جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتفکری وعملی ارتداد کا سد باب اور دینی بیداری

فکری وعملی ارتداد کا سد باب اور دینی بیداری

فکر ی وعملی ارتداد کا سد باب اور دینی بیداری

🖋️:عین الحق امینی قاسمی *

اسلام ایک سچا دین ہے ،دین اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر ہے ،ان پانچ باتوں میں سے پہلی چیز کلمہ ہے ، کلمے میں در اصل توحید ورسالت کا اقرار ہے۔ توحید کا مطلب ہے اللہ کو ایک ماننا ،اسی کو عبادت کے لائق سمجھنا، جب کہ رسالت کا مطلب یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں ،ان کے ذریعے جو دین ہم تک پہنچا ہے وہ دین بھی سچا ہے،اسی پر عمل کرنے میں ہم سب کی نجات ہے۔
جو لوگ صدق دل سے کلمہ کو صحیح پڑھے ،اس کو دل سے مانے اور اس کے تقاضوں پر عمل بھی کرے،وہ مسلمان ہے ۔ ایک مسلمان کو اللہ کی وحدانیت پر اس کے فرشتوں پر،اس کی طرف سے نازل ہونے والی تمام کتابوں پر،اس کے تمام رسولوں پر،آخرت کے دن پر،اچھی بری تقدیر پر کہ وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھائے جانے پر ایمان لانا ضروری ہے۔ایک مسلمان کا عقیدہ تب درست ہوگا یا ایک مسلمان ، مسلمان تب رہےگا جب وہ اللہ کو اپنا رب مانے اور مذہب اسلام کو دین سمجھ کر اختیار کرے ، اور جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو اپنا آخری نبی مان کر ان کی لائی ہوئی شریعت کے مطابق زندگی گذارنے والا بنے، چونکہ دین اسلام ہی اللہ کو محبوب ہے اور اسلام کی پیروی ہی بندے مومن سے مطلوب ہے۔لہذا جو شخص اسلام سے ہٹ کر کوئی دوسرادین تلاش کر ے گا،اللہ تعالی اس نئے دین کو ہرگز قبول نہیں کرے گا ، بلکہ ایسا انسان دائمی نقصان وخسارے میں رہےگا ۔
بسا اوقات گھر یلو اور سماجی زندگی میں بہت سی دفعہ جانے انجانے میں ہم کچھ کام ایسا کر جاتے ہیں جو شر کیہ ہوتے ہیں ۔شرک کا مطلب ہے ،اللہ تعالی کی ذاتی وصفاتی خوبیوں میں کسی مخلوق کو شریک سمجھنا ،اللہ کی خوبی یہ ہے کہ وہ اکیلا ہے ،وہی آسمان وزمین اور ساری قدرت کا مالک ہے ،دکھ اور بیماری سب اسی کی طرف سے ملتی ہے ،غیب کا علم صرف اسی کو ہے ،حقیقی حاجت روا وہی ہے،صحت وشفا اسی کے حکم سے حاصل ہوتی ہے ،نفع نقصان کا مالک وہی ہے ، مارنے جلانے اور عزت وذلت اسی کے قبضے میں ہے ،اس لئے اللہ کے علاؤہ دوسری کسی مخلوق کو ان مذکورہ بالا خوبیوں کا مالک سمجھنا ہی شرک ہے ۔ مثلا : مردوں اور بتوں سے فریاد کرنا، کسی جگہ کا کعبہ شریف کے برا برادب و تعظیم کرنا، کسی کے نام کا بازواور گلے میں پیسہ یا بدھی باندھنا ، نجومی پنڈت وغیرہ سے اپنی قسمت کو جانچا اور فال کھلوانا ، ہولی ، دیوالی ، اور چھٹھ وغیرہ جوخالص ہندوانا تہوار ہیں، ان میں شریک ہونا اور ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق ان کے تہواروں میں ہاتھ اٹھانا ، سوپ چڑھانا ، بلی دینا ، غیر اللہ کے نام پرجانور ذبح کرنا ، نذرو نیاز اتارنا ، ہندوؤں کے مذہبی جلسوں میں شریک ہو کر بھجن کرتن میں دلچسپی لینا ، نیک فالی یا کامیابی کیلئے مندروں میں خود سے یا دوسروں کے ذریعے چڑھاوا پیش کرنا وغیرہ،یہ سب شرکیہ اعمال ہیں، جن سے نیک عمل ضائع اور برباد ہو جاتے ہیں ۔
کبھی کبھی کچھ ایسے الفاظ ہم بول جاتے ہیں جو کفر تک پہو نچا دیتے ہیں، جیسے اللہ اوراسکے حکم کوبراسمجھنا ۔ اس میں عیب نکالنا ، دین اسلام پر تنقید کرنا ، اپنے مومن ہونے پر افسوس کرنا، اللہ کوکوسنا ، اسکی کاریگری میں صلاح دینا ، اسکی حکمت وتدبیر کو ناقص ٹھہرانا ، یا ایسی کسی بھی طرح کی گفتگو جس سے اللہ کی ذات وصفات یا اسکے پسندیدہ دین پر حرف آتا ہو،تو یہ سب کفر یہ اعمال ہیں ۔ایسے اعمال اور ایسے الفاظ سے ہمیں خود بھی پوری طرح متنبہ رہنے اور اپنے رفقاء واہل خانہ کو بھی تنبیہ کرتے رہنے کی سخت ضرورت ہے ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے یا ایھا الذین آمنوا قو اانفسکم و اهلیکم نارا ( اے لوگو!تم اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو بھی جہنم کی آگ سے بچاؤ ) نیز فرمان رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہم سب اس بات کے پابند ہیں کہ منکرات و خلاف شرع امور کو حسب استطاعت ہاتھ سے ، زبان سے روکیں یا تیسرے درجہ میں انھیں دل سے برا سمجھیں اور اس سے نفرت کا اظہار کریں ۔

الغرض: معاشرے میں فکری وعملی ارتداد کے سد باب اورد ینی بیداری کیلئے مسلسل کام کرتے رہنے کی ضرورت ہے ، ایک دو اجلاس سے نہ امر بالمعروف کا ماحول تیار ہو سکتا ہے اور نہ ہی منکرات پر قابو پایا جا سکتا ہے ، البتہ اجتماعی غور وفکر کے بعد کام کا رخ بھی طے ہوتا ہے اور عمومی صورت حال کی پوری جانکاری بھی ہوتی ہے ۔ ہمیں اجتماعی غور و فکرسے کام کا رخ بھی طے کرنا ہے ،تا کہ منکرات پر قابو بھی پایا جا سکے اور سماجی وذاتی زندگی میں دینی بیداری کی ضرورت کا احساس بھی زندہ رہے ۔ اس کے لئے ہمیں مندرجہ ذیل امور پر کام کرنا چاہئے ۔
( 1 ) ہر کلمہ گوا پنی ذات کی اصلاح کی ذمہ داری قبول کرے ( 2 ) ہربستی میں مکا تب دینیہ قائم ہوں ،جہاں بنیادی دینی تعلیم اور عقائد سکھاۓ جائیں ( 3) مسجد وار جماعت کی تشکیل ، ان کی وصولیابی وگشت اور فضائل اعمال کی تعلیم کے ساتھ حسب سہولت عقائد ومسائل اور ترجمہ قرآن کریم کا اہتمام کیا جاۓ ۔ ( 4 ) باضابطہ صباحی یا مسائی تعلیم بالغان کانظم بذریعہ امام صاحب کیا جاۓ ( 5 ) سنجیدہ ومتدین عالم دین کے ذریعے مستورات میں بھی ہفتہ پندرہ دن میں عموی بیان کا سلسلہ قائم کیا جائے ( 6 ) ائمہ مساجد ہر جمعہ کو لگ الگ عملی وسماجی موضوع پر بیان فرمائیں ( 7 ) اپنے اخلاق وکردار کو سنوارنے کی ہرممکن کوشش کرنا ( 8 ) برادران وطن کے ساتھ خوش اخلاقی اور مداہنت کے بغیر رواداری کا مظاہرہ کرنا ( 9 ) باطل فرقے مثلا : قادیانی فتنے ،شکیلی فتنے ، مہدوی فتنے ، اور اس طرح ختم نبوت کی عمارت کو کمزور کرنے والے فتنوں سے متنبہ ، ہوشیار اور باخبر رہنا ( 10 ) مسلک عمل کیلئے ہوتے ہیں ،ان سے چھیڑ چھاڑ اورالجھے بغیر اپنے اعمال کی اصلاح کی فکر کرتے رہنا وغیرہ۔ اگر مذکورہ بالا امور پر ہم دیانت داری سے مسلسل عمل پیرا ہو جائیں تو انشاء اللہ دینی بیداری پیدا کر نے اور فکری وعملی ارتداد کے سد باب کرنے میں ہم کامیاب ہو سکتے ہیں ۔

* نائب صدر جمعیۃ علماء بیگوسرائے۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے