رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے فرمایا کہ مولانا قاری محمد عثمان صاحب اسلاف کی سچی نشانی  اور اکابر دیوبند کے اخلاق و عادات،طور و طریق اور رہن سہن کے اعتبار سے عکس جمیل تھے، ان کی تواضع،انکساری، سادگی، علمی بصیرت اور انتظامی صلاحیت ضرب المثل تھی، انہوں نے اچھی زندگی گذاری اور وباء میں انتقال کی وجہ سے شہادت کی موت پائی،اجلاس کے دیگر شرکاءخصوصاً قاری ایاز احمد کا احساس تھا کہ دنیا علم والوں سے خالی ہوتی جارہی ہے اور یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے،ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ حضرت قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ اور حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے گہرا تعلق تھا، اسی وجہ سے ہمیشہ سالانہ و ششماہی امتحان کے لیےجامعہ تشریف لاتے رہے، تعزیتی اجلاس کے شرکاء نے حضرت قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے نامور صاحبزادگان جناب مفتی محمد سلمان منصور پوری مفتی و استاذ حدیث مدرسہ قاسمیہ شاہی مرادآباد اور مولانا مفتی محمد عفان منصور پوری استاذ حدیث و ناظم تعلیمات جامع مسجد امروہہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے حضرت قاری صاحب کی مغفرت، ترقی درجات کی دعا فرمائی ۔تعزیتی اجلاس کا اختتام حضرت مولانا محمد انوار اللہ فلک قاسمی صاحب کی دعا پر ہوا۔اس اجلاس میں مولانا محمد ضیاء الرحمن قاسمی، محترم جناب اصغر رضا صاحب، مفتی طاہرحسین صاحب، مولانا توصیف،وقار بابو، حاجی مختار عالم، حاجی مرتضی صاحب،طارق انور، ساجد حسین،محمداصغر، مولانا احتشام الحق، مولانا اصغر علی، مولانا تنویر شمشی، شوکت، ماسٹر مجیب الرحمٰن،اجالےبابو، ڈاکٹر افضل،صاحبان وغیرہ کے علاوہ شہر کے دیگر حضرات نے بھی شرکت کی۔