بدھ, 30, نومبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتعورتوں کا مسجد جانا: عقلی و نقلی دلائل کی روشنی میں ...

عورتوں کا مسجد جانا: عقلی و نقلی دلائل کی روشنی میں ( از: جنید احمد قاسمی)

عورتوں کا مسجد جانا: عقلی و نقلی دلائل کی روشنی میں

( از: جنید احمد قاسمی)

عقلی دلائل :

1- عورتوں کا معاملہ مردوں سے مختلف ہے ۔ اگرعورتوں کی جسمانی بناوٹ اور اس کی زندگی کے دیگر مراحل پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے عورت کے لیے ذاتی زندگی میں بھی اور عمومی زندگی میں بھی کسی نہ کسی کو اس کا سہارا بنا کر کھڑا کیا ہے؛ چنانچہ عورت جب بیٹی ہوتی ہے تو اس کے باپ اس کے والد اس کے بھائی وغیرہ اس کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتے ہیں اور سہارا بن کر اس کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں ۔ مرد کے ہوتے ہوئے عورت کے ذمہ خود سے بازار جانا اور اپنی ضروریات خرید کر لانا لازم نہیں ہے ۔ یہ سب مرد کے ذمہ ہے ۔
2- اسی طرح اس کی شادی وغیرہ کا کھانا خرچہ بھی مرد حضرات اٹھاتے ہیں اس کے والد، اور قریبی رشتہ دار اٹھاتے ہیں۔ پھر شادی کے بعد اس کی ذمہ داری اس کے شوہر کے سر ڈالی جاتی ہے ۔ شادی کے بعد شوہر اس کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے۔ ہر طرح کی مالی اور بدنی مدد کرتا ہے ۔ اس کے لیے دوا دارو خرید کر لاتا ہے ۔
3- اسی طرح عورت جب ماں بن جاتی ہے تو اس کا کھانا خرچہ بڑھ جاتا ہے اور عورت کے ساتھ ساتھ ان بچوں کی تعلیم و تربیت شوہر ہی کے ذمے ہوتی ہے ۔ عورت کے ماں بننے کے بعد اس کی مشغولیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے ۔
خلاصہ یہ کہ مردوں کا معاملہ عورتوں سے مختلف رکھا گیا ہے اسی وجہ سے بیشتر اجتماعی جگہوں میں مردوں کو جانے کا حکم دیا گیا ہے۔ جہاد کرنے کا حکم مردوں کے لئے ہے عورتوں کے لئے نہیں ہے۔
اسی طرح کسب معاش کا حکم ( مردوں کے ہوتے ہوئے) مردوں ہی کے لئے ہے عورتوں کے لئے نہیں ہے ۔
4- بیوی کے حقوق مردوں پر رکھے گئے ہیں۔ یعنی وہ حقوق جن کے لیے باہر جانا پڑتا ہے ان حقوق کی تحصیل کا مردوں کو مکلف بنایا گیا ہے اور عورتوں کے ذمہ صرف اور صرف نماز اور روزہ وغیرہ کے فرائض انجام دینا ۔ بال بچوں کی تربیت کرنا ۔ دینی تعلیم سیکھنا۔ اللہ کے احکامات اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو سیکھنا اور ان احکامات کے مطابق زندگی گزارنا ہی ہے ۔ اس پر یہ ذمہ داری نہیں دی گئی ہے کہ وہ بازار جائے، کھیت کھلیان جائے اور روپے پیسے کما کر لائے ۔ اس کے پیٹ کے لیے شوہر کوہی ذمہ دار بنایا گیا ہے۔
5- شوہر اور بیوی کے درمیان کے اس فرق کو ملحوظ رکھیں تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ مسجد جا کرنماز پڑھنا جماعت کے ساتھ یہ بھی ایک ذمہ داری ہے اور ظاہر سی بات ہے پانچ وقت مسجدیں جانا پانچ وقت آنا یہ کوئی آسان اور معمولی کام نہیں ہے۔ اگر عورتوں کو پانچ وقت مسجد جانا پڑے اور پانچ وقت آنا پڑے تو یہ ان کے بس کی بات نہیں ہے؛ کیونکہ یہ فطرتا کمزور پیدا کی گئی ہیں ۔ گھر کے کام کاج یا چھوٹے چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر اگریہ مسجد جائیں گی اور اس طرح کی اس پر کوئی پابندی عائد کردی جاتی ہے تو یقینا ان کے لئے بڑی دشواری ہوگی ۔ اسی وجہ سے شریعت مطہرہ نے عورتوں کے لئے گھر کے کونے کو ہی بہترین مسجد کہا ہے اور عورتوں کو مسجد آنے کی اجازت تو ضرور دی ہے لیکن تمام احادیث کو جمع کرنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مسجد میں اگر کوئی آتی ہے تو اس سے بہتر ہے کہ وہ گھر میں نماز پڑھ لے ۔ مسجد میں آ کر پڑھنا ضروری ہے نہ اس کے لئے فرض یا واجب یا سنت ؛ بلکہ اس کے لئے ایک مباح عمل ہے اگر کوئی عورت مسجد آنا چاہتی ہے تو مسجد آسکتی ہے؛ لیکن اس کے لیے صرف ایک مباح عمل ہوگا کوئی فرض یا واجب یا مستحب عمل نہیں ہوگا مستحب اس کے لیے وہی ہے کہ وہ گھر میں رہ کر نماز پڑھے۔
6- عورتوں کی جہالت دور کرانے کی نیت سے مسجد لانا :
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج کل عورتوں میں جہالت زیادہ ہے جس کی وجہ سے ارتداد عام ہورہا ہے؛ اس لیے ہم انھیں مسجد کیوں نہیں لاتے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ارتداد اس وجہ سے نہیں پھیل رہا ہے کہ عورت مسجد نہیں جاتی ہے؛ بلکہ ارتداد اس وجہ سے عام ہورہا ہے کہ عورتیں گھروں سے نکل کر باہر مخلوط اسکول کالج جانے لگی ہیں غیر محرم سے بات چیت کرتی ہیں ۔ موبائل کے ذریعہ غیر مسلموں سے پینگیں بڑھاتی ہیں ۔ غیروں سے محبت کے چکر میں مرتد ہوجاتی ہیں ۔ اور یہ صرف اور صرف مردوں کی طرف سے لاپرواہی کی وجہ سے ہوتا ہے ۔
اگر عورتوں کے مسجد آنے کی راہ نکالی جائے تو ایسی صورت میں ظاہر سی بات ہے کہ پھر اس طرح کے فتنے اور اندیشے اور زیادہ بڑھ جائیں گے –
7- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دور بہترین زمانہ تھا اس زمانے میں اس طرح کے فتنے کھڑے ہوئے اور اس طرح کے فتنوں کی وجہ سے اماں حضرت عائشہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے عورتوں کو مسجد جانے سے روکا تھا تو یہ تو شر القرون کا زمانہ چل رہا ہے اس میں فتنہ ہی فتنہ ہے ۔ اس زمانے میں عورتوں کو مساجد جانے سے کیوں نہیں روکا جائے گا؟
اس لیے دینداری کے سبق کے نام پر یا انھیں دین کا علم دینے کے نام پر گھروں سے باہر کرنا اور مسجد جانے اور وہاں پر جمع کرنے کی وکالت کرنا یہ کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔ عورتوں کے لیے ان کا گھر ہی بہتر ہے ۔
ناخواندگی اور جہالت کی جہاں تک بات ہے تو اس کے لیے بہت سارے اپائے ہیں، اگر اپنا لئے جائیں تو ضرور باہر والی تعلیم گھر کی خواتین حاصل کر سکتی ہیں ۔
8- بہت سارے کام ایسے ہیں جو گھروں میں نہیں ہوتے ہیں ۔ باہر جاکر ہی انجام دیے جاتے ہیں مثال کے طور پر بازار ہر ایک کے آنگن میں یا گھر میں نہیں ہوتا ہے؛ لیکن مرد حضرات بازار جاتے ہیں سبزیاں خریدتے ہیں۔ اپنی ضرورت کے سامان لیتے ہیں ۔ اسی طرح گھر میں مدرسہ یا مسجد نہیں ہوتی۔ ظاہر سی بات ہے ایسی صورت میں مردوں کو عورتوں کی دیگر ضروریات کی تکمیل کے ساتھ ان کی دینی تعلیم و تربیت کا بھی نظم کرنا ہوگا ۔ تعلیم اور دینی مزاج عورتوں میں اس لیے نہیں ہے کہ ان کے شوہر بددین اور لاپرواہ ہیں ۔ ورنہ گھر کے کام کاج نہ کرنے پر غصہ اور ناراضگی کا اظہار کرنا اور نماز چھوڑنے پر کچھ نہ کہنا بے دینی نہیں تو اور کیا ہے ۔؟ اور عورتوں کے بددین ہونے کے اصل ذمہ دار گھر کے مرد حضرات ہیں ۔
اس لیے عورتوں کی نگرانی بھی کی جائے ۔ تعلیم کے نام پر عورتوں کو بے محابا گھروں سے نکالنا کہیں سے جائز نہیں ہوگا ۔ تعلیم کے عنوان سے عورتوں کو گھر سے نکالنا شریعت کے منشاء کے بالکل خلاف ہے ۔
09- حالات کے پیش نظر اگر مان لیا جائے کہ عورتوں کا “مسجد جانا ضروری ہے” تو سوال ہے کہ:
1- مسجد جانے کی کیا صورت ہوگی؟ ایا مسجد آنے والی خواتین کے لیے حجاب اور پردہ لازمی ہوگا یا لازمی نہیں ہوگا؟
یہ بالکل ظاہر و باہر بات ہے کہ:جس طرح مسجدوں میں بے ریش مرد آتے ہیں اور کوئی ان کو اس بارے میں بطور لزوم یا بطور شرط کے کچھ نہیں کہ سکتا ہے، ٹھیک اسی طرح بے حجاب آنے والی خواتین کو بھی اس بارے میں کوئی کچھ نہیں کہہ پائے گا؛ بصورت دیگر جھگڑا اور نزاع پیدا ہوگا، اس طرح ایک مقدس جگہ میں بے حجاب آنا دوسری جگہوں میں بے حجاب جانے کے لیے وجہ جواز فراہم کرے گا، اور یوں ایک مباح عمل کی خاطر ایک فرض کو جان بوجھ کر چھوڑنے؛بلکہ اس بات پر ان کی حوصلہ افزائی ہوگی_
اگر وہ با حجاب آتی ہیں تو پھر حجاب کی بھی بہت ساری اقسام ہیں: جن میں بھڑک دار، اور جاذب نظر بھی ہوتے ہیں، چست اور تنگ بھی ہوتے ہیں جن کا بطور حجاب استعمال کرنا معاشرہ میں رائج ہے؛جبکہ وہ شرع مخالف حجاب ہے۔
اب بات یہ ہے کہ کیا مسجد میں آنے والی تمام عورتوں کے لیے ایسے حجاب کو ممنوع قرار دیا جائے گا؟ اگر ہاں تو کتنی فی صد خواتین عمل پیرا ہو پائیں گی؟ اور جو اس تجویز کو ٹھکڑا کر من چاہا حجاب کر کے آنا چاہیں گی اور دوسری خواتین کو بھی اس قسم کا حجاب پہننے کے لیے داعی کی حیثیت اختیار کریں گی اور مسجد آنے کا جو اصل مقصود تھا گرچہ اس کی حیثیت صرف ایک مباح عمل کی تھی اس میں بھی خلل واقع ہوگا اور چہ جائے کہ مسجد جا کر وہ شرعی احکام کی تعلیم پاتیں قسم قسم کے حجاب اور انداز وغیرہ ہی موضوع بحث ہوا کریں گے_
2- آپ اگر کہتے ہیں کہ عورتوں کی صفیں مردوں کی صفوں سے علاحدہ رہیں، اور دونوں کی صفوں کے درمیان دیوار چن دی جائے تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ صورت قرن اول میں تھی؟ اگر نہیں تھی تو آپ کا ایسا کرنا درست نہیں ہے ۔
اس لیے مسلمانوں کو غیر دینی مزاج رکھنے والے افراد کے بہکاوے میں نہیں آنا چاہیے اور شریعت مطہرہ کا جو مزاج اور منشاء ہے اس کے اعتبار سے کام کرنا چاہیے۔ اللہ تبارک و تعالی ہم سب کو ہر طرح کے فتنے سے محفوظ فرمائے۔

نقلی دلائل :

قرآنی دلائل:
1- وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ. (الاحزاب 33) (تم اپنے گھروں میں ہی رہو اور پرانی جاہلیت کے زمانے میں جس طرح زیب و زینت کے ساتھ باہر نکلتی تھی ۔ ایسا نہ کرو۔)
علامہ قرطبی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
“معنى هذه الآية الأمر بلزوم البيت، وإن كان الخطاب لنساء النبي صلى الله عليه وسلم فقد دخل غيرهن فيه بالمعنى. هذا لو لم يرد دليل يخص جميع النساء ، كيف والشريعة طافحة بلزوم النساء بيوتهن، والانكفاف عن الخروج منها إلا لضرورة، على ما تقدم في غير موضع. فأمر الله تعالى نساء النبي صلى الله عليه وسلم بملازمة بيوتهن، وخاطبهن بذلك تشريفًا لهن.”
(علامہ قرطبی رحمہ اللہ کی تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجات کے ذریعے، ساری امت کی عورتوں کو حکم دیا ہے کہ گھروں ہی میں رہیں)
(القرطبی: تحت أية : وقرن في بيوتكن)

2- وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ ﴾ [الحجر: 24].
اس آیت میں اللہ نے منافقوں کے متعلق بتایا ہے کہ وہ عورتوں کے مسجد سے نکلنے کا انتظار کرتے تھے، اور اس وقت تک مسجد میں رکے رہتے تھے جب تک عورتیں نہ نکل جائیں، اور جب عورتیں نکلتیں.. تو گلیوں میں ان کا پیچھا کرتے تھے، اس آیت میں ان منافقوں پر وعید ہے۔ اسی لیے شریعت میں عورتوں کو گھروں میں رہنا اور گھروں ہی میں عبادت کرنا پسندیدہ امر ہے۔

احادیث مبارکہ :
1- عن عبد الله ، عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : صلاة المرأة في بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها ، وصلاتها في مخدعها أفضل من صلاتها في بيتها”. (المستدرك 405 – (1/209))
(یعنی حضرت سیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ عورت کے لیے دالان کے مقابلے گھر میں، اور گھر میں بھی اندرونی حصے میں نماز پڑھنا افضل ہے)

2- عن أمّ سلمة رضي اللہ عنھا عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال: خیر مساجد النساء قعر بیوتھن (رواہ أحمد والبیهقي: 26542)
عورتوں کی بہترین مسجد ان کے کمرے کا اندرونی حصہ ہے۔

3- عن أم حمید امرأة أبي حمید الساعدي عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال لھا: قد علمتُ أنّکِ تحبّین الصلاة معي، وصلاتُکِ في بیتکِ خیر من صلاتِکِ في حجرتِکِ، وصلاتُکِ في حجرتکِ خیر من صلاتِکِ في دارکِ، وصلاتکِ في دارکِ خیر من صلاتکِ في مسجد قومکِ، وصلاتکِ في مسجد قومِکِ خیر من صلاتکِ في مسجدي (رواہ الإمام أحمد (371/6) و ابن حبان 2217)(قال الهیثمي: رجاله رجال الصحیح غیر عبد اللہ بن سوید الأنصاري، ووثّقہ ابن حبان)
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کی نماز کی یہ ترتیب رکھی ہے:
1- باہری کمرے کے مقابلے اندرونی کمرے میں عورت کی نماز بہتر ہے۔
2- دالان کے مقابلے باہری کمرے میں نماز بہتر ہے۔
3- محلے کی مسجد کے مقابلے گھر کے دالان میں بہتر ہے۔
4- اور مسجد نبوی کے مقابلے محلے کی مسجد میں عورت کا نماز پڑھنا بہتر ہے۔
اس لحاظ سے عورت کی سب سے بہتر نماز گھر میں بھی اندرونی کمرے والی ہے، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد سے بھی گھر کی نماز کو بہتر فرمایا ہے۔

4- وعن عبد الله : ما صلت امرأة من صلاۃ أحب إلی الله من أشد مکان في بیتھا ظلمة. (مجمع الزوائد ج2 ص 3)
(عورت کی کوئی نماز، خدا کو اس نماز سے زیادہ محبوب نہیں، جو اس کی تاریک تر کوٹھری میں ہو۔)

دیگر دلائل:
1-عن عائشة ، رضي الله عنها ، قالت: لو أدرك رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أحدث النساء لمنعهن كما منعت نساء بني إسرائيل، قلت لعمرة: أو منعن؟ قالت: نعم”. (البخاري (1 / 219))
(یعنی آج کے حالات کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی عورتوں کو مسجد جانے سے منع کرتے)

2- عن أبي ھریرة -رضي اللہ عنہ- عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: لولا ما في البیوت من النساء والذریة، أقمت صلاة العشاء وأمرتُ فتیاني یحرقون ما في البیوت بالنار (أحمد (2/367))
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے، تو میں نماز عشاء قائم کرتا، اور اپنے جوانوں کو حکم دیتا کہ گھروں میں آگ لگادیں)

استدلال: عورتوں کا اس حدیث میں بچوں کی طرح گھر میں ٹھہرنے والوں کے ساتھ ذکر کرنا، اس بات کی دلیل ہے کہ وہ جماعت میں حاضر ہونے کی مکلف نہ تھیں اور جماعت ان کے ذمے موٴکد نہ تھی، ورنہ وہ بھی اسی جرم کی مجرم اور اسی سزا کی مستوجب شمار ہوتیں۔

3- عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ” إن المرأة عورة، فإذا خرجت استشرفها الشيطان، وأقرب ما تكون بروحة ربها وهي في قعر بيتها. (رواہ الترمذی، واللفظ لابن حبان 5599، إسنادہ صحیح)
اس حدیث میں عورتوں کو مطلق گھروں سے نکلنے کی ممانعت معلوم ہوتی ہے، جیسا کہ پہلی آیت میں ہے، اور نماز کے لیے بھی گھر سے نکلنا پڑتا ہے، اس لیے وہ نکلنا بھی اس حدیث کے تحت ناپسندیدہ ہے۔
امام ابوحنیفہ کہتے ہیں:
“قال أبو حنيفة -رحمہ اللّٰہ- في خروج النساء في العيدين: قد كان يرخص فيه، فأما اليوم فلا ينبغي أن تخرج إلا العجوزة الكبيرة”. (الحجة على أهل المدينة 1/ 306)

قال محمد -رحمه الله- في الأصل:… وليس على النساء خروج العيدين، وكان يرخص لهن في ذلك. (المحيط البرھانی 2/ 208، 209)

اسی طرح فقہ حنفی کی سب سے مشہور کتاب میں ہے:
(ويكره حضورهن الجماعة) ولو لجمعة وعيد ووعظ (مطلقاً) ولو عجوزاً ليلاً (على المذهب) المفتى به؛ لفساد الزمان، واستثنى الكمال بحثاً العجائز والمتفانية”. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1 / 566)
ملحوظہ:
جس طرح علماء نے مسجد جانے سے منع کیا ہے، ویسے ہی بازار، کوچنگ سینٹر اور شاپنگ مال وغیرہ جانے کی بھی مخالفت کی ہے، ایسا نہیں ہے کہ یہ ممانعت صرف مسجد کے لیے ہے۔
4- « لا تمنعوا إماء الله مساجد الله، وبيوتهن خير لهن، وليخرجن تفلات »
جس طرح مرد کی نماز گھر میں ہوجاتی ہے
بالکل اسی طرح ایک عورت کی نماز بھی مسجد میں ہوجاتی ہے ۔
لیکن مرد کے لئے نماز پڑھنے کی بہتر جگہ مسجد ہے اور عورتوں کے لئے بہترین مسجد ان کا اپنا گھر ہے۔
لہذا فرض نماز گھر پڑھ لینے والے مرد کو مسجد میں نماز ادا کرنے کی دعوت دی جائے اورمسجد میں نماز کا معمول بنالینے والی خواتین کو گھر نماز ادا کرنے کی ترغیب دی جائے یہی مزاج شریعت ہے۔
جس طرح مسجد میں نماز ادا کرنے والے مرد کو گھر پر نماز ادا کرنے کی دعوت دینا شریعت کی مخالفت ہے۔
بالکل اسی طرح گھر میں نماز ادا کرلینے والی خواتین کو مسجد کی رغبت دلانا مزاج شریعت کی مخالفت اور ایک احمقانہ کوشش ہے۔
عرف:
جو حضرات عرف اور حالات کو بنیاد بنا کر عورتوں کے مساجد آنے کی وکالت کر رہے ہیں، ان کے لیے عرض ہے کہ ہندوستانی عرف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ عورتیں مسجد کے بجائے گھروں میں نماز پڑھا کریں۔
وباللہ التوفيق والسداد
جنید احمد قاسمی
22/03/1444ھ

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے