غوث اعظم عبدالقادر جیلانی رحمۃاللہ علیہ کا علمی مقام

98

محمد اورنگزیب عالم مصباحی (گڑھوا جھارکھنڈ)

مکرمی!

 

اللہ رب العزت کا بڑا کرم اور بے پناہ احسان ہے کہ اس نے ہر دور میں ہمیں راہ راست پر پر لانے کا انتظام و انصرام فرمایا جیسے ہمارے سرکار تاجدار ختم نبوت جناب احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیاء کرام دنیا میں تشریف لاتے تھے مگر جب نبوت کا دروازہ بند ہو گیا تو اللہ تعالی نے ہماری ہدایت کے لئے وارث انبیاء یعنی اولیاء کرام، مجتہدین عظام اور علمائے ذی الاحترام کو اس خاکدان گیتی پر بھیجتا ہے جن کے سپرد مختلف دینی کام ہوتے ہیں

یوں تو کبھی اولیاء مجتہدین اور علماء کا طبقہ الگ الگ شمار کیا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ سب اللہ کے نیک بندے ہیں سب کا کام بھٹکے ہوؤں کو راستہ بتانا ہے آج ہم ایسی شخصیت کے بارے میں بات کریں گے جو تنہا ولی ہی نہیں بلکہ ولیوں کے سردار اور اس کے ساتھ ساتھ استاد العلماء بھی تھے ہم بات کر رہے ہیں پیر پیراں میر میراں شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی

ہمارے ہندوپاک میں معمول یہ ہے کہ جب کبھی اولیائے کرام کے ایام منائے جاتے ہیں تو اس کے متعلق کانفرنسز یا محافل میں اکثر و بیشتر موضوعات کرامات ہوتے ہیں حالانکہ کہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہم صرف اولیاء کرام کی کرامات کے ساتھ ساتھ ان کی حیات کے دیگر گوشوں پر بھی روشنی ڈالی جائے کہ ان کے علمی بصیرت کیا تھی معاشرتی انداز اور سیاسی کردار اور عوام الناس میں بھلائی اور سخاوت کا کیا مرتبہ تھا تاکہ انہیں دیکھ کر ہمارے موجودہ دور کے طلباء ان کے طریقے کو اپنائیں دور حاضر میں یہ طریقہ رائج ہے کہ اولیاء کا مقام و مرتبہ ان کے کرامات سے لگاتے ہیں حالانکہ یہ غلط ہے کیونکہ جو اللہ کے ولی ہوتے ہیں ان کے مقام و مرتبہ کے کئی گوشے ہوتے ہیں اور انہی گوشوں میں سے ایک کرامت ہے پھر اللہ کے جو ولی بظاہر کرامت کے حامل نہیں ہوتے ان کے بارے میں لوگ بالکل بھی کچھ نہیں جانتے اور اللہ کے نزدیک ان کا مرتبہ بہت بلند ہے حضور غوث الاعظم کے صرف کرامات ہی مشہور نہیں بلکہ ان کے بارے میں آئمہ محدثین کے بہت سے اقوال ہیں اور ان کے دور کے جلیل القدر آئمہ آپ کے تلامذہ تھے جنہوں نے آپ سے علم حدیث علم تفسیر اور علم فقہ علم نحو وصرف اوردیگر علوم بھی پڑھی آپ ہر روز اپنے درس میں تیرہ سے زائد علوم کا درس دیتے تھے اور بعد نماز ظہر قرأت قرآن جیسا اہم مضمون پڑھاتے تھے جس سے آج بہت کم لوگ واقف ہیں اور 90سال کی عمر تک درس و تدریس میں مشغول رہے

غوث پاک تکمیل علم دین اور زہد و مجاہدہ کے طویل سفر کے بعد وعظ و تدریس کا آغاز استاد گرامی حضرت ابو سعد مخرمی رحمۃ اللہ علیہ کے قائم کردہ مدرسہ سے کیا

غوث پاک کے وعظ و تدریس کی شہرت اس قدر بڑھی کہ یہ مدرسہ عاشقان علم دین کی تعداد کو اپنے اندر سمونے سے قاصر تھا پھر اس کی توسیع ہوئی(المنتظم)

آپ سے استفادہ کرنے والے طلباء کی تعداد تقریبا ایک لاکھ ہے جن میں فقہا کی بہت بڑی جماعت شامل ہے (مرآۃ الجنان)

حضور غوث پاک کے علمی بصیرت کا یہ عالم تھا کہ مسئلہ کتنا بھی پیچیدہ ہو اسے ایک پل میں حل فرما دیتے اور چار سو علماء آپ کے واعظ کے ذریعے علم و حکمت کے لازوال موتیوں کو محفوظ کرنے کے لئے حاضر ہوتے (نزہۃ الخاطر)

حضرت عبداللہ خشاب علیہ الرحمہ نے بھی غوث پاک کے تدریسی شہرہ سن رکھا تھا ایک روز آپ ان کی بارگاہ میں شریک درس ہوئے جب آپ کو نحوی نکات نہ ملے تو دل میں وقت ضائع ہونے کا خیال گزرا اسی وقت غوث اعظم متوجہ ہوئے اور فرمایا ہماری صحبت اختیار کر لو ہم تمہیں علم نحو کے امام سیبویہ کا مثل بنا دیں گے یہ سن کر حضرت خشاب نحوی وہیں مستقل ٹھہر گیے(قلائد)

ایک دن حضور غوث پاک کسی آیت کی تفسیر بیان فرما رہے تھے وہاں ابو الفرج عبدالرحمن بن الجوزی بھی شریک درس تھے غوث اعظم نے اس ایک آیت کی چالیس تفسیریں بیان فرمائی جن میں ابن الجوزی کے علم میں گیارہ ہی تفسیریں تھیں باقی 29تفسیروں کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا پھر غوث پاک نے فرمایا کہ اب قال سے حال کی طرف چلتے ہیں تو لوگ مضطرب ہو گیے(قلائد)

آپ کے تلامذہ نہ صرف وقت کے مجتہد اور فقیہ بلکہ اور بھی کئی بڑے عہدے پر فائز تھے جیسے سلطان نورالدین زنگی نے تلمیذ غوث اعظم حضرت حامد بن محمود علیہ الرحمہ کو حرّان کا قاضی اور مدرس مقرر فرمایا اور تلمیذ غوث پاک حضرت زین الدین علی بن ابراہیم سلطان صلاح الدین ایوبی کے خاص مشیر تھے

سلطان صلاح الدین ایوبی نے جس لشکر کے ذریعے القدس کو فتح کیا اس لشکر میں شامل لوگوں کی اکثریت غوث پاک کے مریدین اور تلامذہ کی تھی گویا آپ کی بارگاہ کے فارغ التحصیل طلبہ صرف مجتہد ہی نہیں بلکہ عظیم مجاہد بھی تھے