فرض کفایہ – شیبا کوثر آرہ

84

ہادیہ صبر و تحمل،اطاعت و رضااور غمخواری جا نثاری کا مجسمہ تھی۔ وہ دلوں کا قرار اور گھر کی سکون تھی۔ خود کو گھر کی ملکہ اور گھر کی جنّت کہلانے پر فخر محسوس کرتی تھی اسے ناز تھا کہ وہ اپنے شوہر کی پرستش عبادت اور چاہت ہے۔ اور گلستان تمنا میں فقط اسی کی حکومت ہے اس کی بدولت شوہر کے دل کا قرار،روح کی لذّت ،جسمانی سکون و تقویت سرور و کیف اور ذہن کی راحت و شادابی ممکن ہے ۔اس لئے ہادیہ اپنے شوہر میز ان حید ر کو ہی اپنا ارمان اپنی پہچان اپنا محافظ اپنی شان اور نجانے کیا کچھ سمجھ رکھا تھا۔

اس کا شوہر میز ان حیدر شہر کے ایک ٹاؤن ہائی اسکول میں سرکا ری ٹیچر کے عہدے پر فائز تھے ۔وہ نو بھائی بہن میں پہلے نمبر پر تھے ان کا خاندان کافی وسیع تھا مگر ہادیہ اپنے والدین کی اکلوتی او لاد تھی اس کے والد رحمٰن علی ایک ڈپا رٹمنٹل اسٹور میں منیجر تھے۔

ہادیہ کا تعلق ایک میڈل کلاس فیملی سے تھا ۔ایم۔ اے کر نے کے بعد اس کے والد رحمٰن صاجب کو اپنے کسی دوست کے توسط سے میزان حیدر کا رشتہ ملا۔ فوراً چھان پھٹک کرنے کے بعد انہوں نے ایک ماہ کے اندر ہی اپنی لاڈلی چہتی بیٹی کی شادی کردی ۔انہیں میزان حیدر ہر لحاظ سے معقول لگا ۔

یہ اور بات ہے کہ اس کی فیملی کافی بڑی تھی مگر انہیں اپنی بیٹی پر بڑا مان تھا کہ وہ ضرور اتنی بڑی فیملی میں خود کو ایڈ جسٹ کر لے گی، چونکہ ان دونوں میاں بیوی نے اسے تعلیم کے ساتھ بہت عمدہ تربیت بھی دی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی لاڈلی بیٹی ہادیہ نے ان کا سر ہمیشہ فخر سے بلند کیا ۔اور خود کا کنبہ کا فی چھوٹا تھا ۔یعنی ہادیہ اس کی پیاری بیٹی حبہ اور کیوٹ سا بیٹا رشان ۔۔۔!

اور میز ان حیدر اس کی خوبصورت زندگی کا ساتھی اس کو بیحد ٹوٹ کر چاہنے والا لائق و فائق شوہر ۔۔۔!!
زندگی کافی پر سکون گزر رہی تھی کیونکہ صبر و قنا عت
ان دونوں میاں بیوی میں بہت تھی ۔یہی بات ان دونوں نے اپنے دونوں بچوں کو سیکھا ئی تھی۔حبہ سیونتھ،کلاس میں تھی اور رشان فا ئیو کلاس میں تھا ۔لیکن دونوں بچچوں نے کبھی والدین سے بجا ضد نہیں کی تھی جو کھلا دیا خوش خوش کھا لیا،جو پہنا دیا خوش ہو گئے ۔

اس لئے میزان اور ہادیہ خود ان بچوں کا بہت خیال رکھتے تھےاور بچت کے پیسوں میں سے ان کیلئے کچھ نا کچھ ضروریا ت کی چیز یں جب انہیں سوغات دیتے تو ان دونوں بچے خوشی سے کھل اٹھتے ۔گھر کے اس پر سکون ماحول کی بدولت ان کے گھر میں ہر وقت اللّه کی برکت رہتی وہ کامیاب خوشگوار ازدواجی زندگی بسر کر رہے تھے ۔
مگر اچانک منہگائ کے گھرتے بادل نے ہادیہ کے کنبے کو جڑ سے اکھاڑ دینے کی پر زور کوششیں کیں۔ پر ایمان و یقین نے اس کھونٹے کو مضبوط و سالم رکھا۔ آچانک مارکیٹ میں ہر چیز کی قیمت آسمان چھونا شرو ع ہو گئیں ۔ضروریات زندگی کے سامان سے لیکر بچوں کے اسکول کی فیس میں بھی اضافہ ہوا۔سفید پوش طبقے کی زندگی عذاب بن کر رہ گئی ۔اور سر چھپانے کی چادر چھوٹی پڑنے لگیں ۔ہادیہ اور لوگوں کی طرح منہگائی کی چکّی میں پسنے لگی، لیکن پھر بھی اس نے ہمت نا ہاری ۔

میز ان حیدر اکثر اس سے کہتا ۔۔۔۔۔۔”ہادیہ میری جان !میں اپنی لگی بندھی تنخواہ تمہارے ہاتھ میں دے دیتا ہوں اور یہ تم کس طرح امور خانہ داری کا انتظام سنبھا لتی ہو،یہ تم ہی بخوبی جانتی ہوگی ۔۔۔۔؟ورنہ جس تیزی سے منہگائ بڑھ رہی ہے اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ ہم جیسے سفید پوش لوگوں کو اپنی عزت کا بھرم رکھنا اب مشکل ہو جائے گا ۔ہر چیز کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے ۔
اللّه تمہیں اس نیک قربانی کا اجر دے گا۔

“ہادیہ اپنے ہونٹوں پر دھیمی مسکراہٹ سجا کر کہتی ۔۔۔اللّه پاک کا شکر ادا کریں میزان وہ ہمیں جس حال میں بھی رکھے یہ اس کا کرم ہے ۔” میزان بے بسی سے مسکرا سر جھکا دیتا۔

زندگی اسی طرح رواں دواں تھی کہ ہمیشہ کے معمول کی طرح ایک دن میزان حیدر صبح آٹھ بجے اپنی موٹر سا ئکل سے اسکول کے لئے نکلے تو لوٹ کر گھر نہیں آئے راستے میں ہی ایک ٹرک سے ٹکر لگ جانے کی وجہ کر وہ روڈ ایکسڈ نٹ میں جائے واقع پر ہی وہ دم توڑ گئے۔

اس افسوسناک خبر نے ہادیہ کی دنیا ہی اجاڑ دی اس پر اور بچوں پر مانوں غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ ہادیہ کے سر سے اس کا اٹھ چکا تھا۔ وہ ایک تناور درخت کی ٹھنڈی چھاؤں سے اچانک ایک تپتے ہوئے صحرا ؤں میں آگئی تھی ۔۔۔۔وہ گھر جو اس کی جائے پناہ تھی ۔۔۔جہاں وہ دلہن بن کر آئ تھی ۔۔۔میزان حیدر کی ہمسفری میں بارہ سال کا خوشگوار سفر اس نے آپنی زندگی کا طے کیا تھا۔۔۔عدّت کے دن گزارنے کے بعد اچانک اسے اس گھر سے بے دخل کر دیا گیا ۔۔۔؟چونکہ میزان حیدر اپنے والدین کے حیات میں قضا کر گئے،اس لئے ان کے بچے شریعتاً ان کی وراثت سے محجوب ہو چکے تھے ۔یہی نظام قدرت ہے وہ اپنے دو معصوم بچوں کو لیکر ایک بار پھر اسی دہلیز پر آ گئی جہاں سے وہ دلہن بن کر رخصت ہوئی تھی بس فرق یہی ہو گیا کہ پہلے وہ اکیلے تھی اور اپنی نئی زندگی کو نئے سرے سے شرو ع کر نے کا ایک مصمم۔ ارادہ لئے تھی ۔۔۔پر آج اپنی بچی ہوئی زندگی کو اپنی اولاد پر صرف کرنا اس کا مقصد حیات تھا ۔کافی مشقت کے بعد اسے انوکمپہ پر میزان حیدر کی چھوڑی ہوئی ٹیچنگ والی ملازمت اسے مل گئی ۔اس نے اللّه کا شکر ادا کیا ۔وہ کہتے ہیں نا کہ وقت بہت بڑا مرہم ہے وہ ہر گھاوُ بھر دیتا ہے لیکن خود اسکی زندگی ایک خلاء بن کر رہ گئی تھی۔میزان حیدر
کے ساتھ گزارے ہوئے وہ خوبصورت دن وہ بے لوث چاہت وہ غرض رفا قتیں ہمیشہ یاد آتی اور سائے کی طرح ساتھ رہتیں ۔۔۔۔جب جب وہ بکھرنے لگتی تو یہ خوبصورت یادیں ہی ہیں جو اس کی ویران زندگی کو سمیٹنے لگتیں ،اس کو جینے کا حوصلہ دیتیں۔۔۔۔۔!

جانے والے تو چلے جاتے ہیں ،اپنے پیچھے یادوں کا ایک جہاں چھوڑ جاتے ہیں ۔دنیا کا سارا کاروبار یونہی چلتا ہی رہتا ہے ۔کل کی ننھی کلی اور ننھے پھول آج بڑے ہو گئے ۔اب وہ میزان حیدر کے چھوڑے ہوئے سبھی ادھو رے فرائض سے سے وہ سبکدوش ہو چکی تھی ۔اس نے اپنے دونوں بچوں کو اعلی تعلیم اچّھے اخلاق و بہترین تربیت کے زیور سے آراستہ کر دیا تھا اور اپنے دونوں بچوں کی مناسب وقت پر شادی بھی کر دی ۔بیٹا رشان اسٹیٹ بینک میں پی او کی پوسٹ پر فائز تھا ۔اور بیٹی حبہ ومینس کا لج میں اسٹینٹ پروفیسر تھی ۔ماشاءالله دونوں بچے گھر بار والے ہو گئے ہیں ۔اور اپنی ماں کے جد و جہد کی بدولت ایک کامیاب خوشگوار ازداواجی ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں ۔اور ہادیہ بھی اب اسکول سے ریٹا ئر ہو گئی تھی۔اب اس کی صرف ایک ہی خواہش تھی کہ وہ کسی طرح حج بیت اللّه کی سعادت حاصل کر کے روضۂ اقدس کی زیارت کر لے اور آب کوثر سے اپنے تمام ظاہر و باطن چھوٹے بڑے گناہوں دھو ڈالے ۔اس نے اپنے اب تک کی پوری زندگی بھر کی محنت کی ہوئی گاڑھی کمائی سے بچت کر کے کچھ رقم کافی عرصے سے جمع کئے ہوئی تھی۔

اب وہ مبارک دن آ گیا تھا ،جس کا اسے بڑی شدّت سے انتظار تھا وہ حج کرنے اپنے بیٹے رشان کے ساتھ جا رہی تھی ۔ایک ہفتے درمیان اس کی فلائٹ تھی ۔اس کی پرواز گیا ایئر پورٹ سے تھی ۔

اس کا گھر روز ہی ملنے جلنے والے تمام اہل خانہ رشتہ داروں اور تمام قرب و جوار کے لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔

وہ اپنے تمام عزیز و اقارب سے اپنے دل کی ساری کدو رت کو مٹا کر اپنے گناہوں کی معافی تلافی کی خواستگار تھی اور تمام لوگوں سے بس یہی دعا کر وا رہی تھی کہ اللّه تبارک تعالیٰ اس کے حج کو قبول فرماۓ اور وہاں کی ابدی زندگی اسے نصیب فرمائے،سبھوں نے ملکر آمین ثم آمین کہا ۔

یونہی بیٹھے بیٹھے یکایک اسے کریمن بوا کی یاد بہت شدت سے آئ کیونکہ وہ دل صاف نیک و صالح خا تون تھیں ،اور میرے روانگی والے دن ہی ان کی بیٹی رحمہ کی شادی ہے ۔وہ اس وقت اپنی بیٹی کی شادی کی تیاریوں میں منہمک ہونگی ۔اس لئے وہ نہیں آ سکی ہونگی،کیوں نا میں ہی ان سے مل آوں پتا نہیں پھر ان سے میری ملاقات ہو یا نہ ہو ،۔۔؟ کریمن بوا کا تعلق ایک متوسط طبقے سے تھا ۔ان کے شوہر فرید بخش کی محلے میں کیرانے کی دکان تھی ۔جس سےوہ اپنے کنبے کی کفالت احسن طریقے سے کرتے تھے ۔ایک دن اچانک انہیں میعادی بخار ہو گیا۔ تین دن بخار کی شدت میں جلتے رہے چوتھے دن وہ علی اصباح۔ انتقال کر گئے ۔اچانک کریمن بوا کی زندگی میں دکھوں کے بادل منڈرانے لگے ۔انہیں خدا کے بعد کہیں کا آسرا نہیں تھا۔

گھر میں فاقے کی نوبت آگئی چونکہ وہ پڑھی لکھی خاتون نہیں تھیں غربت سے تنگ آکر لوگوں کے بہت کہنے پر وہ چند معزز۔ پڑوسیوں کے گھروں میں خادمہ کا کام کر کے اپنی تین جوان بچیوں کا بوجھ اپنے نا تواں کندہوں پر لئے ہوئے تھیں ۔وہ اپنی بیٹی رحمہ کی شادی کے لئے کافی عرصے سے بہت پریشان تھیں ۔اللّه اللّه کر کے بڑی مشقتوں کے بعد انہوں نے رحمہ کا رشتہ طے کیا۔ لڑکا ریلوے میں فورتھ گریڈ۔ ملازم تھا ۔خاندانی لوگ تھے۔دولت شہرت عزت کیا کچھ نہیں تھا ۔ہاں لڑکے نے ایک کلر ٹی وی ،فرج، واشنگ مشین اور عمدہ جہیز کی فرما ئش کی تھی چونکہ سرکاری سر وس کے لالچ میں آکر کریمن بوا نے رشتہ طے کر لیا مگر انکی اوقات ہی کیا تھی وہ چند پڑوسیوں کے گھروں میں خادمہ کا کام کر کے ایک ایک پیسہ جمع کر کے اپنے شوہر کی چھوڑی ہوئی رقم میں کریمن بوا نے بھی کچھ اضافہ کیا ۔مگر دو لاکھ کے اس مختصر رقم میں موجودہ دور میں بیٹی کی شادی ۔۔۔؟انہوں نے اپنے بیٹی کی خاطر اپنے پرائے سب کے آگے ہاتھ پھیلا یا ،بینک سے لون لینے کی کوشش کی لیکن کہیں بات نہیں بنی آخر کار تھک ہار کر ایک صبح جب وہ میرے پاس آئیں اور اپنی نحیف آواز میں بولیں ۔۔۔ ہادیہ بیٹی میں اپنا آدھا گھر فروخت کرنا چاہتی ہوں۔۔۔یہ سن کر میں الجھ میں پڑ گئی اور کہنے لگی ایک کٹھے کا تو مکان ہی ہے آپ کے پاس آدھا بیچ دینگیں تو کہاں رہیں گی ۔۔۔۔۔؟

آدھا ہم بیچ دیں گے تو ہماری رحمہ بیٹی کی شادی ہوجاۓگی ہادیہ !بچی باقی لڑکیاں۔۔؟ان کا اللّه مالک! یہ سن کر میں خاموش ہوگئی ۔میں کریمن بوا کی تکلیف کا احساس بخوبی سمجھ سکتی تھی کیونکہ میں بھی اس راستے سے گزر چکی تھی،جس وقت زندگی دو مہانے پر کھڑی تھی ،وہ زندگی جینے کے جذبوں نے مجھے ہار سے کچھ فاصلے پر رکھا تھا۔ پیر کا دن تھا اور آج ہی میری روانگی تھی اور آج ہی کریمن بوا کی بیٹی رحمہ کی شادی تھی ۔شادی کی ساری تیاریا ں تقریباً مکمل ہو چکی تھی۔
پورا گھر جہیز کے قیمتی سازو سامان سے بھرا ہوا تھا۔

گھر میں کافی رونق تھی۔دور دراز کے اور کچھ قریبی رشتہ دار بھی آ چکے تھے۔ آچانک صبح صبح لڑکے کی والدہ محترمہ نے موبائل فون سے یہ اطلاح دی کہ ہمارے لڑکے کی فرمائش ہے کہ آپ ایک موٹر سائیکل اور پانچ بھر کی چین اسے سلامی کے طور پر دیں ۔کریمن بوا کے لئے یہ برداشت سے با ہر تھا۔دل کی مریض تو پہلے سے ہی تھیں اور یہ منحوس خبر سنتے ہی دل کی دھڑکنیں اور تیز ہو گئیں وہ وہیں پر گر پڑیں۔ اس سے پہلے کہ لوگ انہیں ڈاکٹر کے پاس لے جا نے کے بارے میں سوچتے عین اسی وقت آچا نک ان کے جسم اک عجیب سی حر کت ہوئ اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سا کت ہو گئیں ۔کتنی دردناک تھیں وہ گھڑیاں ۔۔۔اور شادی کا ہنگامہ ماتم میں بدل جاۓ گا۔یہ میرے وہم و گماں میں بھی نا تھا ۔اپنے پرا ئے دوست و احباب سب خوشی کی جگہ غم میں شریک ہو گئے ۔سب لوگ صرف افسوس ہی کر رہے تھے، کوئی ان یتیموں کو یہ دلاسہ نہیں دے رہا تھا کہ رو مت میں ہوں نا ۔۔۔اور میں تو بس ان یتیمو ں۔ کے بے بس آنسو ؤں کے اس سیلاب میں ڈوبی ہوئی تھی ۔کہتے ہیں نا وقت اور حالات سب کچھ بدل دیتے ہیں اور ہمارے ساتھ بھی یہی ہوا ۔

یہ صحیح ہے کہ حج کی ادائگی اسلام کے پا نچ رکن میں سے ایک ہے جو صاحب نصاب پر فرض ہے ۔لیکن اللّه کے ضرورت مند بندوں کی مدد کرنا بھی بندے پر فرض ہے اور وہ بھی کسی یتیم مرحومہ کی بیٹی کو رخصت کرنا اللّه کے نزدیک ایک بیحد مبترک فریضہ ہے ۔ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ اب اگر اللّه تعالیٰ نے چاہا تو انشااللہ زندگی بخیر رہی تو اگلے سال میں حج کے سفر پر جاؤنگی۔فوری طور پر میں نے اپنی ساری رقم مرحومہ کریمن بوا کی بیٹی رحمہ کو رخصت کرنے میں صرف کر دی۔اور باقی دونوں لڑکیوں حسنہ اور سلمیٰ کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے آئ اور ان دونوں بچیوں کو میں نے اپنی سر پر ستی میں لے لیا تھا ۔اس لئے کہ اب وہ دونوں بچیاں میری ذمہ داری تھیں۔