فی منٹ 13 اموات کا سبب بنتا ہے جیواشم ایندھن کو جلانا، فضائی آلودگی کے ساتھ کلائمیٹ چینج کو بھی دے رہا ہے بڑھاوا

رپورٹ: نشانت سکسینہ :- ترجمہ: محمد علی نعیم فی منٹ 13 اموات کا سبب بنتا ہے جیواشم ایندھن کو جلانا، فضائی آلودگی کے ساتھ کلائمیٹ چینج کو بھی دے رہا ہے بڑھاوا 

فی منٹ 13 اموات کا سبب بنتا ہے جیواشم ایندھن کو جلانا، فضائی آلودگی کے ساتھ کلائمیٹ چینج کو بھی دے رہا ہے بڑھاوا

ڈبلیو ایچ او نے کوویڈ پر قابو پانے کے لیے کلائمیٹ سے متعلق دس اقدامات کا اعلان کیا ، گلوبل ہیلتھ ٹاسک فورس نے ورلڈ ہیلتھ کے تحفظ کے لئے عالمی سطح کی کارروائی پر زور دیا، 

اگر ممالک کو صحت مند اور اچھے انداز میں COVID-19 وبائی مرض سے صحت یاب ہونا ہے تو انہیں کلائمیٹ معاہدوں کی تعیین کرنا چاہیے

ایسے میں کل گلاسگو میں اقوام متحدہ کی کلائمیٹ جنرل کانفرنس سے قبل جاری ڈیبلو ایچ او COP26 کی خصوصی رپورٹ کلائمیٹ اور صحت کے مابین روابط قائم کرنے والی تحقیق کی بنیاد پر کلائمیٹ کارروائی سے متعلق عالمی صحت برادری کی حکمت عملی بیان کرتی ہے۔

رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ، ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے کہا ، "کورونا وبائی بیماری نے انسانوں ، جانوروں اور ہمارے ماحول کے درمیان قریبی اور نازک تعلقات کو اجاگر کیا ہے، غیر مستحکم متبادل جو ہمارے سیارے کو مار رہے ہیں وہی لوگوں کو بھی مار رہے ہیں، ڈبلیو ایچ او نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ COP26 پر فیصلہ کن کارروائی کریں تاکہ گلوبل وارمنگ کو 1.5 ° C تک محدود کیا جا سکے، صرف اس لیے نہیں کہ یہ صحیح کام ہے ، بلکہ اس لیے کہ یہ ہمارے اپنے مفاد میں ہے،ڈبلیو ایچ او کی نئی رپورٹ لوگوں کی صحت اور ہمارے سیارے کی حفاظت کے لیے 10 ترجیحات کی تعیین کرتی ہے 

ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جبکہ عالمی صحت ٹاسک فورس کے دو تہائی سے زائد اراکین کے دستخط شدہ کھلے خط کے ذریعے دنیا بھر میں کم از کم 45 ملین ڈاکٹروں اور صحت کے پیشہ ور افراد کی نمائندگی کرنے والے والی 300 تنظیمیں عالمی لیڈران اور COP26 کے ملکی وفود سے موسمیاتی کارروائی کو تیز کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں 

اس کھلے خط میں لکھا ہے کہ "جہاں بھی ہم اپنے ہسپتالوں ، کلینکوں اور دنیا بھر میں کمیونٹیز میں دیکھ بھال کرتے ہیں، ہم کلائمیٹ چینج کی وجہ سے صحت کو پہنچنے والے نقصانات کا پہلے ہی جواب دے رہے ہیں۔  

ہم COP26 پر تمام ممالک کے رہنماؤں اور ان کے نمائندوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گلوبل وارمنگ کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کرکے آنیوالی تباہی کو روکنے اور انسانی صحت اور ایکویٹی کو تمام طرح کے کلائمیٹ چینج کے تخفیفی اور مناسب اقدامات کے لئے مرکز بنایا جائے 

ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ اور یہ کھلا خط ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب نہایت شدید واقعات کی شکل کلائمیٹ چینج کے اثرات لوگوں کی زندگی اور صحت پر منفی اثر ڈال رہے ہیں، گرمی کی لہریں ، طوفان اور سیلاب جیسے مسلسل واقعات ہزاروں افراد کی جان لے لیتے ہیں اور لاکھوں کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں، صحت کے نظام اور سہولیات کو ان کی سخت ضرورت کے وقت خطرے میں ڈالتے ہیں، موسم اور کلائمیٹ چینج سے خوراک کو خطرہ ہو رہا ہے اور خوراک، پانی سے ویکٹر جنت بیماریوں کو بڑھاوا مل رہا ہے، کلائمیٹ کے اثرات ذہنی صحت پر بھی منفی اثر ڈال رہے ہیں۔ 

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ "جیواشم ایندھن جلانا ہمیں مار رہا ہے۔ کلائمیٹ چینج انسانیت کو درپیش سب سے بڑا صحت کا خطرہ ہے۔ اگرچہ کوئی بھی کلائمیٹ چینج کے صحت پر واقع اثرات سے محفوظ نہیں ہے مگر انتہائی کمزور اور پسماندہ افراد اس سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوتے ہیں

 

دریں اثنا ، فضائی آلودگی بنیادی طور پر جیواشم ایندھن کے جلنے کا نتیجہ ہے جو کلائمیٹ چینج کو بھی بڑھاوا دیتا ہے ، اور دنیا بھر میں فی منٹ 13 اموات کا سبب بنتا ہے۔

رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ لوگوں کی صحت کی حفاظت کے لیے توانائی ، نقل و حمل ، فطرت ، خوراک کے نظام اور فائننس سمیت ہر شعبے میں تبدیلی کی ضرورت ہے، یہ واضح ہے کہ اس تعلق سے مناسب اقدامات کو نافذ کرنے کے اخراجات سے صحت عامہ کے فوائد کہیں زیادہ ہیں 

ڈبلیو ایچ او کی ڈائریکٹر آف ماحولیات و کلائمیٹ چینج ڈاکٹر ماریا نیرا نے کہا ، "یہ کبھی واضح نہیں ہوا ہے کہ موسمیاتی بحران صحت کی ہنگامی صورتحال میں سے ایک ہے جس کا ہم سب سامنا کررہے ہیں، مثال کے طور پر فضائی آلودگی کو ڈبلیو ایچ او کے رہنما خطوط پر لانے سے اسکے سبب ہونے والی عالمی اموات کی کل تعداد 80 فیصد تک کم ہو جائے گی ، جبکہ ماحولیاتی تبدیلی کو بڑھاوا دینے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ڈرامائی طور پر کمی آئے گی ۔ 

ڈبلیو ایچ او کی سفارشات کے مطابق زیادہ غذائیت سے بھرپور ، پودوں پر مبنی غذا کی طرف منتقلی عالمی اخراج کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔ زیادہ لچکدار خوراک کے نظام کو یقینی بنا سکتا ہے ، اور 2050 تک سالانہ 5.1 ملین خوراک سے متعلقہ اموات سے بچ سکتا ہے۔

پیرس معاہدے کے اہداف کو حاصل کرنے سے ہوا کے معیار ، خوراک اور جسمانی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ ساتھ دیگر فوائد کی وجہ سے ہر سال لاکھوں زندگیاں بچ جائیں گی حالانکہ عالمی سطح پر موسم سے متعلق فیصلہ سازی کا زیادہ تر عمل فی الحال ان صحت کے فوائد اور ان کی معاشی قدروں کا اندازہ نہیں کرتا ہے۔