جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتعلماء کرام نے انگریزوں کا مقابلہ کس طرح کیا؟

علماء کرام نے انگریزوں کا مقابلہ کس طرح کیا؟

✍خالدانورپورنوی
"ایک ملک،ایک مذہب،ایک حکومت” یہ انگریزوں کا سپناتھا،اندلس میں انگریزوں کو کامیابی مل چکی تھی،اورہندوستان میں اس عمل کودہراناچاہتی تھی ، اسی مقصد کے پیش نظرکثیرتعدادمیں پادریوں کو ہندوستان بھیجاگیا ،اوراس کی قیادت عالمِ عیسائیت کے سب سے بڑا پادری ( فنڈر)کوسونپی گئی،فنڈرکا قیام آگرہ میں تھا، وہیں پروگرام بنتا،اور پورے ملک میں مشنری کی طرح اس کام کو انجام دیا جاتھا،گورنمینٹ کی چونکہ سرپرستی حاصل تھی، بلکہ ایسٹ انڈیا کمپنی توعیسائیت کے فروغ اور پورے ملک کو عیسائیت کے رنگ میں رنگنے کے لئے لندن پارلیمنٹ سے اس کی منظوری بھی حاصل کرچکی تھی،اس لئے بڑے ہی زورو شور سے عیسائیت کی تبلیغ ہونے لگی،اور دوسرااندلس بنانے کو مضبوط پلان تیارکیاجانے لگا۔
اسلام،شعائراسلام کو نشانہ بنایاجانے لگا،دہلی کی جامع مسجدکی سیڑھیوں پر چڑھ کر مسلمانوں کوللکارا جاتا، یہاں تک کہ یہ خبربھی پھیل گئی کہ جامع مسجد کوگرجاگھرمیں تبدیل کردیاجائے گا،انگریزکا سب سے بڑاپادری فنڈر کی کتاب میزان حق کی تقسیم واشاعت ہونے لگی،مقصدیہی تھاکہ پوراہندوستان عیسائیت کے ماننے والے بن جائیں،مسلمانوں کےعلاوہ ہندوبھائیوں کے لئے یہ بہت بڑا مسئلہ تھابھی نہیں،مگر امتِ محمدیہ ﷺ کے لئےیہ بڑی شرم کی بات تھی، حالانکہ وہ ایسا دور تھاکہ انگریزی حکومت کے خلاف کسی میں بولنے کی ہمت نہیں تھی، ایسے میں یہی بوریہ نشیں علماء کرام میدان میں آئے،اوراس وقت کے سے سب سے بڑی طاقت سے ٹکر لے لی۔
تاریخ میں یہ واقعہ درج ہے کہ کیرانہ کے رہنے والے مولانارحمت اللہ صاحب آگرہ کے لئے روانہ ہوگئے،پادری فنڈر سے ملے،اور مناظرہ کی دعوت دے دی،پادری فنڈر کو اپنی حکومت،اقتدارپربڑاغرورتھا،اس لئے مناظرہ کو قبول کرلیا،اور تاریخ طے ہوگئی،10 اپریل 1854 کو آگرہ میں ،مناظرہ شروع ہوا،پادری کو اپنے بارے میں علم کے پہاڑ ہونے کا دعویٰ تھا،مگر وہ مولانارحمت اللہ کیرانوی کے دلائل کے سامنے ٹک نہیں سکا،مناظرہ نسخ، الوہیت مسیح، نبوت محمدی اور قرآن بر حق جیسے موضوعات پر تھا،پہلے ہی دن مولانارحمت اللہ کیرانوی نے توریت میں تحریفات کے اتنے دلائل پیش کئے کہ پادری بغلیں جھانکنے پرمجبور ہوا، یہاں تک کے کئی جگہوں پر تحریفات کا اقراربھی کیا،دوسرے دن بھی مناظرہ ہوا،مگر پادری فنڈراور اس کے ساتھیوں کے پاس مسئلہ نسخ اور الوہیت مسیح پر کوئی جواب نہیں تھا، سرکاری کارندے وہاں موجودتھے،سارے لوگ دیکھ رہے تھے کہ پادریوں کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔
یہ کوئی عام مناظرہ نہیں تھا؛بلکہ مسلمانوں کی تہذیب وثقافت کو باقی رکھنے کے لئے لڑی جانے والی ایک ایسی جنگ تھی کہ یہیں سے مستقبل کا نقشہ تیارہوتا،اور یہیں سے اس ملک کے مذہب کا بھی فیصلہ ہوتا،لیکن الحمدللہ اس جنگ میں علماء کرام کو کامیابی ملی،پادری فنڈربری طرح ہارگیا،اس مناظرہ کی گونج پورے ہندوستان میں پھیل گئی،مسلمانوں کو حوصلہ ملا،ایک مذہب،ایک حکومت کا سپناانگریزکا چکناچور ہوکررہ گیا،اسی پر بس نہیں کیابلکہ مولانارحمت اللہ کیرانوی نے فنڈرکی کتاب کے جواب میں ازالۃ الاوہام کتاب لکھی،اسی طرح اظہارالحق بہت ہی معرکۃ الآراء کتاب تصنیف فرمائی،جس کے بارے میں انگریز نے کہاتھا:اس کتاب کے رہتے ہوئے عیسائیت کافروغ ممکن نہیں ہے،پادی تو بغیراطلاع کے فوراہی یہاں سے فرارہوکرلندن پہونچ گیا،مگر حکمرانوں کو شکست کا اتناصدمہ تھاکہ پادری فنڈرکو لندن میں عہدہ سے معزول کردیاگیا۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے