بدھ, 30, نومبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتعیادت میں آداب کا خیال کیجیے

عیادت میں آداب کا خیال کیجیے

عیادت میں آداب کا خیال کیجیے

میرے استادنے ایک موقع پر یہ نصیحت کی تھی کہ خود کو بیمار مت سمجھو باوجودیہ کہ تم بیمار ہو، ایسا سمجھنے اور محسوس کرنے سے بیماری ٹھیک نہیں ہوسکتی ہے، ایک بیمار انسان کی سب سے بڑی بیماری یہی ہے کہ وہ خود کو بیمار سمجھتا ہے، یہ احساس دراصل ایک لاعلاج مرض کا نام ہے،تجربہ بھی یہی کہتا ہے کہ اچھا خاصا تندرست اور صحت مند آدمی کی طبیعت ذرا سی مضمحل ہوئی،اپنے مرض کا خیال دل ودماغ میں جاگزیں کرلیا تو وہ بستر علالت کو پکڑ لیتا ہے، اسمیں غلطی صرف مریض کی نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کے محرک خیریت پوچھنے والے بھی ہیں جو آداب مزاج پرسی سے بیگانہ ہوتے ہیں،ایسی باتیں کہتے ہیں جن سے حوصلہ پست ہوجاتا ہے،اور بیمار کا خیال یقین میں بدل جاتا ہے کہ واقعی وہ بہت بیمار ہے،جوں ہی ملاقات ہوئی یہ کہنے لگتے ہیں کہ؛بھائی آپ کی حالت تو بہت خراب ہوگئی ہے، چہرہ اتر گیا ہے، بالکل کمزور ہوگئے ہیں، ارے جسم پر گوشت کہاں ہے؟صرف ہڈی اور چمڑی رہ گئی ہے،یہ آپ کا شوگر تو لاعلاج ہے وغیرہ۰۰۰۰۰
افواہ تھی کہ میری طبیعت خراب ہے
لوگوں نے پوچھ پوچھ کر بیمار کردیا
کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جن کا خیال نہیں کیا جائے تو واقعی وہ بیمار کی بیماری میں اضافہ کا سامان بن جاتی ہیں، آج ان کا خیال بالکل بھی نہیں کیا جاتا ہےکہ یہ وقت بیمار سے ملنے کاہے یا نہیں ہے ؟ آدھی رات کو پہونچ جاتے ہیں اور زور زور سے دروازہ پیٹ رہے ہیں،اندر آگئے تو دیر تک بیٹھے ہیں، بیمار کی خیریت معلوم کرنے تشریف لائے تھے ،آکر اپنی پوتھی کھول دیے ہیں، یہ باتیں آداب عیادت کے خلاف اور غیر شرعی ہیں۔
دیکھنے آئے تھے وہ اپنی محبت کا اثر
کہنے کو یہ ہےکہ آئے ہیں عیادت کرنے

ایک بیمار کی عیادت اسلام میں بڑی چیز ہے، مسلمان کا مسلمان پر یہ واجبی حق ہےکہ،جب وہ بیمار پڑ جائے تو اس کا مسلمان بھائی اس کی عیادت کو جائے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بڑی تاکید فرمائی یے، مگر ساتھ ہی عیادت کے آداب بھی بتلائے ہیں، دعائیں بھی دینے کی تعلیم فرمائی ہیں،ان باتوں کو خیال ضروری ہے۔
حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سلیقہ بتایا ہے کہ جب عیادت کے لیےکوئی جائے تو پہلے اس کے ہاتھ اور پیشانی پر ہاتھ رکھے،اس کو تسلی اور دلاسا دے،شفاکےلیے خدا سے دعا کرے، (ابوداؤد )
اطباء حضرات مریض سے پہلی ملاقات میں یہی کرتے ہیں جو حدیث شریف میں تعلیم دی گئی ہے،ایک بیمار کی بیماری آدھی ختم ہوجاتی ہے جب محبت اور شفقت کے لہجہ لیے ہوئے ڈاکٹر اس عمل کو انجام دیتا ہے، یہ عیادت کا شرعی طریقہ ہے جسے ڈاکٹروں نے برائے علاج اپنالیا ہے،ہم غور نہیں کرتے ہیں،گفتگو میں بیماری خواہ کتنی مہلک کیوں نہ ہو ڈاکٹر مریض کو اطمینان ہی دلاتا ہے اور کوئی ایسا جملہ اس کے سامنے ایسا نہیں ادا کرتا ہے جو اس کی بے اطمینانی کا سامان بن جائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہی ہے، حدیث میں جو کلمہ بیمار سے کہنے کا ہے اسمیں سراسر دلاسا اور تسلی کے الفاظ ہیں،”لاباس طهور إن شاءالله “کوئی حرج نہیں اگر اللہ نے چاہا یہ بیماری( گناہوں سے)پاک کرنے والی ہے،(بخاری )
ان الفاظ میں گویا ایک طرح کا جادو ہے اور یہ تسلی ہی نہیں بلکہ مریض کے لیے شفاء کا پیام ہے،
حال بیمار کا پوچھو تو شفا ملتی ہے
یعنی ایک کلمہ پرشس بھی دوا ہوتا ہے
ایک حدیث میں لکھا ہوا ہے کہ جب کوئی صبح کو کسی بیمار کی عیادت کرتا ہے تو فرشتے شام تک اس کی مغفرت کی دعا مانگتے ہیں، اور جب شام کو کرتا ہے تو صبح تک فرشتے اس کی مغفرت کے لیے بارگاہ الہی میں دعا مانگتے ہیں ،(ابوداؤد )
مذکورہ بالا حدیث میں عیادت کے وقت کی تعیین تو نہیں کی گئی ہے اور نہ محدثین نے اس طرح کی کوئی بات کہی ہے، مگر عیادت کے لیے مناسب وقت کا خیال یہ آداب عیادت میں ضرور داخل ہے،
اور صبح وشام کا ذکرخاص طور پر حدیث شریف میں کیا گیا ہے، اس سے روشنی ضرور ملتی ہے کہ یہ دونوں وقت عیادت کے لیے بہت ہی مناسب اور موزوں ہیں، انمیں بیمار کا بھی شریعت نے خیال کیا ہے اور تیماردارکے لیے بھی بڑی سہولت ہے،آسانی سے ان دووقتوں کو بیمار کی عیادت کے لیے فارغ کیا جاسکتا ہے تو وہیں مریض کے لیے بھی ان وقتوں میں بڑی راحت کی بات ہے۔
کچھ چیزوں کا خیال عیادت کرنے والوں کے لیے ضروری ہےتو وہیں کچھ باتیں بیمار سے بھی کہی گئی ہیں کہ وہ بیماری پر صبر کا دامن تھام رکھے، کوئی شکایت اور ناشکری کا حرف اپنی زبان سے ادا نہ کرے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک اعرابی مدینہ میں آکر بیمار پڑ گیا، آپ اس کی عیادت کو تشریف لے گئے اور کلمات تسکین ادا فرمائے،اس نے کہا؛آپ نے خیریت فرمائی ہے مجھے تو شدید تپ ہےجو قبر میں لاکر چھوڑے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ہاں اب یہی ہو،(بخاری )
آخری بات یہ کہ آج مزاج پرسی کی جاتی ہے تیمارداری نہیں، بلکہ تیمارداری کا مزاج ہی ختم ہوتا جارہا ہے، عیادت کے اصل معنی تیمارداری یعنی مریض کی مکمل دیکھ ریکھ ہے،مزاج پرسی نہیں ہے،حدیث شریف میں مزاج پرسی پر جب اس قدر اجر ہے تو بیمار کی مکمل دیکھ بھال اور خدمت پر کس قدر اجر مل سکتا ہے۔

ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
۱۷/نومبر ۲۰۲۲ء بروز جمعرات

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے