ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراتفرقہ پرستی ملک کیلئے انتہائی خطرناک ، باہمی رواداری اور یکجہتی کے...

فرقہ پرستی ملک کیلئے انتہائی خطرناک ، باہمی رواداری اور یکجہتی کے فروغ کے بغیر ملک کی ترقی ممکن نہیں : مولانا سید ارشد مدنی

مظفرنگر : 25؍ اگست 2021ء (پریس ریلیز)
ملک میں آزادی کے بعد سے جاری فرقہ وارانہ فسادات کو ملک کیلئے خطرناک قرار دیتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے کہا کہ جس طرح ملک میں فرقہ پرستی سر اٹھارہی ہے وہ بہت خطرناک ہے اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو اس کا خطرناک منظر ملک دیکھے گا ۔ یہ بات انہوں نے مظفرنگر کے باغوانوالی میں مظفرنگر فسادات کے متاثرین کو مکانات کی چابیاں تقسیم کرتے ہوئے کہی ۔

فرقہ پرستی ملک کیلئے انتہائی خطرناک ، باہمی رواداری اور یکجہتی کے فروغ کے بغیر ملک کی ترقی ممکن نہیں : مولانا سید ارشد مدنی

انہوں نے کہا کہ وہی حکومت طویل عرصے تک قائم رہتی ہے جو امن وامان قائم کرنے میں امتیاز نہیں کرتی اور نہ ہی اقلیت واکثریت کے درمیان فرق کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو ملک اپنے باشندوں کے درمیان امتیاز کرتی ہے وہ جلد تباہ ہوجاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ وہی لوگ ملک میں آگ لگا رہے ہیں جنہوں نے ملک کی آزادی میں دو کوڑی بھی حصہ ادا نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آخر کس نے اجازت دی کہ وہ ملک میں آگ لگائیں ۔
مولانا مدنی نے کہا کہ پورے ملک میں فسادات کے سلسلے دراز تر ہوتے جارہے ہیں ۔ اس لئے مسئلہ کا حل یہ قطعی نہیں ہے کہ لوگ اپنے گاؤں کو چھوڑ دیں ۔ کیوں کہ ہمارا ملک ہندوستان صدیوں سے امن واتحاد اور محبت کا گہوارہ رہا ہے جس میں تمام مذاہب کے لوگ صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں ۔ مذہبی رواداری ہندوستان کی بنیادی شناخت ہے ۔ہمارے ملک کا آئین ہر شہری کو برابر کے حقوق دیتا ہے اور مذہب ، زبان اور علاقہ کی بنیاد پر کسی شہری کے ساتھ بھید بھاؤ کرنا ہندوستان کے آئین کی روح کے سراسر خلاف ہے ۔ مگر افسوس ادھر چند برسوں سے جس طرح ملک کی فرقہ پرست لابی صرف سیاسی مفادات کی تکمیل کے لئے مذہبی بنیاد پر نفرت کا بازار گرم کئے ہوئے ہے ، اور اقلیت اور اکثریت کے درمیان اختلافات کی دیوار کھڑی کرکے ووٹ بینک کی سیاست کررہی ہے اس سے ملک کے حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہوچکے ہیں ۔
جمعیۃ علماء ہند نے یہ محسوس کیا کہ اگر ملک باقی رہے گا تو صرف انسانیت کی خدمت اور فلاح وبہبود کی بنیاد پر باقی رہے گا اس لئے جمعیۃ علماء ہند نے خدمت خلق کے اپنے مشن کو جاری وساری رکھا ۔ کیوں کہ تفریق کی بنیاد پر ملک تقسیم ہوا ہے اور یہی چیز ملک میں باقی رہی تو ملک پھر ٹوٹ جائے گا اور ہم جب تک زندہ رہیں گے اور ہماری جمعیۃ زندہ رہے گی اسی نظریہ پر قائم رہیں گے ۔ ملک میں فرقہ پرستی کا زہر ہلاہل ہے اور فرقہ پرستی کی بنیاد کو آج ملک کو بانٹنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے مگر جمعیۃ ملک کے اتحاد واتفاق ، بھائی چارہ ، رواداری اور خیرسگالی جذبہ پیدا کرنے کے لئے مسلسل کوشش کرتی رہے گی اور ملک کو کبھی بکھرنے نہیں دے گی ۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی کے بعد ہمارے لاکھوں مسلمانوں ، علماؤں نے اپنی جانوں کی قربانی پیش کی ہے ۔ مگر علماء نے جنگ آزادی کی جدوجہد سے منہ نہیں موڑا اور چین وسکون سے بیٹھنا گوارہ نہیں کیا ۔ 1931ء کی بالاکوٹ کی جنگ کے بعد ان کے شاگردوں نے 1857ء کی جنگ آزادی میں اپنا اہم کردار ادا کیا ۔ اس جنگ کی ناکامی اور ہزاروں علمائے کرام کی شہادت کے بعد بھی ان کے اندر مایوسی پیدا نہیں ہوئی اور مسلسل جدوجہد کرتے رہے اور دارالعلوم دیوبند کا قیام بھی جنگ آزادی کے لئے جیالوں کو پیدا کرنا تھا ۔ ان کے فضلاء نے بیرون ملک سے لیکر ملک تک کے قید خانوں کو آباد کیا ۔

انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد ہمارے علمائے کرام نے مہاتما گاندھی اور پنڈت جواہر لال نہرو کو سیکولر ملک بنانے کا وعدہ یاد دلایا اور سیکولر آئین بھی بنا لیکن آزادی کے بعد مسلمانوں کو دستوری آزادی کے ساتھ جینے کا حق نہیں دیا گیا ۔ فسادات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا ۔ ہر حکومت میں فسادات کا سلسلہ جاری رہا خواہ کسی کی بھی حکومت رہی ہو ۔

جمعیۃ علماء ہند نے فرقہ وارانہ خطوط سے گریز کرتے ہوئے ہمیشہ راحت رسانی اور بازآبادکاری کے کاموں کو انسانیت کی بنیاد پر کام کیا ہے اور کبھی یہ نہیں دیکھا کہ مستفیدین کون ہے ان کا تعلق کس مذہب ، کس علاقے اور کس مسلک سے ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہماری تاریخ رہی ہے کہ ہم نے فرقہ پرستی کے خلاف ہمیشہ لڑائی لڑی ہے اور سب سے پہلے ہم نے اپنوں کی فرقہ پرستی سے لڑائی کی ہے ۔

افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ میں ہر اس ملک کی قدر کرتا ہوں جو اپنے عوام کے ساتھ امتیاز نہ کرتا ہو ۔ اقلیت اکثیریت کے حقوق کا یکساں خیال رکھتا ہو وہ ملک مسلم ملک ہو یا ہندو ملک یا کوئی اور ملک ۔ انہوں نے موہن بھاگوت سے ملاقات کے تعلق سے کہا کہ اگر وہ دوبارہ بلائیں گے تو ضرور جاؤں کا اپنی بات شدت سے رکھوں گا ۔

واضح رہے کہ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے آج مظفرنگر فساد میں بے گھر ہوئے مزید 66 خاندانوں کو آشیانہ فراہم کرتے ہوئے باغونوالی ضلع مظفرنگر میں مکانات کی چابیاں ان کے حوالہ کیں ۔ قابل ذکر ہے کہ اس ہولناک فساد میں ہزاروں خاندان بے گھر ہوگئے تھے اور ان میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جنہوں نے خوف و دہشت کے سبب واپس اپنے گھروں کو لوٹنے سے انکار کردیا تھا ۔ یہ لوگ اب تک مختلف جگہوں پر انتہائی کسمپرسی میں زندگی گزار رہے تھے ۔ جمعیۃ علماء ہند نے اپنی دیرینہ روایت کے مطابق ابتداء ہی سے ان کی ریلیف و امداد کا سلسلہ جاری رکھا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل مختلف مقامات پر 311 مکانات ، مسجد اور مکتب کی تعمیر کرواکر متاثرین کو ان میں آباد کیا جاچکا ہے ۔ مولانا مدنی نے 28؍ مارچ 2019ء کو 151 مکانوں پر مشتمل ایک اور مجوزہ جمعیۃ کالونی کا مظفرنگر کے باغونوالی گاؤں میں افتتاح کیا تھا ، اس وقت ان میں سے تیارشدہ 85 مکانوں کی چابیاں متاثرین کے حوالہ کی جاچکی تھیں ، درمیان میں کورونا کی وجہ سے بازآبادکاری کا کام قدرے متاثر رہا اور آج مولانا مدنی نے بقیہ 66 مکانوں کی چابیاں متاثرین کے حوالہ کیں ، ساتھ ہی اسی کالونی میں متاثرین کے بچوں کی دینی تربیت کے لئے مکتب اور پنج وقتہ نماز کے لئے ایک مسجد کا بھی انتظام کیا گیا ہے ۔ اس طرح سے اب تک مظفرنگر فساد متاثرین کے لئے 466 مکانات تعمیر کرکے ان میں متاثرین کو بسایا جاچکا ہے ۔ مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ 27 ؍ اگست 2013ء میں اترپردیش کے شہر مظفرنگر میں جو فسادات ہوئے انہیں اس لئے بھی بدترین فسادات کی فہرست میں رکھا جاسکتا ہے کہ پہلی بار ایسا ہوا کہ اپنی جان کے خوف سے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنے آبائی گھروں سے نقل مکانی کی ، ان فسادات میں پولس نے حسب معمول بے حسی اور جانب داری کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجہ میں مظفرنگر کے دیہی علاقوں میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوگیا ۔

قبل ازیں جمعیۃ علماء ہند نے راحت رسانی اور بازآبادکاری کا کام ملک گیر سطح پر کیا ہے ۔ 2018ء میں کیرالہ میں جب تباہ کن طوفان آیا تھا اس وقت جمعیۃ نے صرف غذائی اشیاء فراہم کی تھی بلکہ بازآبادکاری کے کام میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا ۔ اس دوران 66 مکان تعمیر کرکے ضرورت مندوں کو سپرد کئے گئے جب کہ 90 مکانات مرمت کرکے لوگوں کے حوالے کردیا گیا ۔ مرمت میں تقریباً ایک لاکھ صرفہ آیا جب کہ نئے مکان کی تعمیر میں ساڑھے چار لاکھ کا صرفہ آیا تھا اور کیرالہ کے اس پورے پروجیکٹ پر سات کروڑ روپے کا صرفہ آیا ۔ مستفیدین مسلمانوں کے علاوہ ہندو اور عیسائیوں کی اچھی خاصی تعداد ہے ۔ کیرالہ کے متاثرین کا مجموعی تاثر یہی تھا وعدے تو سبھی کرکے گئے لیکن کام جمعیۃ علماء ہند اور مولانا سید ارشد مدنی نے کیا ہے ۔ جمعیۃ علماء ہند نے آسام کے بھیانک ترین بوڈو فساد میں راحت رسانی اور بازآبادکاری کی بڑی مہموں میں سے ایک کو انجام دیا ۔ بوڈو مسلم فساد میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ لوگ بے گھر ہوگئے جن میں مسلمان اور ہندو دونوں شامل تھے ۔ جمعیۃ نے وہاں مختلف علاقوں میں 500 سے زائد مکانات تعمیر کرکے لوگوں کو آباد کیا اور حسب سابق جمعیۃ نے مکانات کی تقسیم میں مذہبی وابستگی سے اوپر اٹھ کر ہندو اور مسلمان دونوں کو مکانات دئے ۔ اسی طرح جمعیۃ علماء ہند نے اکتوبر 2009ء میں تلنگانہ میں آنے والے شدید طوفان میں بازآباد کاری اور مالی مدد کے ساتھ غذائی اجناس کی تقسیم کا کام بڑے پیمانے پر انجام دیا ۔ میڈیکل کیمپ قائم کرکے طبی خدمات بھی انجام دی ۔ بہار کے سرحدی اضلاع اور خاص طور پر سیمانچل میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے متاثرین کی راحت رسانی ، بازآبادکاری کیلئے جمعیۃ ہر ضلع میں کیمپ قائم کیا تاکہ ضرورت مندوں کی فوری مدد کی جائے ۔ راحت رسانی کا لمبا چلا تھا جہاں کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ متاثرین کو کپڑے اور سردیوں میں کمبل تقسیم کئے گئے تھے ۔ بھاگلپور ، ارریہ ، پورنیہ ، کٹیہار ، کشن گنج ، سہرسہ اور سپول سے راحت رسانی کے کام کو انجام دیا گیا جس میں تباہ شدہ مکانوں کی تعمیرنو اور مرمت کرکے لوگوں کے سپرد کئے گئے ۔ تقریباً پانچ سو مکانات دئے گئے تھے ۔

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے