بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالات  (علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام میں کوشاں سر سید احمد...

  (علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام میں کوشاں سر سید احمد خان کے ایک مشہور خطاب کا لب لباب )  

شام در شام جلیں گے تیری یادوں کے چراغ

نسل در نسل ترا درد نمایاں ہوگا

(علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام میں کوشاں سر سید احمد خان کے ایک مشہور خطاب کا لب لباب )

  نثار احمد

"Sir Syed Ahmad Khan was prophet of education”

مہاتما گاندھی نے سر سید کی تعلیمی خدمات سے متاثر ہو کر انہیں جدید تعلیم کا پیامبر کہا تھا، سر سید جدید تعلیم کے بڑے حامی تھے، ان کا ماننا تھا”The basis of all progress is that you should bring all treasures of knowledge under your control، یعنی تمام تر ترقی کا راز اس میں مضمر ہے کہ تمام طرح کی چیزیں آپ کے علم میں آجائیں” جس کے لیے جدید تعلیم کا حصول از حد ضروری تھا، سر سید کا مشہور قول ہے” فلسفہ ہمارے دائیں ہاتھ میں ہوگا سائنس ہمارے بائیں ہاتھ میں اور کلمہ لا الہ الا اللہ کا تاج ہمارے سر پر ہوگا- سر سید اس کے لیے دن رات کوشاں بھی تھے،بڑی مشقت کے بعد ان کی کوشش ثمر آور ثابت ہوئی،اور محمدن اینگلو اورینٹل کالج کا قیام عمل میں آیا, کالج کے قیام کے موقع پر انہوں نے دردمندانہ خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:

میرے پیارے دوستو،

یہ چھوٹا سا مدرسہ جو ہم کھولنے جا رہے ہیں اللہ کے فضل سے ایک دن عالیشان یونیورسٹی بنے گا، میں نے کلکٹر صاحب جناب ہنری لارنس کو کو ایک درخواست دی ہے، یہ درخواست کلکٹر صاحب نے انگریزی حکومت کو بھیج بھی دی ہے، جس میں ہم نے کہا ہے یہ جو 74 ایکڑ زمین بیکار پڑی ہے وہ ہمیں یونیورسٹی بنانے کے لیے دے دی جائے یا اگر اتنی نہیں تو کم از کم اتنی زمین ضرور دی جائے جس میں ہم ایک اچھا کالج بنا سکیں، باقی زمین تو ہم چندے سے خرید لیں گے –

سر سید کو معلوم تھا یونیورسٹی کا قیام اتنا آسان نہیں ہے، انہیں طعن و تشنیع کا شکار ہونا پڑا، خود پر کفر کے فتوے سہے، اپنے اور بیگانے سب نالاں تھے لیکن ان سب کے باوجود ان کا حوصلہ پست نہیں ہوا، البتہ اپنوں سے ملے دکھ کی ٹیس ضرور تھی، دل میں ایک کسک تھی، دوران خطاب اپنوں کو کوستے ہیں:

مجھے یہاں اسٹیج پر دیکھ کر کون لوگ خوش نہیں ہیں،وہی لوگ جن کے دلوں میں قوم کے لئے محبت نہیں ہے جن کے دلوں میں جھوٹی شیخی بھری ہوئی ہے – ارے رئیسوں، دولتمندوں، تم یہ مت سمجھو کہ تم نے اپنے بچوں کے لیے سب کچھ جٹا لیا ہے،تم سے پہلے بھی بہت سے لوگوں نے ایسا سوچا تھا لیکن آج ان کے بچوں کا کیا حال ہے؟ یہ حال ہے کہ ہم ان کے لیے آج اسٹیج پر کھڑے ہیں،(اور چندہ جمع کر رہے ہیں)-

سر سید پر انگریزی حکومت کی طرف داری کا الزام لگا،بعض لوگوں نے انہیں اخوان الشیاطین کہا، ان پر کفر کا فتویٰ لگا، ملحد اور خوارج تک کہا گیا، سر سید تمام علوم کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کی وکالت کرتے تھے، جبکہ علماء کا یہ ماننا ہے کہ قرآن وحدیث کو کلی طور پر عقل کی کسوٹی پر نہیں پرکھا جا سکتا، یہ ایک لمبی بحث ہے، انہیں بنیادوں پر سر سید پر کفر کے فتوے بھی لگائے گئے،پھر بھی وہ خاموشی سے اپنے مشن میں لگے رہے، پر دل ہی دل میں کڑھتے تھے:

آپ مجھے کافر سمجھتے ہیں، غدار سمجھتے ہیں،سمجھیے لیکن اگر کوئی کافر اپنے ہاتھوں سے آپ کے لئے کوئی مسجد بناتا ہے تو کیا آپ اس مسجد کو ڈھا دیتے ہیں؟ مجھ کافر کو یہ مسجد یے مدرسے بنا لینے دیجیے،میری محنت پر رحم کیجیے، کچھ دن میں ہم مر جائیں گے پھر آپ سے چندہ کون مانگے گا؟

یہ کالج جس کا آج سنگ بنیاد رکھا گیا ہے ایک طویل عرصے سے میری زندگی کا واحد مقصد رہا ہے،ہماری تمام مصیبتوں سے نجات اور ترقی کا ایک ہی راستہ ہے،ایک ہی حل ہے، اور وہ ہے” تعلیم”، ایک ایسی تعلیم جو صحیح معنوں میں تعلیم ہو، یہی میری زندگی کا مقصد رہا ہے،

سر سید اپنے رفقاء کی قدر کرتے تھے،خاص طور سے ان حضرات کی جنہوں نے یونیورسٹی کے قیام میں ان کی مدد کی، ان کے شانہ بشانہ رہے:

یہ سچ ہے کہ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج میری کوششوں کا نتیجہ ہے،لیکن میں اکیلا کیا کرتا اگر میرے مددگار نا ہوتے،میرے ساتھی نا ہوتے تو شاید اس خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنا میرے لیے دشوار ہوتا،مجھے یقین ہے کہ اس کالج کی کامیابی کا سہرا مجھ سے زیادہ میرے ساتھیوں کے سر جائیگا، مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ زندگی کے آخری حصے میں میں کہ جس کام نے مجھے اتنے عرصے تک باندھے رکھا، اس کام نے مجھے ایک طرف نا صرف اپنوں ہم وطنوں کی ہمدردی دلائی بلکہ دوسری طرف انگریز حکمرانوں کی حمایت بھی،کچھ عرصہ جاتا ہے میں آپ لوگوں کے بیچ میں نہیں رہوں گا،لیکن اگر اللہ نے چاہا تو یہ کالج ترقی کرتا رہے گا اور میرے ہم وطنوں کو تعلیم کی دولت سے مالامال کرتا رہے گا-

قوم کے اس عظیم محسن کو ہم سلام پیش کرتے ہیں، اللہ پاک ان پر اپنی رحمت کا سایہ دراز کرے۔

(جدید تعلیم کے بانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے احساس ممنونيت کے ساتھ نقل کی کی گئی ایک مختصر تحریر)

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے