فضائی آلودگی کے خلاف مضبوط پالیسیاں بڑھاسکتی ہے آپکی عمر 

45

صاف فضا کی جو پالیسیاں جیواشم ایندھن کے اخراج کو کم اور موسمیاتی تبدیلی کو سنبھالنے میں مدد کرسکتی ہیں وہی پالیسیاں انتہائی آلودہ علاقوں میں عوامی زندگی میں پانچ سال جوڑسکتی ہیں اور عالمی سطح پر مدت حیات میں اوسطاً دو سال کا اضافہ کرسکتی ہیں

رپورٹ: ڈاکٹر سیما جاوید – ترجمہ: محمد علی نعیم ‌

اے کیو ایل آئی کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا سب سے آلودہ ممالک کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں اس خطے میں واقع ہندوستان،پاکستان،بنگلہ دیش اور نیپال میں عالمی آبادی کے ایک ربع حصے کے برابر آبادی رہتی ہے اور یہ ممالک دنیا کے سب سے زیادہ 5 آلودہ ممالک میں مسلسل اپنا مقام بنائے ہوئے ہیں

رپورٹ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ چار جنوبی ایشیائی ممالک عالمی ادارہ صحت کے معیارات کو فالو کریں تو یہاں کے باشنگان کی مدت حیات میں اوسطاً 5.6 سال کا اضافہ ہوسکتا ہے

ہندوستان کو دنیا کے سب سے آلودہ ملک کی شکل میں درج کیا گیا ہے، 480 ملین لوگ ہندوستان کے انڈو گینجیٹک پلین(آئی جی پی) میں رہتے ہیں جہاں کی فضائی آلودگی کی سطح شدت کے اعتبار سے دنیا میں کہیں اور پائے جانے والوں سے زیادہ کی شکل میں سب سے زیادہ متاثر ہے

 

اے کیو ایل آئی کے مطابق متوقع اثرات کی شدت پورے شمالی ہندوستان میں بہت زیادہ ہے، یہ وہ علاقہ ہے جہاں فضائی آلودگی کی سطح دنیا میں سب سے زیادہ خطرناک ہے اگر سال 2019 کی طرح آلودگی کا کثیف ہونا جاری رہا تو اس خطے میں جہاں دہلی اور کولکاتہ جیسے بڑے شہر بھی واقع ہے، رہنے والے لوگ اپنی زندگی کے 9 سے زیادہ سال کھو دینگے

 

رپورٹ کے مطابق اگر آلودگی کی جو سطح 2019 میں تھی وہی بنی رہتی ہے تو ملک کی 40 فیصد آبادی جس میں دہلی اور ممبئی جیسے بڑے شہروں کے باشندگان بھی شامل ہیں، اپنی مدت حیات کا 9 سال سے زائد عرصہ گنوا سکتے ہیں

 

آلودگی اب انڈو گینجیٹک پلین سے آگے مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں پھیل گئی ہے جہاں لوگ ہوائی معیار کی وجہ سے 2.9-2.5 سال کی زندگی کھوسکتے ہیں

 

تمباکو نوشی جیسی دیگر طبی مصیبتوں کے بالمقابل فضائی آلودگی عرصہ حیات کو 1.8 سال تک کم کر دیتی ہے، گندا پانی 1.2 سال تک جبکہ شراب اور نشیلی اشیاء کے استعمال کی وجہ سے تقریباً ایک سال کے عرصے کا مدت حیات سے کم ہونا یقینی ہے

این سی اے پی اہداف عالمی طور پر زندگی میں 1.7 اور دہلی کے باشندگان کے لئے 3.1 سال کا اضافہ کرسکتے ہیں

ایک خطرناک اشارہ یہ ہے کہ ہندوستان میں فضائی آلودگی کی اعلی سطح کا جغرافیائی دائرہ وقت کے ساتھ بڑھ گیا ہے، گزشتہ کچھ دہائیوں سے موازنہ کریں تو یہ خاص معاملہ سندو گنگا کے میدانوں کی مشکل ہی نہیں رہ گیا ہے، مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں آلودگی کی سطح میں کافی اضافہ ہوا ہے مثال کے طور پر ، ان ریاستوں میں سال 2000 کے آغاز کے مقابلے میں ہر فرد کی مدت حیات میں اوسطا 2.5 سے 2.9 سال تک کی اضافی کمی ہورہی ہے

اے کیو ایل آئی کے مینجر کین لی نے کہا کہ فضائی آلودگی کا سب سے زیادہ اثر جنوبی ایشیا پر بنا ہوا ہے ، یہ ایک بری خبر ہے لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ اس خطے کی حکومتیں اس مسئلے کی سنجیدگی کو سمجھ رہی ہیں اور اسکے حل کے لئے کام شروع کررہی ہے ، صاف ہوا اور لمبی زندگی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں ہندوستانی حکومت کا نیشنل کلین ائیر پروگرام نیز قومی دارالحکومت کے خطے میں ایئر کوالٹی مینجمنٹ کمیشن کا قیام کیا جانا اہم قدم ہے

 

جنوبی مشرقی ایشیا میں، اے کیو ایل آئی ڈاٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر آلودگی کو کم کرنے کے لئے ڈبلو ایچ او کی ہدایات پر عمل کیا جاتا ہے تو اوسطاً مدت حیات میں پانچ سال کا اضافہ ہوگا ، صاف ہوا کی پالیسیوں کا فائدہ شمالی ہندوستان کے آلودگی ہاٹ اسپاٹ علاقوں میں اور زیادہ ہے جہاں دنیا میں کہیں اور پائی جانے والی آلودگی کی سطح سے دس گنا زیادہ سطح میں 400 ملین لوگ سانس لیتے ہیں

 

جنوب مشرقی ایشیا میں بینکاک ، چی من سٹی اور جکارتہ جیسے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی بڑے خطرے کی شکل میں ابھر رہی ہے ، اگر عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کو پورا کرنے کے لئے آلودگی کی سطح کو قابو میں کیا جاتا ہے تو ان شہروں کے باشندگان اوسطاً 2 سے 5 سال کی مزید زندگی حاصل کرسکتے ہیں، ساتھ ہی وسط اور مغربی افریقہ میں مدت حیات پر آلودگی کے اثرات ایچ آئی وی/ایڈز اور ملیریا جیسے جانے مانے خطروں کے برابر ہے پھر بھی ان پر بہت کم دھیان دیا جاتا ہے مثال کے طور نائیجر ڈیلٹا علاقے میں اگر آلودگی کی رفتار جاری رہتی ہے تواوسطا باشندگان 6 سال کی متوقع زندگی کھونے کے راستے پر ہے

 

اے کیو ایل آئی کے مینجر کین لی کہتے ہیں کہ گزشتہ سال کے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ فضائی آلودگی کوئی ایسی مشکل نہیں ہے جس کو صرف ترقی پذیر ممالک کو حل کرنا چاہیے، جیواشم ایندھن پر مبنی فضائی آلودگی ایک عالمی مشکل ہے جسکے لئے ہر مورچے پر ٹھوس پالیسیاں مطلوب ہوتی ہیں جس میں عالمی موسمیاتی مذاکرات کار شامل ہے جو آنیوالے مہینوں میں مل رہے ہیں اے کیو ایل آئی کا تازہ ترین ڈیٹا ٹھوس صاف ہوا کی پالیسیوں کے لئے لیڈران اور عوام کو لمبی زندگی کی شکل میں جواز فراہم کرتا ہے

 

اس رپورٹ کو مانیں تو جب تک عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کو پورا کرنے کے لئے بین الاقوامی سطح پر فضائی آلودگی پر قابو نہیں پایا جاتا ہے تب تک ایک فرد کے لئے اپنی زندگی کے 2.2 سال گنوانا طے ہے، دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ علاقوں کے رہائشی اپنی زندگی کے 5 یا اس سے زیادہ سال کا وقت گنوا سکتے ہیں

 

چین کا ماڈل: چین ایک اہم ماڈل ہے جو دکھارہا ہے کہ پالیسی شارٹ آرڈر میں آلودگی میں کافی کمی لاسکتی ہے جب سے ملک نے 2013 سے آلودگی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا ہے تب سے چین نے اپنی آلودگی کو 29 فیصد تک کم کرلیا ہے جو دنیا میں فضائی آلودگی میں ہوئی کمی کا تین چوتھائی حصہ ہے، نتیجتاً چین کے لوگوں نے اپنی زندگی میں 1.5 سال جوڑے ہیں یہ مانتے ہوئے کہ تخفیف جاری رہتی ہے ، چین کی کامیابی کو تفصیل میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ چین فضائی آلودگی میں جو کمی چھ سال میں لایا ہے اسے لانے میں ریاستہائے متحدہ امریکہ اور یورپ کو کئی دہائیاں اور مندیوں کی مدت لگی

 

چین کی کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ سب سے زیادہ آلودہ ممالک میں بھی پیش رفت ممکن ہے

 

انسانی جسموں میں نظر نہ آنے والا کام کرتے ہوئے آلودگی کا مدت حیات پر ٹیوبرکلیسس (تپ دق) اور ایچ آئی وی ایڈز جیسے متعدی امراض اور تمباکو نوشی جیسے مہلک فطرت امراض یہاں تک کہ جنگ کے مقابلے میں بھی زیادہ تباہ کن اثر پڑتا ہے

گزشتہ سال کورونا لاکڈاؤن دنیا کے سب سے آلودہ ممالک میں بھی نیلا آسمان سامنے لے آیا جبکہ خشک اور گرم آب و ہوا کی وجہ سے جنگل کی آگ نے ہزاروں میل دور شہروں کے عام طور پر صاف رہنے والے آسمان میں دھواں بھر دیا

یہ دو متضاد واقعات مستقبل کے دو نقطہ نظر پیش کرتے ہیں، دونوں مستقبل کے درمیان کا فرق جیواشم ایندھن کو کم کرنے والی پالیسوں میں ہے

 

مائیکل گرین اسٹون، جو ملٹن فریڈمین اکنامکس میں ممتاز پروفیسر اور شکاگو یونیورسٹی میں انرجی پالیسی انسٹی ٹیوٹ (EPIC) میں ساتھیوں کے ساتھ اے کیو ایل آئی کے قائم کنندہ ہے کہتے ہیں کہ کہ حقیقت میں گزشتہ سال جہاں گندی فضا میں سانس لینے کے عادی لوگوں نے صاف ہوا کا تجربہ کیا اور صاف ہوا والے لوگوں نے اپنی ہوا کو گندا ہوتے دیکھا، یہ بہت واضح ہوگیا کہ پالیسی نے نہایت اہم کردار ادا کیا ہے اور مقامی فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی دونوں میں تعاون دینے والے جیواشم ایندھن کی کمی میں ادا کرسکتی ہے، اے کیو ایل آئی ان فوائد کو ظاہر کرتا ہے جو ان پالیسیوں کے ذریعے سے ہماری صحت کو بہتر بنانے اور ہماری زندگی کو لمبا کرنے میں مدد کرسکتے ہیں