جمعہ, 30, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتعہدے امانت ہیں_

عہدے امانت ہیں_

تحریر: مفتی محمد اطہر القاسمی

 عام طور پر امانت کا مفہوم لوگوں کے خیال میں یہ ہے کہ جو روپیہ پیسہ یا کوئی سازوسامان ان کے حوالے ہے ہوبہو اس کی واپسی امانت ہے۔بلاشبہ یہ بھی امانت ہے۔لیکن مذہب اسلام میں امانت داری کا تصور یہیں تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ یہ انسانی زندگی کے ان تمام شعبوں پر حاوی ہے جن سے کسی بھی انسان کا شب و روز واسطہ پڑتا ہے۔خواہ وہ حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد،اس کا تعلق سیاست سے ہو یا معاشرت سے اور خواہ اس کاتعلق ملی ومذہبی فلاحی تنظیمی اداروں سے ہو؛یہ سب امانتیں ہیں۔
اس لحاظ سے ہر چھوٹا بڑا عہدہ متعلقہ عہدیدار کے پاس امانت ہے۔ایک کلرک سے لےکر صدر مملکت تک تمام حکام و وزراء اپنے متعلقہ امور کے حوالے سے امانت دار ہیں۔ٹھیک اسی طرح دینی و مذہبی معاملات کے حوالے سے مساجد کے متولی یا ائمہ و مؤذنین،مدارس کے مہتممین و نظماء یا اساتذہ کرام،اسکول و کالجیز کے ڈائریکٹرس و سربراہان یا ٹیچرس،دارالقضاء کے قاضی یا بیت المال کے نگراں،اوقاف کے ذمےداران یا فلاحی و رفاہی اداروں کے صدور و سکریٹری صاحبان ہوں یا پھر جمعیت،جماعت اور امارت جیسی ملک کی بڑی تنظیموں کے عہدیداران؛انتظامی امور کے حوالے سے ان سب کے پاس چھوٹے بڑے جتنے عہدے ہیں یہ سارے عہدے بھی ان سب کے پاس امانتیں ہیں۔شریعت اسلامیہ کی روشنی میں اکابرین علماء کے ذریعے مرتب کئے گئے متعلقہ تنظیمی دستور وآئین کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں آنے والی ذمےداریوں کو زمینی سطح پر نافذ کرنا اور پوری دل چسپی،مستعدی،بیدار مغزی،حکمت و بصیرت،ہمت و جرأت،حوصلہ و ولولہ،احساس جواب دہی اور روز محشر بارگاہ الٰہی میں خوف بازپرس کے استحضار کے ساتھ بحسن وخوبی انجام دینا لازم و ضروری ہے۔جان بوجھ کر ان میں کسی قسم کی کمی و کوتاہی کا ارتکاب اس امانت میں خیانت ہے اور کل قیامت میں رب العالمین کی عدالت میں متعلقہ عہدیدار کو متعلقہ امور کے حوالے سے جواب دینا پڑے گا۔
قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے:ان اللہ یامرکم ان تؤدوالامانات الی اہلہا (النساء/58) کہ بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں امانت والوں کے حوالے کردو۔دوسری جگہ امانت داروں کو فلاح یافتہ لوگوں کی فہرست میں شمار کرتےہوئے قرآن کریم نے فرمایا:والذین ہم لاماناتہم وعہدہم رعوں۔(المؤمنون/8) کہ کامیاب ہوگئے وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور وعدوں کی پاسداری کرنے والے ہیں۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت داری کو ایمان کا لازمی جزو قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: کہ جس شخص کے پاس امانت نہیں اس کے پاس ایمان نہیں۔(الترغیب والترہیب للمنذری 4/77)
مشہور جلیل القدر صحابی حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے امارت کی خواہش ظاہر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایاکہ:اےابوذر!تو کمزور ہے اور بلاشبہ یہ امارت ایک امانت ہے۔اور قیامت کے دن کی رسوائی اور شرمندگی ہے۔سوائے اس شخص کے جس نے اس کے حقوق پورے کئے اور اس سلسلے میں جو ذمےداریاں اس پر عائد تھیں انہیں ادا کیا۔(صحیح مسلم حدیث نمبر:1825)
اس حدیث پاک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عہدوں کو نہ صرف یہ کہ امانت قرار دیا بلکہ یہ بھی اشارہ فرمادیا کہ جو شخص کسی عہدے و منصب کی متعلقہ ذمےداریوں کو پوری کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اسے اس عہدے و منصب سے باز رہنا چاہئے کیونکہ کل قیامت کے دن یہ مناصب و عہدے اس شخص کی ذلت و رسوائی کا سبب بن سکتے ہیں۔اسی لئے ایک دوسری مشہور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم میں سے ہرشخص اپنے ماتحت کا نگراں ہے اور کل قیامت کے دن ان سے اپنے ماتحتوں کے بارےمیں سوال کیا جائے گا(صحیح بخاری حدیث نمبر:893)
رفقاء گرامی!
الحاصل آج کی گفتگو کا پس منظر ملک کی سوسالہ تاریخ ساز باوقار جماعت؛جمعیت علماء ہند کی ہدایت پر 11/ستمبر 2021 کو پٹنہ میں منعقد ہونے والا جمعیت علماء بہار کا وہ ریاستی انتخابی اجلاس ہے،جس میں بڑے بزرگوں کے ساتھ اس عاجز محض کے ناتواں کاندھوں پر ریاستی نائب صدر جیسے بڑے عہدے کی ذمےداری سپرد کر دی گئی ہے۔
گرچہ تب سے آج ہفتہ روز سے زیادہ ہوگئے ہیں اور سینکڑوں باوقار علماء و مخلص رفقاء نے مبارکبادیوں اور دعاؤں سے ہماری بھرپور حوصلہ افزائی بھی کی ہے لیکن ان مذکورہ بالا وعدے و وعید کی روشنی میں اب تک لرزاں و ترساں ہوں کہ ملک وملت کی ایک ایسی باوقار ملی جماعت جن کے اکابرین نے اپنی بےلوث خدمات اور بےمثال قربانیوں سے ملک وملت میں اپنی شاندار سوسالہ سنہری تاریخ رقم ہو اور نیز یہ کہ ملک کے موجودہ حالات انتہائی ناگفتہ بہ بن چکے ہوں؛ایسے نازک ماحول میں ملت اسلامیہ کی اتنی بڑی ذمےداری کا حق ایک ادنی درجے کے طالب علم سے کیسے ادا ہوگا اور دنیا کے ساتھ قیامت کی رسوائی سے کیسے بچاجاسکے گا؟
بس ایک ہی بات ہے جو اس بےبسی و بےچینی میں سہارا بنی ہوئی ہے کہ ریاست بہار کا مردم خیز خطہ ضلع ارریہ،سیمانچل اور بیرون ریاست ملک کے مختلف علاقوں سے جن باصلاحیت و حساس دل احباب نے اپنی نیک خواہشات پیش کی ہیں اگر برابر ان سب کے نیک مشورے،مثبت رہنمائی،مخلصانہ رہبری اور حالات کے لحاظ سے ان کی مسلسل دست گیری اور ہرموڑ پر ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ بارگاہ الٰہی میں انہوں نے اس کندہ ناتراش کے لئے اپنی پرخلوص دعائیں جاری رکھیں تو محض توفیق الٰہی کے سہارے ملک کی اس قدیم ترین باوقار تاریخ ساز جماعت کے خوبصورت پلیٹ فارم سے ریاستی و مرکزی جمعیت کے اکابرین کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے آپس میں مل جل کر ہمت و استطاعت کے مطابق ہرممکن کام کرنے کی کوشش کی جائے گی انشاءاللہ۔اور اس امید کے ساتھ کہ شاید یہی مظلوم و محروم بندگانِ خدا کے لئے کئے گئے دوچار کام روز محشر سامان بخشش اور باعثِ نجات بن جائیں گے؛دل کو تسلی مل جاتی ہے کہ جس طرح گھن کے ساتھ گیہوں بھی پس جاتاہے اسی طرح بعض دفعہ بڑوں کے ساتھ چھوٹوں پر بھی رحم کردیا جاتا ہے۔۔۔
اس سلسلے میں وہ احباب جنہوں نے اس عاجز کے لئے دعائیں کیں اور مبارکبادیاں پیش کیں ان کے شکریہ کے ساتھ وہ احباب جنہوں نے تنقیدی تبصروں سے عاجز کی کمیوں اور کوتاہیوں کی نشاندھی کی ان کا بھی احسان مند ہوں کہ یہ بھی ہمارے لئے صحیح سمت سفر کے لئے راہ عمل ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ محض اپنے فضل و کرم سے ہم سب کو اپنے مظلوم و محروم بندوں کی مخلصانہ خدمات کے مواقع فراہم کرے اور انہیں اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت کے ساتھ امانت کی ادائیگی کےحوالے سے کل قیامت کی ذلت و رسوائی سے حفاظت فرمائے!
بس ہمارا تو ایک ہی عزم ہے کہ چونکہ ہم اس دنیا میں صرف اپنی ذاتی ضروریات کی تکمیل کے لئے نہیں آئے ہیں بلکہ اللہ کی مخلوق کی نفع رسانی جیسے عظیم مقصد کے لئے ہمیں اس دنیا میں بھیجا گیا ہے۔اس لئے پوری توانائی کے ساتھ زندگی کی آخری سانس تک مخلوق خدا کے لئے کام کرنا ہے،کام کرتے کرتے مرنا ہے اور مرتے مرتے بھی کام کرنا ہے۔۔۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے