فرعونی سیاست کی قرآنی وضاحت

181

فرعونی سیاست کی قرآنی وضاحت
______________________________________
ظلم کی کہانی اگرکہیں دہرائی جاتی ہےتوفرعون کا نام سامنے آجاتا ہے۔ایسااس لئے ہوتا ہے کہ سب سے بڑاظالم کاخطاب انہوں نے اپنے نام کرلیا یے۔ظلم ایک ایسا لفظ ہےجسمیں سب کچھ شامل ہے۔اس لفظ میں گناہوں کی ساری قسمیں پرودی گئیں ہیں۔انسان جب برائی کرتا یےتوبھی وہ ظالم ہے۔دوسروں کی حق تلفی کرتا ہے سووہ ظالم ہے۔اپنے حق میں غیر کے حق میں خدا کے حق میں انصاف نہیں کرتا ہےبلکہ ڈنڈی مارتا ہے،یہ سب کچھ ظلم میں داخل ہے۔قرآن میں شرک کو بڑے ظلم سے تعبیر کیا گیا ہے۔فرعون توخداہونے کادعوی کرچکا یے،لہذااس سےبڑاظالم کون ہوسکتا ہے؟اسمیں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔مگر بحیثیت سیاستدان کے بھی وہ قیامت تک کے لئےایک ایسابدترین سیاستدان ہےجسکی گردن پر اپنی پوری قوم کے خون کاالزام ہے۔ اس طرز سیاست کا بانی وموجد ہےجسمیں ایک لیڈر اپنی ہی قوم کو بہکانے اور گمراہ کرنے کا کام کرتا ہے۔ایسی سیاست جوبھی کرتاہے وہ دراصل فرعونی سیاست کی تقلید کرتا ہے۔اس لحاظ سے بھی فرعون رہتی دنیا تک لعنت کا سزاوار ہے۔
اس انسان نے حکومت کی خاطرپوری زندگی اپنی قوم کوگمراہ کرنےکاکام کیا ہےاورکبھی افہام تفہیم سے کام نہیں لیا ہے۔قرآن کریم میں لکھا ہے:”اوربہکایافرعون نے اپنی قوم کو اور نہ سمجھایا “(سورہ طہ:79)
قرآن نے اس کی بھی وضاحت کردی ہے کہ اس فرعونی سیاست کا نتیجہ پوری قوم کی ہلاکت کے طور پرسامنے آیا۔فرعون بحرقلزم میں ڈوب رہا تھا اور اس کی پوری کی پوری قوم بھی سمندر کی لہروں میں ہچکولےکھارہی تھی۔نہ قوم اپنے بادشاہ پر رورہی تھی اور نہ فرعون اپنی قوم پر افسوس کررہاتھا۔نہ وہ کچھ کرسکتاتھا اور نہ اس کی قوم کرسکتی تھی ،وہ اس لئے بھی کہ اس خاص سیاست کے انجام کو وہ سب پہونچ گئے تھےاور اپنی اپنی ہلاکت کو اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔اور فرعون تو شاعر کی زبان میں یہ کہ رہا تھا :
ہم توڈوبےہیں صنم تم کو بھی لےڈوبیں ہیں ہم۔
فرعون کے ساتھ اس کی قوم اور اس کی یہ سیاست بھی ڈوب گئی ۔قرآن نے قصہ تمام ہوجانے کے بعد یہ قیامت تک کےلئے عبرت کے طور پر یہ اعلان کیاہے کہ اس اجتماعی ہلاکت کی وجہ فرعون ہے۔وہ قوم کا رہبر بنامگر رہبری نہیں کی۔افہام وتفہیم کی جگہ افساد اورسمجھانے کی جگہ پر بہکانے کا کام کیا۔
حضرت موسی وہارون علیہما السلام نے اپنے رسول ہونے کا اعلان کیااورقوم بنی اسرائیل کو غلامی سے آزاد کرنے کی بات کہی توفرعون نے الٹے اپنی قوم سے یہ کہا کہ یہ موسی تمہیں غلام بنانا چاہتے ہیں،تم کو تمہاری زمین اور تمہارے ملک سے نکالنا چاہتے ہیں۔
ادھرجادوگروں کی ذہنی تشکیل شروع کردی اور انہیں بھی بہکانے لگا ،کہ جادوکا فن یہ تمہاری عزت اور کمائی کا ذریعہ ہے۔موسی تمہارے پیٹ پر لات ماررہے ہیں، چلو! چلو !مقابلہ کرو۔پھر جادوگر جب اللہ کی طاقت کو دیکھ کر ایمان لے آئےاور قریب تھا کہ پوری قوم اسلام کے در پر اپنا سر رکھ دیتی، انہوں نے اس واقعہ کو دوسرا رخ دیدیا،یہاں بھی اپنی قوم کو بہکانے لگا کہ ؛یہ جو تم سب اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہو یہ جادوگروں اور موسی کے درمیان سیٹنگ تھی۔یہ فتح وشکست کی اکٹنگ کی گئی ہے،اب دیکھنا میں ان کی ٹانگیں اور ہاتھ کاٹ ڈالتا ہوں۔یہ پھر کبھی سیٹنگ نہیں کرپائیں گے، نہ کسی میدان میں اترپائیں گے،اور موسی کوئی میدان نہیں مار پائیں گے۔
جادوگروں نے واقعی کیا خوب جواب دیا؛کہ اے فرعون تویہ گندی سیاست اسی دنیا میں ہی کرسکتا ہے۔ہم دوسری دنیا کو دیکھنے لگے ہیں۔اسی لئے ایمان قبول کیا ہے۔ایک ایسی دنیاجو کبھی ختم نہیں ہونے والی ہے،ایمان دراصل اسی کی تیاری ہے۔تمہارے چکر میں ہم نے بھی یہ جادووادواورالٹا سیدھا کرلیاہے،خداسے معافی مانگتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں۔تمہارازورختم ہوجانے والا ہےاور اللہ کا نظام قائم رہنے والا ہے وہ ہمیشہ سے ہےاور سدا باقی رہنے والاہے۔
حاصل یہ کہ فرعون نے لیڈرہونے کاحق ادانہیں کیاہے،وہ نام کارہبراورلیڈرتھااور اپنے کو قبطی النسل لوگوں کا سردارکہتا تھا اور کام اس کے برعکس کرتا تھا،لوگوں کو بہکاتا، ورغلاتا اورگمراہ کرتا تھا۔اس کی سیاست جذباتی تھی اوروہ اپنے لوگوں کا بلیک میل کرتا تھا۔ یہ اس نے اپنی قوم کے ساتھ سب سے بڑادھوکہ کیا۔یہ کوئی معمولی غلطی نہیں تھی بلکہ ایک قومی دھوکہ تھاجو قومی ہلاکت کا سامان بھی بن گیا۔
آج پھر اس طرز سیاست کی تقلید کی جارہی ہے۔
کہیں سے دو آدمی تلاش کرلیا جاتا ہےاور اسے موسی وہارون کہ کر پورے ملک کے لئے خطرہ کہ دیا جاتا ہے۔وقتی طور پر کچھ جزوی فائدہ کو دیکھ کر اسے اپنی کامیابی خیال کرتا ہے،جبکہ حقیقت میں اپنے کو اور اپنی قوم کو تباہی کی طرف ڈھکیل رہا ہے۔اور وہ ڈوب چکا ہے اور اپنی قوم کو غرق کرنے کی کوشش میں لگا ہے۔
ع۰۰ہم توڈوبےہیں صنم تم کو بھی لےڈوبیں گے ہم۔
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
رابطہ، 9973722710