بدھ, 30, نومبر, 2022
ہوماسلامیاتعید میلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خوشیوں کا سب سے بڑا...

عید میلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خوشیوں کا سب سے بڑا تہوار

عید میلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خوشیوں کا سب سے بڑا تہوار
عید میلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم امت مسلمہ کے لیے ایک عظیم تہوار ہے پورا عالم اسلام اس دن خوشیاں مناتا ہے بلاشبہ یہ خوشی کا سب سے بڑا دن بھی ہے اسی دن ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائیں اسلامی مہینہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو حضور محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس خاک دان عالم میں سارے عالم کے لیے رحمت بن کر جلوہ افروز ہوئے عاشقان رسول اس دن‌ اپنے گھروں پر چراغاں کرتے ہیں جھنڈے لہراتے ہیں سڑکوں پر با ادب طریقے سے جلوس نکالتے ہیں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آمد کے خوب نعرے لگاتے ہیں اور بے شمار محبتوں کا اظہار کرتے ہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے “قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا” اے محبوب فرما دیجیے اللہ تعالیٰ کے اور رحمت کی خوشیاں مناؤ۔  بلا شبہ آپ تمام عالم کے لیے رحمت ہیں اور آپ کو اس دنیا میں مبعوث فرمانا اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا فضل ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو بے شمار نعمتیں عطا کیں جس کا‌ شمار محال ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے کبھی احسان کا ذکر نہیں فرمایا پر جب اس نے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس خاک دان عالم میں جلوہ افروز فرمایا تو ارشاد فرمایا “لقد من اللہ علی المومنین اذ بعث فیھم رسولاً ” یعنی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر احسان فرمایا کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بنا کر بھیجا اور ایک جگہ ارشاد ربانی ہے ” اور انہیں اللہ کے دن کی یاد دلاؤ ” (ابراہیم) امام المفسرین سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک ایام اللہ سے مراد وہ دن ہیں جن میں رب تعالیٰ کی کسی رحمت کا نزول ہوا ہو اور ان ایام میں سب سے بڑی نعمت کے دن ولادت و معراج کے دن ہیں ان کی یاد قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے ( تفسیر خزائن العرفان) بے شک آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پیدائش مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم فضل ہے اور اس دن خوشی کا اظہار کرنا جائز و ثواب کا کام‌ ہے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دن کچھ خوارق کا بھی ظہور ہوا جیسے خانۂ کعبہ پر رکھے سارے بت منہ کے بل گر پڑے ،مجوسیوں کا آتش کدہ بجھ گیا، حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تو ساتھ ہی ایسا نور نکلا جس سے مشرق سے مغرب تک ساری کائنات روشن ہو گئی حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی والدہ فرماتی ہیں جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی میں خانۂ کعبہ کے پاس تھی میں نے دیکھا کہ خانۂ کعبہ سے نور روشن ہوا اور ستارے زمین کے اتنے قریب آ گئے تھے کہ مجھے یہ گمان ہوا کہ کہیں وہ گر نہ پڑیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پیدائش کے دن اس طرح بے شمار خوارق و عادات کا ظہور ہوا چرند پرند زمین کی ہر ہر چیز نے اس دن‌ خوب خوشیاں منائیں اور منائیں بھی کیوں نہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی سب سے عظیم نعمت ہے اور مسلمانوں کے لیے خوشی کا دن اور باعث نجات بھی ہے کیوں کہ ابو لہب کی باندی ثویبہ نے جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت کی خبر ابو لہب کو پہنچائی تو اس نے خوشی میں اپنی باندی ثویبہ کو آزاد کر دیا جس کا‌ انعام اسے یہ ملا کہ پیر کے روز اس کے عذاب میں تخفیف ہو جاتی ہے جب ابو لہب جیسے سڑے کافر کو ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت پر خوش ہونے کا اتنا بڑا انعام مل سکتا ہے تو ہم مسلمانوں کا کیا ہی ٹھکانہ ہوگا بلا شبہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی منانا مسلمانوں کے لیے بہت سود مند اور کار ثواب ہے جس سے کوئی ذی فہم انکار نہیں کر سکتا۔ اور رہ گئی یہ بات کہ اسی دن حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا انتقال بھی ہوا تھا تو ہم جشن کیوں منائیں تو اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ سوگ غم منانا ان سب چیزوں سے ہمیں منع فرمایا گیا ہے اور ہمارے نبی کل بھی زندہ تھے آج بھی زندہ ہے اور صبح قیامت تک زندہ رہیں گے اس لیے ہم ان‌کی آمد کے دن جشن مناتے ہیں اور خوشی کا‌اظہار کرتے ہیں اور انشاءاللہ یہ سلسلہ صبح قیامت تک چلتا رہے گا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس اس دنیا کے لیے باعثِ رحمت تو ہے ہی لیکن زندگی کے ہر شعبے میں انہیں کمال بھی حاصل ہے شعبہ ہائے زندگی میں وہ انسان کے لیے بہترین عملی نمونہ نظر آۓ علم و عمل سے عاری جہالت و خرافات سے بھرے ہوئے ملک عرب میں آپ نے علم و نور کی ایسی شمعیں روشن کیں جس نے عرب جیسے ملک کو اندھیرے سے نکال کر اسے دنیا کا تہذیب یافتہ معاشرہ بنا دیا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے امن و اخوت ایک دوسرے کو برداشت کرنے غریبوں بے سہاروں کی مدد کرنے اپنے سے بڑوں کی عزت چھوٹوں پر شفقت کرنے اور‌ مل جل کر رہنے‌ کا درس دیا اور فتح مکہ کے دن مکہ والوں کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ فرماکر پوری دنیا کو امن امان صلح و آشتی معاف کرنے اور رحم کرنے کا درس دیا لہذا ان کے امتی ہونے کی حیثیت سے ہمارا یہ فریضہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے  اخلاق سے اخوت و محبت کا درس دیں اور اپنے کردار سے پوری دنیا کو متاثر کر کے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعلیمات کو عام کریں اور خصوصاً بارہ ربیع الاول کے دن جلوس میں ادب و احترام کا خاص خیال رکھیں ناچنا گانا اور اس طرح کے دیگر خرافات جس سے بد امنی اور انتشار پھیلے ہمیں پرہیز کرنا چاہیے جلوس محمدی میں جانے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ نگاہ نیچی کرکے درود پاک کا ورد کریں اور آہستہ آہستہ بنا کسی کو تکلیف دیے پر وقار انداز میں سنجیدگی کے ساتھ چلیں اگر راہ میں ایمبولینس گاڑی کوئی مریض یا ضعیف ہو تو سب سے پہلے انہیں راستہ دیں ڈی جے میوزک اور مزامیر والی نعت سے پرہیز کریں ، راہ میں کہیں کوئی چیز تقسیم کی جا رہی ہو تو ایک دوسرے کو ڈھکیل کر یا دھکا دے کر حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ آرام‌ اور صبر و تحمل سے حاصل کرنے کی کوشش کریں اور جلوس محمدی کے دوران ہرگز کوئی بھی ایسی حرکت نہ کریں جو غلامان مصطفیٰ کی شان کے خلاف ہو بلکہ اپنے ہر قول و فعل سے پوری دنیا کو غلامان مصطفیٰ ہونے کا پیغام دیں
محمد اظہر شمشاد
عبدالحمید نگر برن پور آسنسول
توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے