جمعہ, 30, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتغریبی ایک ہی چادرمیں سردی کاٹ لیتی ہے

غریبی ایک ہی چادرمیں سردی کاٹ لیتی ہے

گوشۂ اطفال
مولاناانظاراحمدصادق صاحب،الحراپبلک اسکول،شریف کالونی پٹنہ

ظہرکی نمازسے فارغ ہوکرگھرسے باہراپنے دروازے پربیٹھاسورج کی سنہری کرنوں سے لطف اندوز ہورہاتھا،میرے ساتھ میری والدہ محترمہ بھی بیٹھی ہوئی تھیں،ہم دونوں ماں بیٹے دروازے پرلگائے گئے نیم کے درخت سے متعلق باتیں کررہے تھے۔نیم کادرخت ہم دونوں کے درمیان اِس لئے موضوع بحث بناہواتھاکہ اس درخت کی ایک ایک پتیاں جھڑچکی تھیں،کسی بھی ٹہنی میں ایک بھی سوکھی یاہری پتی نظر نہیں آرہی تھی،یہ درخت بالکل ایک سوکھے ہوئے درخت کی طرح دِکھ رہاتھا۔دراصل اِس درخت کی نسل دیگرنیم کے درخت سے قدرے مختلف ہے۔

عام طورپرجونیم کاپیڑہوتاہے اُس کی پتیاں اس طرح نہیں جھڑتیں،جھڑتی ہیں مگراس میں کچھ نہ کچھ پتیاں لگی رہتی ہیں،مگریہ پیڑایساہے کہ جنوری کے مہینے میں اس کی ساری پٹیاں جھڑجاتی ہیںپھرپندرہ فروری کے بعدسے آہستہ آہستہ ہری ہری پتیاں آنے لگتی ہیں اوراس کی ٹہنیوں میں نئی نئی شاخیں بھی نکل آتی ہیں، پھرمارچ شروع ہوتے ہوتے یہ پیڑبالکل ہرابھراہوجاتاہے۔
والدہ محترمہ اس پیڑکواپنی گفتگوکاموضوع بناکرنظام قدرت پرآسان لب ولہجے میں عمدہ معلومات پیش کررہی تھیں اورمیں بھی اس طرح کے دیگردرختوں سے متعلق اپنی معلومات ان کے سامنے رکھ رہاتھا، والدہ کی گفتگواس بات پرآکررکی تھی کہ ’’ٹھنڈک سے صرف آدمی ہی کی جلداوررنگ متاثرنہیں ہوتے بلکہ پیڑپودے اوراس کی پتیاں بھی متاثرہوتی ہیں۔‘‘

اِسی درمیان تقریباًایک پندرہ سالہ سائیکل سوارلڑکامیرے دروازے آکرہم دونوں ماں بیٹے کے پاس رک گیا،اس نے اپنی سائیکل کھڑی کی اوراشارے سے سلام کیا،میں نے جواباًبآوازبلند ’’وعلیکم السلام‘‘کہا، پھراس نے اپنے جھولے سے ایک کاغذنکال کر میری طرف بڑھایا جو لمینشن(Lamination)کیاہواتھا،اس ایک ورقہ کاغذپرکئی آدمیوں کے دستخط کے ساتھ اس لڑکے اوراس کے اہل خانہ کیلئے تعاون کی اپیل لکھی ہوئی تھی۔اس اپیل کوجب میں زیرلب پڑھنے لگاتوالدہ محترمہ نے حکم دیا:زورسے پڑھوتاکہ ہم بھی سنیں،کیالکھاہواہے؟پھرمیں نے بآوازبلندپڑھناشروع کیااس میں لکھاہواتھا:’’یہ لڑکاکونگاہے اوربہرابھی،چندسال قبل والدکاانتقال ہوچکاہے،گھرپرایک بیوہ ماں اورتین چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں،اہل خانہ کی زندگی بڑی بے بسی میں گزررہی ہے،بہرہ اورگونگاہونے کی وجہ سے اس لڑکے کوکوئی تنگ نہ کرے،ممکن حدتک زیادہ سے زیادہ تعاون کریں!‘‘

والدہ محترمہ اپیل سن کر سہم گئیں اوربولیں:اب بس کرو،آگے کچھ سنانے کی ضرورت نہیں۔اس کے بعدایسالگاکہ وہ کہیں کھوگئیں۔دراصل اُن کاخیال کہیں کھویانہیں تھا؛بلکہ ماضی کی دردبھری یادیں ان کے ذہن ودل کی اسکرین پریکبارگی ابھرآئی تھیں۔وہ یہ کہ جب میں یہی کوئی بارہ یاتیرہ سال کارہاہونگاتوان کی کلائی سونی ہوگئی اورآج تک وہ اس دردکوہم بھائی بہنوں کاچہرہ دیکھ کرڈھورہی ہیں،میں نے ان کی خاموشی توڑتے ہوئے کہا:اماں!دیکھئے ناٹھنڈک کس قدرپڑرہی ہے اوریہ بیچارہ صرف ایک کرتااورلنگی پہنے ہوئے ہے، اس کے پیربھی ننگے ہیں،سرپررومال اس نے باندھاہواہے وہ بھی بالکل پتلااورمعمولی ساہے،اس غریب کوکچھ رقم یاغلہ وغیرہ دینے سے پہلے فی الفوراس کیلئے اچھاساکرتا،پائجامہ،سوئیٹر،جوتایامناسب چپل وغیرہ کا انتظام کیجئے!ہمارابیگ اورسوٹ کیس وغیرہ دیکھئے نااس میں شایدکچھ نہ کچھ مل جائیگا۔

اتنی باتیں جب میں نے اماں سے کہیں تو انہوں نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا:ارے ہاں!تم نے ٹھیک کہا،پتہ نہیں ہم بھی ہیں نا۔پھرانہوں نے ہماری چھوٹی بہن شبانہ کوآوازدیا، ایک ہی آواز پر حاضرہوگئی اوربولی کہئے کیابات ہے؟اماں نے کہا:اپنے بھیاکے کمرے میں جاؤاوراس کے بیگ میں کپڑے رکھے ہونگے اس میں سے دوجوڑے کپڑے لاؤ،ایک گرم ہائی نیک بھی جوابھی نیاساہے، اوردیکھوایک جوتابھی رکھاہوگاگرچہ تھوڑاپڑاناہے اسے بھی لے آؤ!شبانہ نے اماں جان کے حکم کے مطابق مطلوبہ چیزیں لاکران کے سامنے رکھ دیں،پھراماں نے مجھ سے کہا:بیٹاٹھنڈبہت تیزہے، جلدی سے یہ کپڑے اس لڑکے کوپہنادو!جب میں نے اشارے میں اس لڑکے سے کہا:تم ان کپڑوں کوپہن لوتووہ ذراجھجکا،پھرمیں نے ذرا زور دیکرکہا:دیکھو!جلدی کرودیرمت کرو!جب اس نے اپناکپڑااتارتواس کے جسم میںصرف ایک ہی کرتا تھا، کرتاکے نیچے نہ گنجی تھی اورنہ ہی کسی طرح کی بنیائن وغیرہ،غالباًاس کے جھجکنے کی وجہ یہی تھی،جب اس نے کپڑے پہن لئے تو میں نے جوتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:اسے پہن لو،تواس نے جوتے پہننے سے انکارکردیااورمیرے پاؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:تم اپنی چپل مجھے دے دو،پھرمیں نے اپنی چپل نکال اس یدے دی،جسے پہننے کے بعدوہ بہت خوش ہواوراشارے میں بولا:میرے پیردھلادیجئے، میں نے اسے چاپانل کی طرف اشارہ کیا،وہاں جاکراس نے خوب رَگڑرَگڑکراپنے پیردھوئے،اس کے بعد اشارے میں ہم دونوں ماں بیٹے کاشکریہ اداکرنے لگا۔
میں نے کہا:شکریہ کی کوئی ضرورت نہیں،بیٹھوکچھ کھاپی لوتوجانا،تواس نے اپنے پیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:ہم کھاچکے ہیں،فی الحال کھانے کی خواہش نہیں ہے،پھرکبھی اس نے اپنے جھولے سے ایک مٹھی دال نکالی اوراشارہ کیاکہ مجھے دال وغیرہ چائیے۔

چنانچہ غلے کی شکل میں اماں نے دال،چاول وغیرہ بھی دیئے اورمیں نے اپنی بساط بھرکچھ رقم دی، جب وہ چلنے لگاتومیں نے اشارتاًپوچھا:تمہارے پاس مناسب نہ کرتاتھا،نہ پائجامہ اورنہ ہی سوئیٹر وغیرہ، پھرتم رات اورصبح کی ٹھنڈک اب تک کیسے گزارتے رہے؟میری ان باتوں کووہ سمجھ نہیں پارہاتھایامیں سمجھا نہیں پارہاتھا،کیونکہ وہ گونگاتھا،لیکن چندلمحے بعدسمجھاتواس نے فوراًایک دوسرے جھولاسے ایک پرانی پتلی سے چادرنکالی اوراپنے معصوم چہرے پربے بسی کی لکیریں پھیلائے،اپنی یتیم آنکھوں میں مجبوری کے آنسولئے اشاروں میں کہا:بس یہی ایک چادرہے جس کو اوڑھ کرسردی کے دن کاٹ رہاہوں۔

اس یتیم لڑکے کے اس اندازنے میرے وجودکوہلاکررکھ دیا،لگتاتھااب آنکھیں چھلک پڑیں گی، مگر میں نے اپنے آپ کو سنبھالا،کیونکہ اماں جان سامنے ہنوزبیٹھی ہوئی تھیں،اگرمیری آنکھیں نم ہوجاتیں تو ان کی چیخ نکل پڑتی،بڑے صبروضبط کے ساتھ اس یتیم لڑکے کورخصت کیا،عزم شاکری نے واقعی کتناسچ کہاہے:
امیروں کے بدن کمرے کی اے سی کاٹ لیتی ہے
غریبی ایک ہی چادرمیں سردی کاٹ لیتی ہے

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے