فرانس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی اور اس کےصدر کی حمایت ناقابل برداشت ،علمائے نیپال نے کی سخت مذمت

62

فرانس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی اور اس کےصدر کی حمایت ناقابل برداشت ،علمائے نیپال نے کی سخت مذمت اور فرانس کی مصنوعات پرمکمل پابندی کی اپیل!

انوارالحق قاسمی ڈائریکٹر :نیپال اسلامک اکیڈمی

انسان اس وقت تک مومن ومسلم ہوہی نہیں سکتاجب تک کہ وہ خداوند عالم کواپنامعبود حقیقی تسلیم کرنے کےساتھ ساتھ غمخوار امت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کوآخری نبی ورسول نہ مان لے۔

مومن وہی ہے جوفخرکائنات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کواللہ کامحبوب ومقبول پیغمبر تسلیم کرتاہواورحضوراکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی جان کو اپنی جان،اولاد اوردنیاکےجمیع انسان سےبھی زیادہ عزیز سمجھتاہواور ان کی شان میں ادنی بےادبی وگستاخی قطعابرداشت نہیں کرتاہو۔

یہی وجہ ہے کہ مسلمان ضرورت پڑنےپرہردور اور ہرزمانے میں ہرچیزتوبرداشت کرلیاہے؛مگر نبی پاک صل اللہ علیہ و سلم کی شان عالی میں گستاخی وبدتمیزی تودور،معمولی بےادبی بھی برداشت نہیں کیاہےاورایمانی تقاضا بھی یہی ہےکہ برداشت نہ کرے۔

چوں کہ ایمان موقوف ہے “محبت رسول صلی اللہ علیہ و سلم “پر اور “محبت رسول صلی اللہ علیہ و سلم “ایمان کےلیے موقوف علیہ ہے اور یہ بات بھی اہل علم سے مخفی نہیں ہے کہ موقوف کاوجود موقوف علیہ کےبغیرہوہی نہیں سکتاہے،تومعلوم یہ چلا کہ ایمان کے لیے محبت رسول صلی اللہ علیہ و سلم امرناگزیرہے۔

اس سلسلے میں حدیث مبارکہ بھی ہے ،ترجمہ:تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا،جب تک کہ میں اس کےنزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اورتمام لوگوں سےزیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔

مسلمان بالرأس والعین ہرچیز برداشت کرسکتاہے؛حتی کہ اپنی جان اور اپنی اولاد کی جانیں بھی حفاظت اسلام کی خاطر قربانی کرسکتاہے،مگر مذہب اسلام کی اہانت اور شان رسول صلی اللہ علیہ و سلم میں گستاخی ہرگز ہرگز برداشت نہیں کر سکتا ہے ۔

فرانس میں اہانت رسول صلی اللہ علیہ و سلم اورگستاخانہ خاکوں کی تشہیر اورصدر ایمانوئیل میکرون کےاسلام مخالف بیان پرہرمومن ومسلم چراغ پاہیں اور ہرایک اس گستاخانہ حرکت اوربدتمیزی کی کھلےلفظوں میں مذمت کررہے ہیں، نیز اپنی اپنی حکومت سےفرانس مصنوعات پرمکمل پابندی عائد کرنے کی اپیلیں بھی کررہے ہیں ۔

اس گستاخانہ کارٹون کی اشاعت اورفرانس صدر کی جانب سے اس کی حمایت کےردعمل میں ہفت روزہ اردو اخبار صدائے عام نیپال کے نائب مدیر اورجامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے متعلم حضرت اقدس مولانا انعام عظیم تیمی مدنی صاحب نےکہا:کہ ان دنوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ فرانس اور وہاں کےصدر جو گستاخی کررہاہےوہ اظہرمن الشمش ہے،ہم تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ ہم اپنی استطاعت کےمطابق ان ابوجہل اور ابولہب جیسوں کے خلاف بہ آواز بلند احتجاج کریں،ہم اپنےہرنقصان کو برداشت کریں ؛لیکن ان کےمفاد کےتمام راستوں کو بند کردیں۔

عالم اسلام کو چاہیےکہ ان کی مصنوعات پر پابندی لگائے،چوں کہ جس ملک کا معاشی ارتقا بائیکاٹ کیاجائےوہ ملک گھٹنےٹیکنےپر مجبور ہوجاتاہے،اور ہم اس کےخلاف ہر اس جائزطریقے کو اپنائیں جن سے انہیں کچھ عقل آئے،ہمیں چاہیےکہ ہم جلد ازجلد اپنی زندہ دلی کا ثبوت دیں،ہوش میں آئیں،اوربتادیں کہ ہم اس گستاخی کو معاف نہیں کریں گے۔

معہدام حبیبہ للبنات کے صدرالمدرسین حضرت مولانا محمد نثار احمد صاحب -حفظہ اللہ -نے کہا:کہ واقعی اس گستاخانہ رویےسے عالم اسلام کےتمام مسلمانوں کوسخت تکلیف پہنچی ہے،ہرایک کبیدخاطرہیں ۔

حضرت نے مزید نے مزید کہا:کہ آزادی رائے کاہرگزیہ مطلب نہیں ہےکسی کےمذہبی شخصیات کامذاق اڑایاجائے،تمام مسلمانوں کوچاہیے کہ اس کےخلاف سخت ایکشن لےاور فرانس کےخلاف ہرمسلمان سراپااحتجاج بن جائیں اور اسے ایساسبق سبق سکھائیں کہ پھر کبھی اسے اس کی جرأت نہ ہوسکے۔

حضرت اقدس مولانا عطاء اللہ صاحب قاسمی مکی -زیدمجدہم-نے کہا:کہ فرانسيسي صدر “ايمانويل ميكرون” كا شان رسالت مآب صلى الله عليه وسلم میں گستاخانہ پوسٹر آویزاں کرنا اور اسے حکومتی سطح پر فروغ دینا، نہایت ہی گھٹیا عمل ہے، اسلام دشمنی کی آخری حد اس کمبخت نے پا رکردی ہے۔

ایسے نازک حالات میں جہاں پوری دنیا سے مذمتی بیان جاری ہے، اور مسلم قوم صدائے احتجاج بلند کررھی ھے یہ ناکافی ھے، بلکہ عالم اسلام کے ساتھ ساتھ پوری مسلم قوم فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرے، وہان کے سفارت خانے پر دباؤ ڈالے۔

اس قسم کی بیہودہ حرکتیں مغربی دنیا بار بار کر رہی ھے، کبھی ڈنمارک، کبھی ہالینڈ، کبھی فرانس، یہ ان لوگوں کی بےعقلی اور پاگل پنی ھے،

ناموس رسالت کے حساس مسئلے کو مسلمان اپنےوالد ووالدہ، اہل وعیال بلکہ اپنی جان سےبھی زیادہ عزیز سمجھتا ھے،

اے محسن انسانیت!

ہم شرمندہ ھیں، ہم شرمندہ ھیں.

پوری دنیا کے مسلمانوں سے اپیل ہےکہ ہم کم ازکم ایسے وقت میں جو کرسکتے ہیں وہ ضرور کریں۔

اورفرانس کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ . اور دوسری طرف سیرت نبوی صلی اللہ وعلیہ وسلم کا تعارف غیر مسلموں اور اس سے زیادہ اپنی نئی نسل کو کرائیں.

وأحسن منك لم تر قط عيني وأجمل منك لم تلد النساء

خلقت مبرئا من كل عيب

كأنك خلقت كما تشاء.

معہد ام حبیبہ رضی اللہ عنہا للبنات گروڈانگرپالیکاجینگڑیاکےنائب ناظم حضرت مولانا محمد اسرارالحق صاحب قاسمی نے کہا:کہ اللہ اوراس کےرسول صلی اللہ علیہ و سلم سےمحبت اسلام کابنیادی جزہے،آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی کامل اطاعت تکمیل ایمان کاسبب ہے۔

حال ہی میں فرانس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی شان اقدس میں گستاخانہ کارٹون اور صدر کی طرف سےاس کی حمایت سے اس دنیاکےتمام مسلمانوں کوسخت اذیت پہنچی ہے ،اس کااندازہ ان چند سطروں میں انتہائی مشکل ہے۔

نیپال حکومت کوچاہیےکہ مسلمانوں کی حمایت کرتےہوئے،کم ازکم اس کی جملہ مصنوعات پرفی الفور پابندی عائدکرے۔

 

مدرسہ عائشہ للبنات کے ناظم اعلی حضرت مولانا محمد شعیب احمد صاحب -مدظلہ العالی-نے اس گستاخانہ حرکت کی شدید مذمت کی ہے۔

حضرت نے کہا:کہ عنقریب اس معاملہ کولےکر جمعیت علمائے نیپال فرانس ایمبسی میں جاکراپنااحتجاج درج کرائےگی۔

ناچیز :انوار الحق قاسمی :ڈائریکٹر :نیپال اسلامک اکیڈمی بھی آقائے نامدار محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و سلم کی شان عالی میں گستاخی سےسراسیمہ ہے اور ہرایک مسلمان سے اس کےہرایک مصنوع کی خرید و فروخت سےگریزکی درخواست کرتاہے۔