ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتفکر نانوتوی کے ترجمان اور علم و حکمت سے سرشار بین الاقوامی...

فکر نانوتوی کے ترجمان اور علم و حکمت سے سرشار بین الاقوامی شہرت یافتہ عالم دین: نائب امیر شریعت حضرت مولانا شمشاد رحمانی قاسمی صاحب، دامت برکاتہم العالیہ

 
از قلم: محمد شہباز خان قاسمی، مقیم حال: دوحہ، قطر
 
ہمارے ملک بھارت کی تاریخ سے جو لوگ واقف ہیں، ان میں سے اکثر اہل علم "تحریک دیوبند” اور اس کے اغراض و مقاصد سے واقف ہیں، ۱۸۶۶ء کے بعد ملک میں جتنی بھی (علمی، ادبی، سیاسی، سماجی، فلاحی، رفاہی) تحریکات برپا ہوئیں، ہر تحریک بالواسطہ یا بلا واسطہ فکر ولی اللہی اور اس کی وراثت کا حق ادا کرنے والی فکر نانوتوی سے ضرور وابستگی رکھتی ہے؛ کیوں کہ حجتہ الاسلام، قاسم العلوم والخیرات حضرتِ امام نانوتوی رحمہ اللہ (بانی دار العلوم دیوبند) کی شخصیت ہی وہ واحد ومنفرد عبقری شخصیت ہے، جس نے ہندوستان کی آزادی سے بہت پہلے ہی "جمہوری ہندوستان” کا نقشہ اور برصغیر کے دینی مدارس کے عوامی چندوں میں منحصر مفید و اثر آفریں نظام پیش فرمادیا تھا۔
 
حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کا ہی یہ امتیاز ہے کہ انہوں نے ایک طرف قوم کے ملی مسائل کے لئے ایسے متبحر علماء تیار کئے جنہوں نے معاشرہ اور سماج کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو ناخدائی وملاحی بخشی اور دوسری جانب باطل طاقتوں کی سرکوبی کے لئے ایک ایسی منظم تحریک برپا کی جس کا اثر پورے عالم اسلام پر نظر آیا، اس فکر کے علماء آج کی زوال پذیر امت میں خال خال نظر آتے ہیں۔
 
اسی فکر سے نہ صرف واقف؛ بلکہ ہم آہنگی رکھنے اور ترجمانی کا فریضہ انجام دینے والے مقتدر علماء کی فہرست میں ایک باوقار نام: استاذ معظم، نائب امیر شریعت (امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ وجھارکھنڈ) حضرت اقدس مولانا محمد شمشاد رحمانی صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ کی شخصیت ہے، جنہوں نے نہ صرف فکر نانوتوی کو سمجھا بلکہ ملک کے طول و عرض اور بیرون ملک میں اس کا بے باکی سے تعارف کرایا۔
 
علم اور اس کی گہرائی سے شناسائی، حکمت اور اس کی دانائی، نظام اور اس کی درستگی، انتظامی معاملات کی کشیدگی اور ان کا حل، اختلافات اور ان کی باریکیاں، اس طرح کے تمام امور پر عبور؛ اگر کسی شخص میں جمع ہو جائے، اس کا مستقبل روشن ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں ہو سکتی۔
 
ان تمام اوصاف و خصائل، امتیازات و تفوقات اور فضائل وکمالات سے متصف حضرت نائب امیر شریعت کی شخصیت ہے، جن کو اللہ تعالی نے مختلف علوم و فنون میں مہارت عطا فرمائی ہے، انتظامی امور ہو یا علم و حکمت کی پیچیدگی، جس جرأت ومہارت کے ساتھ حضرت حل پیش فرماتے ہیں، یہ ان ہی کا امتیازی وصف ہے اور شاید یہ ان اکابرین کا فیض ہے، جس کو انہوں نے مخلصانہ جذبہ اور فنائیت کے ساتھ حاصل کیا، یہی وجہ ہے کہ امیر شریعت سابع، مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب رحمہ اللہ نے ان کو اپنی حیات مستعار میں "نائب امیر شریعت” کے منصب پر فائز فرمایا۔
 
اب تو وقت اور حالات نے یہ ثابت بھی کردیا ہے کہ حضرت امیر شریعت سابع رحمۃ اللہ علیہ کا یہ فیصلہ بالکل درست اور بروقت تھا؛ بلکہ یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے کہ یہ الہامی فیصلہ تھا؛ کیوں کہ ان کی وفات حسرت آیات کے بعد امارت شرعیہ کو جو مسائل درپیش تھے اور پھر امیر شریعت ثامن انتخاب کے اعلان کے بعد جس طرح کا ماحول برپا کیا گیا؛ ایسے حالات میں کسی مرد آہن کی ہی ضرورت تھی، جو ان تلاطم خیز طوفان بلاخیز وطوفان بدتمیزی میں استقامت وثبات قدمی کے ساتھ ملت اسلامیہ کی ناخدائی وملاحی کا فریضہ انجام دے سکے اور امت کی شیرازی بندی کو متزلزل ہونے سے بچا سکے۔ ظاہر ہے کہ جس طرح کی کردار کشی اور بہتان تراشی اور الزامات و اتہامات کی بارش کی گئی، ایسے میں کوئی کمزور دل کا آدمی ہوتا، تو اب تک خود کو مصلحت کی دبیز چادر میں چھپا کر کہیں کسی غار میں پناہ گزیں ہوجاتا؛ لیکن آپ نے صبر وتحمل اور ضبط و استحکام کا مظاہرہ فرمایا اور پوری دیانت داری کے ساتھ اپنے تمام مفوضہ امور کی انجام دہی میں مصروف عمل ہیں۔ اسی کہا جاتا ہے کہ بڑوں کے فیصلے اگر بسا اوقات سمجھ سے بالاتر بھی ہوں، تو ان کی مخالفت میں عجلت سے کام نہیں لینا چاہیے۔ خاص طور پر جب کوئی نباض وقت، مدبر کامل، ولی رحماں، ملت اسلامیہ کا بہی خواہ ودرد مند، قیادت و سیادت کے بے تاج بادشاہ اور بے پناہ خداداد صلاحیتوں اور تجربات کے مالک، نابغہ روزگار عبقری شخصیت فیصلہ کرے۔ تو ایسے میں اپنی رائے ظاہر کرنے میں اور زیادہ احتیاط و ہوشمندی کی ضرورت ہے۔
 
دل سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ان کے علم و کمالات میں مزید پختگی پیدا فرمائے، اور ان کو ان تمام مناصب کے لئے قبول فرمائے، جن کے وہ حقدار ہیں، تاکہ ان کے ذریعہ سے ملک و ملت، خصوصا صوبہ بہار کو بہترین ترجمانی و رہنمائی حاصل ہو۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین!
روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے