علماے کرام کی سیاست سے دل چسپی: ایک خوش آئند پیش رفت!

41
تحریر: محمد شفاء المصطفی شفا مصباحی شعبہ تحقیق: جامعہ اشرفیہ مبارک پور۔
اس بار یہ ماحول دیکھ کر بڑی مسرت ہو رہی ہے کہ علماے کرام سیاست حاضرہ سے خاصا دل چسپی لے رہے ہیں اور عوام کے ووٹوں کا صحیح رخ متعین کر رہے ہیں۔ اس سے جہاں عوام میں ایک خوشی کی لہر ہے کہ ان کے ووٹوں کا صحیح مصرف متعین ہو رہا ہے، وہیں دوسری جانب  ان نام نہاد مسلم لیڈران کے پیٹ میں کافی درد ہے جو مسلم قیادت کے نام پر الٹے مسلمانوں ہی کا استحصال کر رہے تھے اور اپنی روٹی سینکنے اور اپنی جیب بھرنے کے چکر میں وہ کسی بھی حد تک قوم و ملت کا زیاں برداشت کر لینے کے لیے ہمہ وقت آمادہ تھے۔ ایسے لوگ” کھسیانی بلی کھمبا نوچے” کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے جگہ بہ جگہ علماے کرام کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا رہے ہیں اور عوامی سطح پر یہ باور کرانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں کہ علماے کرام کو سیاست سے کیا سروکار! انھیں تو صرف منبر و محراب کی ذمہ داریاں نبھانی چاہیے۔ سیاست میں تو صرف دلالی اور رشوت خوری ہے، اس طرح تو ہمارے علما رشوت خور اور دلال ہو جائیں گے۔
    خیر! ان کا یہ کہنا ” المرء یقیس علی نفسه.”( انسان دوسرے کو اپنے اوپر قیاس کرتا ہے) کے مطابق درست ہے مگر  ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ علماے کرام صرف منبر و محراب تک ہی نہیں بلکہ ہر محاذ پر ہمارے قائد و رہنما ہیں اور ہم ان کی اس قیادت و رہنمائی کو بسر و چشم تسلیم کرتے ہیں۔نیز ایسے لوگ یہ بھی جان لیں کہ الحمدللہ! آج بھی ہمارے علما ایسے ہیں جو قوم و ملت کی فلاح وبہبود کے لیے اپنا تن من دھن سب قربان کرنے کو ہمیشہ تیار ہیں۔ راقم الحروف نے ایسے سینکڑوں علما کو دیکھا ہے جو صبح سے شام تک صرف اپنی جیب خاص کے صرفے سے اچھے نمائندوں اور امید واروں کے لیے زمینی سطح پر کام کر رہے ہیں۔ ہاں! کچھ نام کے مولوی ایسے ہیں جنھیں قوم و ملت سے زیادہ اپنا مفاد محبوب ہے۔مگر ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہیں، اس لیے ان چند نام نہاد مولویوں کی وجہ سے پوری جماعت علما کو طنز کا شکار بنانا کسی طرح درست نہیں۔ علماے کرام کا کسی بھی جہت سے سیاست میں حصہ لینا ہمارے لیے ایک خوش آئند اقدام ہے، ہم ان کے اس جذبۂ فراواں کو سلام کرتے ہیں اور ان کی بارگاہ میں مخلصانہ التماس کرتے ہیں کہ آپ اچھے امید واروں کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ خود بھی سیاسی میدان میں آگے آئیں اور اپنے حکیمانہ و منصفانہ طرزِ سیاست سے امت مسلمہ کی صحیح رہنمائی فرمائیں اور دلال و رشوت خور لیڈران کی گندی سیاستوں کا خاتمہ کریں، اسی میں ہمارے روشن مستقبل کا راز مضمر ہے۔کیوں کہ آج ہمارے زوال و انحطاط کی ایک اہم اور بڑی وجہ سیاسی میدان میں ہمارا عدم استحکام بھی ہے۔ اس لیے ہمیں اس میدان میں آگے آنا ہوگا اور اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا ہوگا تاکہ ہمارے روشن مستقبل کا خواب کچھ حد تک شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔
   واضح رہے کہ سیاست، شریعت سے متصادم نہیں بلکہ شریعت طاہرہ ہی کا ایک حصہ ہے۔ یہ غلط فہمی تو اغیار و مخالفین اور دشمنوں نے پھیلائی ہے کہ دین و سیاست میں باہم منافات ہے اور دونوں کی راہیں الگ الگ ہیں، اس لیے علماے کرام کو سیاست میں حصہ نہیں لینی چاہیے، حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں میں منافات نہیں بلکہ دونوں میں بڑا گہرا ربط و علاقہ ہے اور دونوں لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ محسن انسانیت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم، ان کے جملہ خلفا و اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے تمام نائبین یعنی علماے کرام نے ہمیشہ ملت اسلامیہ کی بھرپور سیاسی رہنمائی فرمائی ہے۔ ملت اسلامیہ کی سیاسی تاریخ کا کوئی باب ایسا نہیں جو علماے کرام کے عملی سیاست میں حصہ لینے کے مسئلہ میں خاموش ہو۔ ان نفوس قدسیہ نے جہاں منبر و محراب کی ذمہ داریاں نبھائی ہیں، وہیں دوسری طرف قومی و ملی فلاح و بہبود کی خاطر امت مسلمہ کی الجھی ہوئی سیاسی گتھیاں بھی سلجھائی ہیں۔ جہاں انھوں نے قرآن و حدیث اور فقہ و تاریخ کی نشر و اشاعت کے لیے جد و جہد اور کاوشیں فرمائی ہیں، وہیں دوسری طرف جرائم و مفاسد کے انسداد اور عدل و انصاف کے نفاذ کے لیے بھی بے لوث قربانیاں دی ہیں۔ اس لیے علماے کرام کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا اور اپنی غلط بیانیوں سے ان کے عوامی وقار کو مجروح کرنا نہایت گھٹیا اور ذلیل حرکت ہے۔ لہذا ہماری یہ ملی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ایسے لوگوں سے باز رہیں، ان کی اس طرح کی باتوں پر کان نہ دھریں اور متحد ہو کر سیاسی میدان میں اپنی پکڑ مضبوط کرنے کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار کریں۔ یاد رکھیں!یہ وقت ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر سوچنے یا اپنی گذشتہ ناکامیوں پر اشک ندامت بہانے کا نہیں بلکہ میدان میں آکر کچھ کر گزرنے کا وقت ہے۔ حالات کی یہی پکار ہے اور وقت کا اہم ترین تقاضا بھی۔ اگر آج ہم نے ذرہ برابر بھی بے اعتنائی برتنے کی کوشش کی تو یہ ہمارے تاریک مستقبل کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے اٹھیں! آج نہیں بلکہ ابھی، اور اپنی وسعت و بساط کے مطابق قومی و ملی مفاد کی خاطر کچھ کر گزریں۔
   اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کی ہر محاذ پر نصرت و حمایت فرمائے اور آپس میں اتحاد و اتفاق کے ساتھ رہنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین۔