بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراتفتنہ ارتداد اور دیگر سماجی برائیوں کے خلاف تنظیم ائمہ مساجد کی...

فتنہ ارتداد اور دیگر سماجی برائیوں کے خلاف تنظیم ائمہ مساجد کی جانب سے اصلاحی تحریک کا آغاز

دینی تعلیم اور تربیت کے ذریعے ہی حالات کو قابو کیا جاسکتا ہے: مفتی امارت شرعیہ

سہرسہ،١٩/ اگست(وجیہ احمد تصور)
مذہب اسلام نے شادی کو جتنا آسان بنایا ہے ہمارا معاشرہ نے  رسم و رواج کے چکر میں اتنا ہی مشکل ترین بنادیا ہے، آج شادی میں رسم و رواج اس قدر بڑھ گیا ہے کہ لوگ سود لیکر اپنی بچیوں کی شادی کرنے پر مجبور ہیں مگر قرض ادا کرتے کرتے ان کی زندگی ختم ہو جاتی ہے یا خودکشی کرکے اپنی زندگی ختم کر لیتے ہیں، آخر اس بڑھتے بوجھ کے ذمہ دار کون ہیں؟ کیا ہم سب اپنی ذمہ داری سے بچ سکتے ہیں؟ کیا علماء اور آئمہ کرام سماج میں پھیلتے جارہے برائیوں کو ختم کرنے کے لئے پہل نہیں کرسکتے ہیں؟ خوشی کی بات ہے کہ تنظیم آئمہ مساجد نے وقت اور حالات کے مدنظر اس سماجی لعنت کو ختم کرنے کے لئے سماج کو بیدار کرنے کی پہل کی ہے_
ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ بہار، اڈیسہ و جھارکھنڈ کے مفتی حضرت مفتی سعید الرحمن قاسمی نے تنظیم آئمہ مساجد کے زیر اہتمام  "فتنہ ارتداد، اسباب اور حل” کے موضوع پر منعقدہ پروگرام میں صدارتی خطاب کے دوران کیا، قاری نصراللہ کی نظامت میں رانی باغ جامع مسجد میں منعقد اس پروگرام کے مہمان خصوصی مقامی ممبر پارلیمنٹ و مرکزی حج کمیٹی کے سابق چیئرمین چودھری محبوب علی قیصر نے تنظیم آئمہ مساجد کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سماج میں بیداری لانے کے لیے کافی بہتر شروعات ہے لیکن یہ مہم لگاتار جاری رہنی چاہیے. انہوں نے کہا کہ مٹھی بھر آبادی والا یہودی آج تعلیم کی بدولت ساری دنیا پر راج کر رہا ہے اس لئے اگر کامیابی چاہتے ہیں تو تعلیمی میدان میں انقلاب پیدا کیجئے کیونکہ سائنس کے اس دور میں بغیر تعلیم کے آپکی حیثیت زیرو ہے. پروگرام کے سرپرست اور علاقہ کی معززشخصیت اسلامیہ ہائی اسکول کے سکریٹری سید قسیم اشرف نے کہا کہ شادی بیاہ میں رسم و رواج کے نام پر جو خرافات ہو رہی ہیں اس کو بند کرنے، براتی کے لاؤ لشکر والی سوچ کو  بدلنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں تنظیم آئمہ مساجد نے جو سماج سدھار کا جو بیڑا اٹھایا ہے اس میں سبھی کو شانہ بہ شانہ ساتھ دینے کی ضرورت ہے، تنظیم ائمہ مساجد کے صدر اور جامع مسجد رانی باغ کے امام و خطیب حافظ محمد ممتاز رحمانی نے کہا کہ اپنی بچیوں کو عصری تعلیم ضرور دلوائیں لیکن ان پر خصوصی نگاہ رکھیں کیونکہ آج ہم غیروں کے نشانے پر ہیں اور سنبھل کر نہیں چلے تو دنیا و آخرت دونوں کی بربادی مقدر بن جائے گی. انہوں نے حالات کے پیش نظر مسجد، عید گاہ اور قبرستان کو وقف بورڈ سے رجسٹرڈ کرانے پر زور دیا. تنظیم آئمہ مساجد کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد مظاہرالحق قاسمی نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کو ارتداد کے روک تھام کے لئے سخت محنت کی ضرورت ہے اور اس کے لیے گاؤں گاؤں میں جاکر لوگوں کو حالات سے واقف کرانے اور انہیں بیدار کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے انہوں نے سرکردہ شخصیات کو آگے آنے کی اپیل کی. تنظیم کے نائب صدر مولانا محمد ضیاء الدین ندوی نے کہا کہ ملک یا علاقائی سطح پر کوئی بھی فتنہ ہو یا قوم پر کوئی آنچ آتی ہے تو تنظیم آئمہ مساجد نے آگے بڑھ کر اس کے خلاف آواز بلند کی ہے اور عوام کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے. آج بھی ہم لوگ ایک نئے مہم کی شروعات کر رہے ہیں جس کے لئے ہر گاؤں کے سرگرم اور سرکردہ لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہے جو تنظیم کے اس مہم میں قدم سے قدم ملا کر ساتھ دے سکیں. اس موقع پر ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے تنظیم کا ہر گاؤں میں کمیٹی بنا کر اور گاؤں گاؤں جاکر بیداری مہم چلانے کا فیصلہ لیا گیا کیونکہ موجودہ حالات میں تیزی سے پھیلتے جا رہے فتنہ ارتداد کی روک تھام کے لئے لوگوں کو خاص طور پر نئی نسل کو بیدار کرنا بہت ضروری ہے دیگر قرارداد کے مطابق نکاح کو آسان بنایا جائے اور رسم و رواج کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے، تلک جہیز والی شادی میں شرکت سے گریز کیا جائے، مسجد میں نکاح انجام دیا جائے، گھروں میں دینی تعلیم کا نظم کیا جائے، مسلم بچیوں کو غیر مسلم لڑکوں کے رابطے سے روکا جائے، بچوں کی آمد و رفت کے وقت پر نظر رکھی جائے، ہر گاؤں میں خواتین کا دینی اجتماع کیا جائے مخلوط تعلیم اور انڈرائڈ موبائل سے حت الامکان بچنے کی کوشش کی جائے. اس موقع پر کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جن میں مولانا سید جاوید اشرف، مولانا محب اللہ اشاعتی، مولانا نہال احمد، مولانا رضوان عالم، مولانا عادل، مولانا اشتیاق قاسمی، مولانا برکت اللہ، مولانا رضوان قاسمی، قاری سید منظر امام، مفتی سجاد، حافظ شکیل، حافظ کوثر، پروفیسر نعمان خان، الحاج منہاج عالم، حافظ رضوان عالم، اقبال عرف گڈو، نورالہدی عرف منا، حافظ فیروز، محمد اعظم صاحب بھادا، سرور عالم، ماسٹر عبدالسبحان، ماسٹر ماہر، محمد شاہد، مسعود جاوید اختر، عبدالباسط، ماسٹر اسرائیل، عبدالصمد، ماسٹر سلطان، سید کمال اشرف، الحاج فخر الدین صاحب، الحاج جاوید اختر، مفتی فیاض عالم ،سہیل احمد وغیرہ شامل تھے_

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے