فقیہ أمت مولانا محمد قاسم صاحب مظفرپوری کی شخصیت جبال العلوم کی تھی ، مفتی رضوان قاسمی

58

بیرول 23 / ستمبر ( ممتاز احمد حذیفہ. ) مدرسہ طیبہ منت نگر مادھوپور مظفرپور میں تعزیتی پروگرام میں شرکت کے بعد واپسی پر اس نمائندے سے ایک سوال کے جواب میں جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی نے کہا کہ استاذ محترم قاضی شریعت و شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد قاسم صاحب مظفرپوری رحمۃ اللّٰہ علیہ سابق صدرالمدرسین مدرسہ رحمانیہ افضلہ سوپول بانی و ناظم مدرسہ طیبہ منت نگر مادھوپور مظفرپور کی حیات و خدمات پر ایک اہم تعزیتی نشست کا انعقاد نمونہ سلف نامور بزرگ صفت عالم دین حضرت مولانا محمد اظہار الحق صاحب مظاہری ناظم جامعہ اشرف العلوم کنہواں شمسی کی صدارت ، جناب مولانا عبدالخالق قاسمی و جناب مولانا تقی احمد قاسمی کی مشترکہ نظامت اور مولوی حبیب اللہ سلمہ گیاری کی تلاوت مولانا اسعداللہ قاسمی کے ذریعہ گلدستہ نعت و منقبت پیش کرکے ہوا بعدہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے صدر مرکزی جمیعت علماء سیمانچل جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی استاذ مدرسہ رحمانیہ افضلہ سوپول دربھنگہ نے کہا کہ استاذ محترم حضرت مولانا محمد قاسم صاحب مظفرپوری کی شخصیت جبال العلوم کی تھی ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں حضرت قاضی صاحب ہمارے مخلص استاذ تھے تقریباً ساڑھے پانچ سال مدرسہ رحمانیہ میں ان سے مختلف علوم و فنون کی کتابیں پڑھنے کا شرف حاصل ہوا پھر دیوبند سے فراغت کے بعد فروری 1999ء سے مدرسہ رحمانیہ میں ہی ان کے ہمراہ تقریباً اٹھارہ ( 18 ) برسوں سے زائد تدریسی خدمات انجام دینے کا موقع بھی میسر آیا حضرت قاضی صاحب کے دور صدر مدرسی میں ہی ہماری بورڈ سے بحالی ہوئی مگر اللّٰہ پاک نے ان کو ایسے اوصاف حمیدہ سے نوازا تھا کہ کبھی ان کی ذات سے کوئی رنجشی کیفیت کا احساس دل میں پیدا نہیں ہوا بے شمار چھوٹے بڑے دینی پروگراموں میں بھی ساتھ ساتھ شامل ہوا ہر موقع پر ان کی ذات آئیڈیل بن کر سامنے رہی بلا شبہ حضرت قاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت ملک و ملت کا ناقابل تلافی خسارہ ہے ان کی ذات با برکات گونا گوں خوبیوں کی حامل تھی آپ کامیاب مدرس اور شیریں بیاں خطیب اور مختلف علوم و فنون پر خاص ملکہ رکھتے تھے جاری اپنے تعزیتی کلمات میں صدر مرکزی جمیعت علماء سیمانچل جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی استاد مدرسہ رحمانیہ افضلہ سوپول نے مزید حضرت قاضی صاحب کے تئیں اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ استاذ محترم حضرت قاضی صاحب رحمہ اللہ کی شخصیت جبال العلوم کی تھی اور بہار ہی نہیں بلکہ پوری علمی دنیا کے لئے وہ ایک روشن چراغ تھے مجھ پر ہمیشہ گہری مشفانہ نظر رہی ادھر تقریباً ڈھائی سال سے مجھ پر جو عرصۂ حیات تنگ کیا گیا ہے اس سے کافی ناراضگی کا اظہار فرماتے تھے ان کے شاگرد نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں آپ وقت کے بے پناہ پابند تھے امیرشریعت حضرت مولانا سید محمد ولی صاحب رحمانی دامت برکاتہم نے ایک موقع پر فرمایا کہ کسی جنتی آدمی کو دیکھنا ہو تو مولانا محمد قاسم مظفر پوری کو دیکھ لو اس وقت قرآنی نصوص پر جتنی ان کی گہری نظر ہے شاید ان کا ملک میں ثانی نہیں بے آپ نے مدرسہ رحمانیہ افضلہ سوپول میں رہکر قرب و جوار کے پورے خطے کو اپنے علم و عمل اور اچھے اخلاق و کردار سے بے حد متاثر کیا میں شکر گزار ہوں مدرسہ طیبہ کے موجودہ سرپرست و حضرت قاضی صاحب رحمہ اللہ کے برادر خورد محترم جناب مولانا حافظ محمد ناظم صاحب رحمانی کا اور نوجوان علماء کی ٹیم پر مشتمل مدرسہ طیبہ کے ذمہ داران عزیزان گرامی مولانا حافظ محمد منت اللہ ندوی مولانا تقی احمد قاسمی
مولانا اسرار احمد قاسمی مولانا عبدالخالق قاسمی اور ان کے دیگر رفقاء کا کہ انہوں نے تعزیتی پروگرام کے موقع پر بے پناہ میری عزت افزائی کی اور آئے ہوئے تمام مہمانان کرام کا دل کی گہرائیوں سے استقبال کیا پروگرام میں دربھنگہ سمستی پور مظفرپور مدھوبنی چمپارن سیتامڑھی سمیت مختلف اضلاع کے چنندہ بااثر علماء و مشائخ موجود تھے صدر مجلس نمونہ سلف حضرت مولانا محمد اظہار الحق صاحب مظاہری کی پرسوز دعا پر پروگرام اختتام پذیر ہوا اللّٰہ تا قیامت اپنے سایہ رحمت میں انہیں رکھے آمین ثم آمین ہزاروں سال نرگس اپنى بے نوری پہ روتی ہے: بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا