جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتعلمائے کرام اپنے اندر احساسِ ذمہ داری پیدا کریں!

علمائے کرام اپنے اندر احساسِ ذمہ داری پیدا کریں!

جناب حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی،ؒسابق ایم پی،وصدرآل انڈیا،ملی،تعلیمی فائونڈیشن

جناب مولانااسرارالحق صاحب قاسمیؒ اب اس دنیامیں نہیں ہیں،ان کی یہ تحریر اس تک دنیا کےسامنے آئی،جب دنیا ان کے جنازہ کی طرف کھینچی چلی جارہی تھی،اوروہ روزنامہ انقلاب میں علماء کرام کواحساس ذمہ داری کی طرف توجہ دلارہے تھے،وہ اب یقینااس دنیامیں نہیں ہیں،مگر ان کی یہ تحریرعلماء کرام اوروارثین انبیاء کوتوجہ دلارہی ہے کہ اپنے اندراحساس ذمہ داری پیداکرو!!

اسلام میں دین کا علم رکھنے والے طبقے کو خاص فضیلت حاصل ہے اور اسے اللہ کے رسول نے نبیوں کا وارث قراردیاہے،قرآن کریم کی ایک آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایاہے کہ’’ اللہ سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو اہلِ علم ہیں‘‘اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ لوگ جودنیا کی حقیقت اور دنیاوی زندگی کے بعد کی دائمی زندگی کی حقیقت سے واقف ہیں اور دین کے اوامر و نواہی سے آگاہ ہیں وہ اللہ سے کماحقہ ڈرتے ہیں ۔
پھر اللہ سے ڈرنے کا مطلب ویسا ڈرنانہیں ہے؛ جیساکہ دنیامیں کسی ظالم بادشاہ سے اس کے رعایاڈرتے ہیں یا کسی درندہ صفت حکمراں سے اس کے ملک کے لوگ ڈرتے ہیں،بلکہ ایک خاص قسم کا ڈرناہے جسے قرآن پاک میں ’’تقویٰ‘‘کانام دیاگیا ہے ۔
احادیث میں جس کی تشریح یوں کی گئی ہے کہ انسان اپنی زندگی اللہ کے احکام کی اطاعت و بجاآوری میں گزارے اور اس کی منہیات سے اجتناب کرتا رہے،برائیوں سے اس طرح دامن بچاکر چلے جیسے کوئی انسان کانٹوں بھری وادی میں چلتے ہوئے اپنے دامن اور کپڑوں کو بچاکر چلتا ہے۔اسی کانام تقویٰ ہے اور اسی کا اللہ نے تمام انسانوں کوحکم دیاہے اور ان لوگوں کے بارے میں جو دین کا یعنی اوامرونواہی اور شریعت کی روح کاعلم رکھتے ہیں یہ فرمایاہے کہ وہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں،یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے علماء کو نبیوں کا وارث قرار دیاہے کیوںکہ انبیاء تقویٰ و پرہیزگاری کے اعلیٰ ترین معیار پرہوتے ہیں ،لہذا نبیوں کے جو وارث ہوں گے وہ بھی تقویٰ و پرہیزگاری والے ہوںگے۔
پھر ہمیں یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ نبیوں کی وراثت سے مراد نسل و نسب یا اموال و جائدادکی وراثت نہیں ہے،بلکہ یہ وراثت حق کی تبلیغ اور انسانیت کو بھلائیوں کی طرف بلانے اور برائیوں سے روکنے کی وراثت ہے۔یہ وراثت دنیامیں حق کو قائم کرنے اور باطل کو ختم کرنے کی جدوجہد کی وراثت ہے،یہ وراثت سچائی ،امانت داری، حسن اخلاق،غریبوں اور کمزوروں کی اعانت و مدد اور ظالموں سے انہیں بچانے کی وراثت ہے،یہ وراثت انسان کے ہر طبقے کو انصاف دلانے کی کوشش کرنے اور اس کوشش میں آخری حد تک جانے کی وراثت ہے،یہ وراثت اس کشادہ ظرفی اور دل و نظر کی وسعت کی وراثت ہے جسے اللہ نے اپنے نبیوں کو عطاکیاتھا۔لہذا علمائے دین کو صرف اس فضیلت پر خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے کہ انہیں اللہ نے نبیوں کا وارث بنایا ہے۔
آج کل اکثر و بیشتر دینی مجلسوں میں دیکھنے کو ملتاہے کہ علماء عوام کے سامنے اس حدیث کو بیان کرکے صرف علماء کی فضیلت اور ان کے مراتب پر وعظ کرتے ہیںاوروہ عملی طورپر اس حدیث یافضیلت کے اندر چھپی ہوئی اس عظیم ذمہ داری کے احساس سے پوری طرح یا توعاری ہیں یا اگر انہیں اس کا احساس ہے توبھی عمل سے اس کا مظاہرہ نہیں ہوتا۔جو لوگ دین کا علم رکھتے ہیں ان پر تو خاص کر موجودہ گمراہی و بد دینی کے عروج کے دور میں بے پناہ ذمہ داریاں ہیں، سب سے پہلی ذمہ داری تو یہی ہے کہ وہ اپنی عملی زندگی کو پہلے ان تعلیمات کے سانچے میں ڈھالیں جو انہوں نے قرآن و احادیث کے ذریعے سے حاصل کی ہیں،پہلے اپنی زندگی میں سیرتِ نبویﷺ کی ہدایات کو اتاریں اور آپؐ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اپنی زندگی گزاریں،اس کے بعد جو ذمہ داری ہے وہ یہ ہے کہ اپنے گھر کی،پھر اپنے محلے کی،پھر اپنے گاؤں کی اوراسی ترتیب سے دنیا ئے انسانیت کی نجات و کامرانی کی فکر کریں اور اس کے لئے موجودہ دور میں جو جائزاور کارگروسائل اختیار کرسکتے ہیں وہ اختیار کریں۔
عصر حاضر اسلام اور مسلمانوں کے لئے نہایت آشوبناک دور ہے اور اس میں اسلام اور مسلمانوں کو جو چیلنجز درپیش ہیں،وہ اسلام کے دوبڑے اور تاریخی دشمن عیسائی اور یہودی دونوں کی مشترکہ کوششوں سے پیدا کیے گئے ہیں۔تاریخ سے واقفیت رکھنے والے لوگ جانتے ہوں گے کہ عیسائی اور یہودی ایک زمانے تک ایک دوسرے کے سخت ترین دشمن رہے ہیں،بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت عیسیؑ کو یہودیوں نے ہی سولی پر چڑھانے کی کوشش کی تھی اور گزشتہ صدیوں میں یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان تاریخ کی بھیانک ترین جنگیں لڑی گئی ہیں،مگر بیسویں صدی کے وسط سے ان کی تاریخ میں ایک عظیم بدلاؤ آیااور فلسطین میں اسرائیلی مملکت کو قیام کروانے کے بعد سے موجودہ دور کے عیسائی اور یہودی پوری طرح شیروشکر ہوچکے ہیں،علم و تحقیق اور سائنس و ٹکنالوجی پر ان دونوں طبقات کا تسلط ہے اور وہ ساری دنیاکو اپنی خواہش و مرضی کے مطابق نچارہے ہیں۔
دوسری طرف مسلمان ہیں کہ ان کے پاس سب سے سچا خدائی پیغام ہے،ہزاروں سال وہ دنیا پر حکومت کرچکے ہیں اور ایک بہت بڑا خطۂ ارضی ان کے زیر کنٹرول رہاہے،مگر آج مجموعی طورپر پوری دنیاکے مسلمانوں کی حالت نہایت خستہ ہے۔اس کی بے شمار وجہیں ہوسکتی ہیں اور لوگ اپنے اپنے علم و مطالعہ کی روشنی میں ان وجوہات کی نشان دہی بھی کرتے رہتے ہیں،مگر میری سمجھ میں مسلمانوں کے ہمہ گیر زوال کی شروعات تو کئی صدی قبل اس وقت شروع ہوگئی تھی،جب علماء امت یعنی نبیوں کے وارث اپنے فرضِ منصبی کوب بھول گئے اور امت کو جوڑنے کے بجائے ان کے درمیان انتشار و خلفشار پھیلانے کا ذریعہ بننے لگے تھے،جب یہ ہواتو دیکھتی آنکھوں خلافت عباسیہ جیسی مضبوط ترین اسلامی سلطنت نیست و نابود ہوگئی اور بیسویں صدی کی تیسری دہائی میںعثمانی خلافت کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی ۔اللہ کے نبیﷺ جب صحابہ کی کسی جماعت کو تبلیغ کے لئے یا جہاد کے لئے کسی علاقے یا قبیلے میں بھیجا کرتے تھے،توانہیں حسب موقع کئی نصیحتیں فرماتے تھے،جن میں ایک نصیحت یہ ضرور ہوتی تھی کہ’’ان کے لئے دینِ اسلام کو آسان بناکر پیش کرنامشکل بناکر پیش نہ کرنااور انہیں خوش خبری سنانا،انہیں ڈرادھمکاکر متنفر نہ کرنا‘‘
آج جو دین کی دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دینے والا طبقہ ہے یا جو جو لوگ کتاب و سنت کی تعلیم واشاعت کا ذمہ اٹھائے ہوئے ہیں کیا ان کا رویہ ایسا ہے؟کچھ منتخب لوگ ایسے ہوں تو ہوں ،مگر مجموعی طورپر ہم اپنے لوگوں کو ہمیشہ ڈراتے دھمکاتے ہی ہیں،مسجدوں سے لے کر دینی جلسوں تک میں واعظین و مقررین صرف عذاب و سزاکی شکلیں ہی بیان کرتے ہیں،انہیں گویا اس کا احساس ہی نہیں ہے کہ ہمارے نبیﷺ لوگوں کو کیسے اپنے قریب کرتے تھے اور کس طرح نہایت سخت دل بدوکوبھی اپنے اخلاق کی قوت سے پل بھر میں موم کردیتے تھے،کیسے ہمارے نبیﷺ نے ثمامہ بن اثال نامی یمامہ کے عظیم سردار کو تابعِ اسلام کیا اور کس طرح مسجد کے اندر پیشاب کرنے والے ایک دیہاتی شخص کو نرمی کے ساتھ سمجھایاکہ مسجدعبادت کرنے کی جگہ ہے،یہاں پیشاب نہیں کرناچاہئے۔
ہمارے علماء کے طبقہ کو اپنی فضیلت و برتری کے احساس کے ساتھ اس فضیلت کے ساتھ آنے والی ذمہ داری کابھی احساس پیدا کرنا ہوگا۔یہ ذمہ داری بہت بڑی ہے ،لہذااس کی ادائیگی میں ہمیں اسی قدر احتیاط سے کام لیناہوگا۔حسنِ اخلاق کا اثر ہر دور میں مسلم رہاہے مگر آج کی نسل کو ہم محض نرمی اور اخلاقی کی خوبی کے ذریعہ ہی راہ راست پر لاسکتے ہیں۔اس دور میں نہ تو تحریر کی تندی و تیزی کسی پر اثر کرسکتی ہے اور نہ ڈانٹ ڈپٹ والی تقریر کسی کو راہ راست پر لاسکتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ علماء کامقام اللہ کے نزدیک بہت بڑا ہے،مگر یہ بھی تو حقیقت ہے کہ جس کا رتبہ بلند ہوتا ہے اس کے لئے اتنی ہی مشکلات ہوتی ہیں،مثال کے طور پر وزیر اعظم ملک کا سب سے قابل تعظیم انسان ہے اور وہ پورے ملک میں نمبر ایک کا شہری ہے مگر ساتھ ہی اس کی ذمہ داری بھی نہایت عظیم اور نازک ہے جس کی ادائیگی میں اگر وہ کوتاہی کرتا ہے تو ایک معمولی سے معمولی شہری بھی اسے برابھلاکہتا ہے،اس کا احتساب کرتا ہے اور آج کے جمہوری دور میں اسے حکومت سے بے دخل کردیتا ہے۔اسی طرح علماء دین کوبھی سمجھناچاہئے کہ اللہ نے نبیوں کا وارث بناکر ایک بہت ہی عظیم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ڈال دی ہے،چنانچہ منصب نبوت کے تقاضوں کو ہر حال میں اداکرنے کی کوشش کرنی ہے اور اس راہ کی مشکلات کو ہمیشہ نگاہوں کے سامنے رکھناہے۔mvm

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے