بدھ, 30, نومبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتغوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مختصر سوانح 

غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مختصر سوانح 

غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مختصر سوانح
تمام علماء و اولیاء کا اس‌بات پر اتفاق ہے کہ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مادر زاد یعنی پیدائشی ولی ہیں آپ کی پیدائش رمضان ۴۷۰ھ میں ایران کے شہر مغربی گیلان‌ میں ہوئی اس لیے اس طرف منسوب کرتے ہوئے آپ کو گیلانی بھی کہا جاتا ہے آپ کا شجرہ نسب والد کی طرف سے حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور والدہ کی طرف سے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سے جا‌ ملتا ہے اس طرح آپ نجیب الطرفین سید ہیں آپ بچپن سے ہی اعلیٰ خوبیوں کے حامل تھے عام طور پر بچے کھیل کود‌ کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں لیکن‌ آپ بچپن سے ہی کھیل کود‌ اور لغو چیزوں سے دور رہے آپ خود فرماتے ہیں کہ جب بھی میں بچوں کے ساتھ کھیلنے کا‌‌ ارادہ کرتا تو میں سنتا تھا کہ کوئی کہنے والا مجھ سے کہتا تھا اے برکت والے میری طرف آ جا۔ ایام طفولیت میں آپ کے والد محترم ابو صالح موسی جنگی دوست رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ہو گیا والدہ ام الخیر فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور نانا حضرت عبداللہ صومعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زیر سایہ آپ نے تربیت پائی۔  کچھ لوگوں نے آپ سے دریافت کیا کہ آپ کو آپ کی ولایت کا علم‌ کب ہوا تو آپ نے فرمایا دس سال‌ کی عمر میں جب میں مکتب جاتا تھا تو فرشتے فرماتے افسحوا لولی اللہ (اللہ کے ولی کے لیے جگہ کشادہ کر دو) بچپن ہی میں آپ کو اپنی ولایت کا علم‌ ہو گیا تھا۔ آپ نے بچپن ہی میں حفظ قرآن مکمل کر لیا‌ تھا اور جب آپ کی عمر شریف اٹھارہ سال کی ہوئی تو تحصیل علم کے لیے بغداد کا قصد کیا اور اپنی والدہ ماجدہ سے کہا مجھے خدا کے کام‌‌ میں لگا‌ دیجیے تاکہ میں دین متین کی خدمت کر سکوں اور اجازت مرحمت فرمائیے کہ بغداد جا کر علم حاصل کروں والدہ کا اجازت دینا اور اپنے لخت جگر کو خود سے دور کرنا دشوار گزار امر تھا تاہم خدا کی رضا و خوشنودی کے لیے اجازت مرحمت فرما دی پھر آپ سخت اور دشوار گزار راستوں کی صعوبتوں کو برداشت کر کے ۴۸۸ ھ میں بغداد شریف پہنچے طالب علمی کے دوران آپ کو بے شمار تکالیف اور انتہائی مشکل حالات سے دو چار ہونا پڑا مگر ان تمام مشکلات پر آپ نے‌ صبر کیا اور کبھی بھی یہ مشکلات آپ کے مقاصد کے راہ میں حائل نہ ہو سکیں۔ اس وقت کا سب سے بڑا مدرسہ مدرسہ نظامیہ میں آپ نے داخلہ لیا جس میں عالم‌ اسلام کے قابل قدر اساتذہ کرام پڑھایا کرتے تھے رخصت ہوتے وقت آپ کی والدہ نے آپ کو چالیس دینار دیا تھا جو چند ماہ میں ہی ختم ہو گئے تھے اس کے بعد آپ فاقہ پر فاقہ کرتے رہے کئی سالوں تک دریائے دجلہ کے کنارے کھالی گھاس اور سبز پتوں کے سہارے زندگی بسر کی دن‌‌ بھر پڑھتے اور رات بھر فاقے کی اذیتوں میں گزارتے مگر ان سب کے باوجود انہوں نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور کبھی شکایت کا‌ ایک لفظ بھی اپنی زبان پر نہ لایا۔ آپ فرماتے ہیں کہ جب بغداد میں قحط سالی ہوئی تو کئی روز تک میں نے کھانا نہیں کھایا ایک دن بھوک کی شدت نے مجھے بہت ستایا تو میں دریائے دجلہ طرف چلا گیا کہ شاید وہاں سبزی کے پتے مل جائیں جو لوگ سبزی دھوتے‌ وقت پھینک دیتے تھے میں‌ جہاں جاتا لوگو کا ہجوم اسے مجھ سے پہلے اٹھا لیتا تھا آخر کار میں بھوکا ہی شہر واپس آ گیا اور مسجد کے ایک گوشے میں جا‌ کر بیٹھ گیا اسی اثنا میں ایک نوجوان روٹی اور بھنا ہوا گوشت لے کر آیا اور کھانے لگا بھوک کی شدت کی وجہ سے میرا یہ حال تھا کہ جب وہ لقمہ اٹھاتا تو میں اپنا منہ کھول دیتا میں نے اپنے نفس کو اس حرکت سے منع کیا اتنے میں اس نے میری طرف دیکھا اور کہا آؤ بھائی تم بھی کھانا کھاؤ! میں نے انکار کیا تو اس‌ شخص نے مجھے قسم‌ دی‌ اور کھانے‌‌ پر مجبور کیا پھر اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ ایک نوجوان جس کا نام‌ عبدالقادر ہے کیا اسے جانتے ہو ؟ میں‌ نے کہا وہ میں ہی ہوں تو وہ بہت بے چین ہوا اور کہا خدا کی قسم یہ آپ کی امانت ہے جو آپ کی والدہ نے مجھے آپ کو پہنچانے کے لیے دیا تھا میں تین روز فاقے سے تھا اس لیے مجبور ہو کر آج آپ کا یہ روٹی اور گوشت کھانے کے لیے بیٹھ گیا اس لیے یہ آپ کا ہی ہے اور میں اب آپ کا‌ مہمان ہوں آپ فرماتے ہیں میں نے‌ اسے تسلی دی اور اپنی خوشنودی کا اظہار کیا پھر اسے کچھ نقدی اور بچا‌ ہوا کھانا دے کر رخصت کیا۔ سخت محنت و مشقت سے علم‌ حاصل کرنے‌‌ کے بعد آپ نے بغداد شہر کو چھوڑ عراق کے صحراؤں اور جنگلوں میں ۲۵ سال تک سخت عبادت و ریاضت کیا چالیس سال تک آپ نے عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا‌ کی سخت عبادت و ریاضت کرنے کے بعد آپ دوبارہ بغداد تشریف لائے اور درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور لوگوں کی ظاہری اور باطنی گندگی کو دور کرنے لگیں جلد ہی پورے بغداد میں آپ کے نیک نامی‌ کی شہرت پھیل گئی اور لوگ دور دور سے آپ کی بارگاہ میں آ کر فیضیاب ہونے لگے آپ نے اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں بھرپور حصہ لیا اور لوگو کو اسلام سے قریب کرتے رہیں۔ یوں‌ تو آپ کی بے شمار کرامتیں ہیں ان‌ میں ایک کرامت بہت مشہور ہے کہ آپ ماہ رمضان میں طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک کبھی بھی دودھ نہیں پیتے تھے آپ کے کرامتوں کا ظہور بچپن ہی سے شروع ہو گیا تھا اور پوری زندگی میں بے شمار کرامتوں کا ظہور آپ سے ہوا آپ صاحب کرامت ولی تھے چناں چہ شیخ علی بن ابی نصر الہیتی فرماتے ہیں میں نے اپنے اہل زمانہ میں کسی کو حضور غوث پاک سے بڑھ کر صاحب کرامت نہیں دیکھا جس وقت کوئی شخص آپ کی کرامت دیکھنے کی خواہش کرتا دیکھ لیتا اور کرامت بھی آپ سے ظاہر ہوتی۔ آپ نے طالبین حق کے لیے گرانقدر کتابیں بھی تحریر کیں جیسے غنیۃ الطالبین، الفتح الربانی والفیض الرحمانی، ملفوظات، فتوح الغیب، جلاءالخاطر وغیرہ۔ آپ نے چار شادیاں کیں جن سے انچاس بچے پیدا ہوئے بیس لڑکے اور باقی لڑکیاں۔ آپ کے بے شمار القابات ہیں جیسے غوث اعظم، پیران پیر، محی الدین، شیخ الشیوخ، سلطان الاولیاء، سردار اولیاء وغیرہ۔  آپ تمام ولیوں کے سردار تھے چناں چہ آپ خود فرماتے ہیں قدمی ھذا علی رقبۃ کل ولی اللہ یعنی میرا یہ قدم تمام اولیاء اللہ کے گردن پر ہے آپ کی پوری زندگی تمام لوگوں کے لیے مثال ہے اور امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہے۔ آپ کا وصال ۸ ربیع الاول ۵۶۱ ھ کو نواسی سال کی عمر میں ہوا اور آپ کا مزار مقدس بغداد میں آج بھی مرجع خلائق ہیں۔
واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا
محمد اظہر شمشاد
جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی
8436658850
توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے