فثبت عن السنۃ: ان رھن الدرع عند الیھود سنۃ

50

تاریخ میں کچھ نیا کم ہوتا ہے، زیادہ تر تاریخ خود کو دہراتی ہے.. کردار اور کرداروں کے نام، صورت، اور واقعات کا وقت بدلتا رہتا ہے.. پانی ہوا اور روشنی کی مدد سے زمین کی روئیدگی کی صلاحیت قائم رہتی ہے، اور کاشت باراور ہوتی ہے.. اسی طرح انسانی سرشت بھی ہوس زر سے جولانی پکڑتی ہے،، جاہ ومنصب کی طمع اس جولانی کو مزید مہمیز لگاتی ہے اور ولایت امر اور ولاۃ الامور کی اطاعت مطلق کی ایسی ہوش ربا تشریح و تعبیر تراشی جاتی ہے کہ بیربل کی مسخری ذہانت بھی دانت سے انگلی دبا لیتی ہے.. اور یہ سب کچھ منبر ومحراب پر قابض بنوامیہ کے بندر کرتے ہیں.. رسول اللہ کا یہ خواب تاریخ میں ایک بار تعبیر آشنا نہیں ہوگا، بلکہ انسانی ذہن کے زوال کے ہر عہد میں یہ ہوتا رہے گا.. بندروں کا قد کاٹھ بدلے گا لیکن منبر رسول کی بے حرمتی وہ ضرور کریں گے.. کیونکہ میرے نبی کا خواب، خواب وخیال نہیں ہوتا، وہ حقیقت کا ارتسام اور اس کی تمثیل ہوتی ہے..

ایسا لگتا ہے کہ بنوامیہ کا عہد واپس آچکا ہے.. اور خطیب حرم بعینہ وہی کردار اوڑھ بیٹھا ہے، جو بنوامیہ کے وظیفہ خوار خطباء ادا کیا کرتے تھے.. فرق یہ ہے کہ خطبہ کے وقت وہاں سونتی ہوئی تلواریں ہوا کرتی تھیں، اب یہ کام عدالتوں میں بٹھائے گئے باریش دراز بے رحم قاضی کرتے ہیں..

خطیب حرم کا خطبہ سننے کے بعد مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی. مجھے ان کے دلائل کا علم پہلے سے تھا.. ہاں حیرت اس پر ضرور ہے کہ ان حدیثوں کا نزول مجوزہ سعودی اسرائیلی معاہدہ سے عین قبل ہوا ہے.. ایسا لگا کہ یہ حدیثیں خطیب حرم کے قلب منور پر ابھی بھی نازل ہوئی ہیں.. اور اگر کسی وجہ سے یہ معاہدہ رہ گیا تو آپ یقین کریں کہ چچازاد بھائیوں کی مغضوبیت، ملعونیت، عہد شکنی، اور امت محمد کے خلاف ان کے عناد پر شہادت دیتی ساری آیتیں پھر سے نازل ہوں گی،، اور یہی حرم کا پروہت ان کی ایسی تشریح کرے گا کہ ایسی تشریح دل پذیر، اپنشد نے ویدوں کی بھی نہیں کی ہوگی..

میں تو اس انتظار میں تھا کہ محمد بن سلمان کو یہ باتوفیق خطیب حرم یہ مشورہ کب دے گا کہ اطاعت رسول میں، مرنے پہلے، اپنی زرہ اسرائیل /یہود کے یہاں رہن رکھنا عین سنت رسول ہے.. لیکن آپ خاطر جمع رکھیں،

“تصحیح عقیدۃ المسلم بالف ریال شھریا ” کا پروجکٹ چلانے والے یہ کار خیر جلد ہی کر ڈالیں گے.. اگر خطیب حرم پاک اس “کار خیر بار” سے چوک گیا.. لیکن وہ ہرگز نہیں بھولے گا، کیوں کہ اس کے آس پاس “مذکرین” بذکری نافع المومنین کا ایک پورا طائفہ ہے.. جس کا فریضہ ہے کہ ولی الأمر کے ہر اقدام کی تائید قرآن وسنت سے پیدا کرے.. اور جو قیاس، رائے، اجتہاد تمام ائمہ فقہ کے لئے وجہ طعن ہو ولی الأمر کی خاطر اپنے لئے حلال کرلے..

عرب مدتوں سے زرہ پوش نہیں رہے، اس لئے یہود کے پاس برائے رہن ان کے پاس زرہ بھی نہیں رہی.. اب اس سنت” رہن عند الیہود” کی تعمیل کے لئے، خطیب حرم زرہ کا متبادل کیا تجویز کرتا ہے،، یہ خاصے کی چیز ہوگی..

اب آگے اسی کا انتظار رہے گا.