علامہ اقبالؒ کا نظریۂ تعلیم

250

 “علامہ اقبالؒ کا نظریۂ تعلیم”
کالم نویس: ڈاکٹر مجدّدی مصطفیٰ ضیفؔ
سرینگر کشمیر

  علامہ اقبالؒ کا شمار اپنے عہد کی قدآور شخصیات میں ہوتا ہے، وہ شاعر، فلسفی، صوفی اور سیاست دان سبھی کچھ تھے۔ انہوں نے تعلیمی موضوعات مسائل اور ان کے حل پر بھی ا پنے خیالات کا اظہار کیا۔ اُن کے کلام، بیانات اور مکاتیب وغیرہ کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اُن کے نزدیک تعلیم کی دو قسمیں ہیں،1؛ رسمی تعلیم۔ 2؛غیر رسمی تعلیم۔ اگرچہ علامہ اقبالؒ نے درس وتدریس، تعلیم ومعلم اور طلبا و مدارس وغیرہ جیسے تعلیم کے رسمی موضوعات پر کوئی بحث نہیں کی تاہم ایک دانشور، فلسفی اور بڑے شاعر کی حیثیت سے انہوں نے تعلیم کے غیر رسمی مسائل پرخوب خامہ فرسائی کی ہے۔ اور ان مسائل کو اپنے کلام کا حصہ بنایا ہے جن کی تفہیم یا تشریح کے لئے ان کے فلسفۂ خودی یا بے خودی کو سمجھنا نا گزیر ہے۔ تاہم محض ان کے فلسفے کو ہی بنیاد بنا کر انہیں ماہرِ تعلیم یا مفکرِ تعلیم کہنا یا ماننا مناسب نہیں، کیوں کہ اقبال نہ ہی ماہرِ تعلیم تھے اور نہ ہی انہوں نے فنِ تعلیم پر کوئی سند حاصل کی تھی، جبکہ وہ فلسفے کے فارغ التحصیل تھے۔ تا ہم وہ بہترین استاد ضرور تھے اور دنیا کا کوئی بھی محقق یا ناقد اس حقیقت سے ا نکار کرنے کی جرّت نہیں کر سکتا۔اقبال ایک ایسی شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے بیک وقت مشرق ومغرب کو متاثر کیا لٰہذا ان کے تعلیمی نظریات ( Educational ideas or theories )کویکسر نظر انداز کر دینا ایک غیر ذمّہ دارانہ، غیر منصفانہ اور غیر دانشمندانہ عمل ہو گا۔ اقبال نے تعلیم کے فنّی اور علمی پہلوؤں پر غور و فکر کر نے کے ساتھ ساتھ تعلیم کے مفہوم، مسائل، اغراض و مقاصد، ڈھانچے اور معیار پر خامہ فرسائی کی ہے، انہوں نے جدید مغربی، قدیم مشرقی اور اسلامی نظام تعلیم پر بحث کی ہے، مدرسہ، استاتذہ، طلبا، نصاب وغیرہ تمام موضوعات پر غورو خوض کیا ہے۔ اور یہ بتایا ہے کہ حیات وکائنات کی تفہیم، تعبیر اور تشریح، زندگی کو کامیاب طریقے سے گزارنے اور شرکی قوتوں سے مزاحمت کرنے یا ان پر قابو پا نے کے لئے کس طرح کی تعلیم یا تعلیمی نظام کی ضرورت ہے۔تعلیم اور مسائلِ تعلیم سے اقبال کا لگاﺅ نظریاتی اور عملی دونوں سطح پر نظر آتا ہے، مثال کی طو ر پرانہوں نے ملک کی بڑی جامعات میں تعلیم کے موضوع پر جو لیکچر دیئے ان کی حیثیت اعلیٰ تعلیم کے موضوع پر توضیحی خطبات کی ہے۔ اور تعلیم سے ان کی عملی وابستگی کا سب سے بڑا ثبوت یہی ہے کہ وہ شعبۂ تعلیم سے تقریباََ پندرہ سال تک منسلک رہے، علاوہ ازیں وہ مختلف یونیور سٹیوں کی تعلیمی کمیٹیوں کے ممبر، اعلیٰ اسناد کے امتحان میں ممتحن بھی رہے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے تعلیم کے موضوع کو بھی مرکزِ بحث بنایا اور اہم تعلیمی مسائل سے وابستہ ان کے خیا لات کوملکی اور بین الاقوامی سطح پر قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ جب ۲۱ ۹۱ءمیں مسٹر گوکھلے نے امپیرئل لیجسلیچر کونسل میں جبری تعلیم کا مسودہ پیش کیا تواس پر سیاسی تنظیموں کے ساتھ ساتھ مذہبی جماعتوں نے بھی اس کی تردید کی۔ لیکن ۸ ۱ فروری ۲۱۹۱ ءمیں اسلا میہ کالج لاہور میں ایک جلسے کی صدارت کے دوران اقبال نے جبریہ تعلیم کو روحانی چیچک کا ٹیکہ کرار دیا اور یہ فرمایا کہ اسلام میں جبری تعلیم کا نظریہ موجود ہے اور مسلمانوں کو حکم ہے کہ وہ کہ وہ اپنے بچوں کو زبر دستی یا جبراََ نماز پڑھائیں، روزہ رکھنے پر مجبور کریں۔معلوم ہوا کہ اقبال مسائلِ تعلیم کی تفہیم میں کس قدرکشادگی سے کام لیتے تھے۔ تعلیم کے عملی اور نظریاتی مسائل سے ان کی دلچسپی کا اندازہ”اسرار خودی“اور ”رموز بے خودی“ سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔کلامِ اقبال کے ان مجموعوں کے مطالعے سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ اقبال علومِ جدیدہ کے ساتھ ساتھ قرآن حکیم اور اسلامی تاریخ کی تعلیم کے بھی حامی تھے اور دونوں مضامین کی تعلیم کوکسی بھی ملک، قوم اور معاشرے کی ترقی کے لئے ناگزیر تصور کرتے تھے۔ ان کے خیال میں جدید تعلیم مذہبی تعلیم کے بغیر فرد میں ہوس، لالچ اور خودغرضی کو فروغ دیتی ہے اور خالص مذہبی تعلیم کے خول سے طالب علم انقلاب دُور حاضر سے بے بہرہ، روشن خیالی سے خالی اورقدامت پرست ہوتا ہے۔ ان کا یہ خیال اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے مسائل تعلیم پر بڑی گہری بصیرت حاصل کر لی تھی اور تعلیم کے بنیادی مسائل پر ان کے جو خیال وافکار سامنے آئے۔ان کو ماہرین تعلیم کافی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک حصولِ تعلیم کا مقصد عظمت آدمیت اور احترامِ آدمیت ہونا چاہیے اور ایسا تب ہی ممکن ہے جب انسان کی خودی مستحکم ہو گی۔ کیوں کہ استحکامِ خودی سے انسان میں وہ سیرت اور کردار پیدا ہوتا ہے جس کی بدولت وہ زندگی کے تمام تر مصائب و مشکلات پر قابو پا لیتا ہے۔ اقبال کے نزدیک خودی کی تربیت کے لیے غیر رسمی تعلیم کی اہمیت کسی طرح سے بھی کم نہیں بلکہ یہ رسمی تعلیم کے مقابلے میں کہیں زیادہ حقیقت شناس ہوتی ہے نیز اسکا سلسلہ لحد تک قائم رہتا ہے۔ لٰہذا اقبال کے نزدیک غیر رسمی تعلیم، رسمی تعلیم کے مقابلے میں کافی طویل عمل ہے اور یہ انسان میں زندگی بھر کے لئے شراب علم کی جستجو اور ولولہ پیدا کر دیتی ہے نیز انسانی خیالات و نظریات کے ارتقاءاور نشو و نماء میں تب تک لگی رہتی ہے جب تک اسے معراج بشریت نہ حاصل ہو جائے۔ مشرق ومغرب کے نظامِ تعلیم پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اقبال فرما تے ہیں کہ مشرق کا نظامِ تعلیم غیر مؤثر اور بے روح ہے، یہ حاکم قوموں کا زائیدہ ہے جو طالب علموں کو یاسیت، محرومی اور غلامانہ ذہنیت کا شکار بناتا ہے، لٰہذا مشرقی تعلیمی نظام تعلیم کے اُن مقاصد کو پورا نہیں کر رہاجن کا تعلق سیاسی، سماجی، نفسیاتی اور معاشی محکومی سے آزادی اور انسان میں عمل، یقین وسعی پیدا کرنے سے ہے۔ان کے مطابق مشرقی درسگاہوں میں جس طرح کی تعلیم مروج ہے اس کی بدولت نوجوان یاس اور محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان میں خیالات کی جدت، علم کی گہرائی، حقائق کی جستجو اور تجدد کا ذوق پیدا نہیں ہو سکتا۔ اقبال کے نزدیک موجودہ عہد کے تعلیمی اداروں میں جس طرح کے علم کے حصول پر زور دیا جاتاہے اس سے لادینی اور بے یقینی کے خیالات کو بڑھاوا ملتا ہے، دل بے نور رہتا ہے اور باطن میں عشق کی وہ حرارت پیدا نہیں ہوتی جو انسان کو ”اَنَااَلحَق“ کہنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اقبال نے مغربی نظامِ تعلیم پر بھی طنز وتنقید کی ہے۔ اپنے تین سالہ قیام یورپ کے دوران انہوں نے اسکالراور استاد کی حیثیت سے یورپ کے تعلیمی اداروں، نصاب، طریقۂ تعلیم وتربیت اور ان کے وہاں کی تہذیبی وثقافتی زندگی پر پڑنے والے اثرات کو قریب سے دیکھا لیکن مغرب کی تہذیبی ترقی کی شان وشوکت اقبال جیسے حکیم النظر شخص کو متاثر نہ کر سکی اور انہوں نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ مغربی تعلیم اور یہ نظامِ تعلیم مادہ پرستی کی بنیاد پر استوار ہے اور یہ نظامِ تعلیم عنقریب اپنی تباہی وبربادی کا سبب خود بخود بن جائے گا۔ اقبال کے نزدیک ہروہ نظام اور نظریہ وقت کے ساتھ ساتھ مٹ جاتا ہے جس کی بنیادیں اخلاقیات اور دینیات پر استوار نہ ہوں۔ ان کے خیال میں مغربی تعلیم کے حصول سے ہم مادی ترقی اور اس کی کامیابی اور کامرانی تو حاصل کر سکتے ہیں مگر دل و دماغ کو روشن اور منور نہیں کر سکتے چنانچہ وہ فرماتے ہیں۔ جوقوم کہ فیضان سماوی سے ہو محروم
     حد اس کے کما لات کی ہے بر ق و بخارات
     ہے دلوں کے لئے موت مشینوں کی حکومت
     احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
مغربی تعلیم اور نظامِ تعلیم پر اقبال کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ وہ لا دینی، غیر اخلاقی اور بے یقینی کے خیالات کو ہوا دیتا ہے اس تعلیم کے حصول سے بدن کی پیاس تو بجتی ہے لیکن روح کی تشنگی نہیں جاتی، مغربی دانش گاہوں میں اہلِ دانش تو پیدا ہوتے ہیں مگر اہلِ نظر نہیں بنتے، ان دانش گاہوں میں حصولِ تعلیم سے انسان سوزِ دماغ سے تو آشنا ہو جاتا ہے مگر سوزِ جگر سے نا آشنا ہی رہتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
     عذاب دانش حاضر سے باخبر ہوں میں
    کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثلِ خلیل
     مجھے وہ درس فرنگ آج یاد آتے ہیں
    کہاں حضور کی لذت کہاں حجاب دلیل
  ”بال جبریل“میں” شیخ مکتب“کے عنوان سے لکھی گئی نظم میں اقبال نے مدرسے کے استاد پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ استاد کی ذمّہ داری ہے کہ وہ طلبا کی سیرت کاصحیح سانچہ تیار کریں۔انہوں نے استاتذہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ استاد ہی صحیح معنوں میں قوم کے معمار ہیں اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبا کی جسمانی اور روحانی تربیت اعلیٰ سطح پر کریں انہوں نے مزید کہا کہ یہ استاتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے طالب علموں کو ایسی تعلیم دیں جس سے ان کے روح بھی منور ہوں اور وہ فیضانِ سماوی سے مستفید ہونے کے اہل بھی ہو جائیں۔اقبال فرماتے ہیں؛
     شیخ مکتب ہے اک عمارت گر جس کی صفت ہے روح انسانی
      نکتہ دلپزیر تیرے لئے کہہ گیا حکیم قاآنی
      ”پیش خورشید بر مکش دیوار خواہی از صحن خانہ نو رانی“
  اسی طرح ”ضرب کلیم“میں ” تربیت“ ، ”اجتہاد“ اور ہندی مکتب“ کے عنوان سے لکھی گئی نظموں میں انہوں نے مدرسے، تعلیم، معلم اور نصاب پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے 
      زندگی کچھ اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے
     زندگی سوز جگرہے علم ہے سوز دماغ
     شیخ مکتب کے طریقوں سے کشاد دل کہاں
    کس طرح کبریت سے روشن ہو بجلی کا چرا غ
       (نظم-تربیت)
یہ اور اس طرح کے بے شمار اشعاراقبال کے کلام میں موجود ہیں جن میں انہوں نے تعلیم اوراس موضوع سے متعلق بڑی تفصیل سے اظہارِ خیال کیا ہے اور ان کو میں طوالت کی وجہ سے پیش نہیں کررہا۔ اقبال نے مشرقی اور مغربی دونوں طرح کے نظامِ تعلیم کو طنزو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اقبال مشرقی و مغربی دونوں طرح کے نظام تعلیم سے بدظن اور نالاں ہیں تو پھر انہیں کون سا یا کس قسم کا نظامِ تعلیم قابل قبول ہے، تو اس ضمن میں ان کے کلام کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ مدارس کے تنگ نظر ماحول سے پاک، محکومی اور غلامی سے مبرا، روشن خیا لی سے مزین، تعصب اور تنگ نظری کے بجائے کشادہ نظری، احترامِ آدمیت، اخوت اور انسانی محبت وبھائی چارے پر استوار ایسے تعلیمی نظام کے خواہاں ہیں۔ جو انسان میں خودی پیدا کرے۔ ان کی یہ خواہش ہے کہ درس گاہیں سب سے پہلے آدمی کو انسان بنا ئیں، اُسے مادیت کے ساتھ ساتھ روحانیت بھی عطا کریں، دین کے ساتھ ساتھ دنیا داری بھی سکھائیں تاکہ ان مدارس سے فارغ التحصیل طلبا علم وفکر کی روشنی کے ساتھ ساتھ قلب و نظر کو بھی منور کر سکیں اور ایسا اُسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنے تعلیمی نظام اور نصاب میں دینی اور اخلاقی تعلیم کو بنیادی اہمیت دیں گے۔اقبال کے نزدیک مذہبی نظامِ تعلیم کی سب سے بڑی خامی، کمی یا کمزوری یہ ہے غیر اخلاقی یا لادینی ہے جس کی بدولت سوزِ جگر، عشق و یقیں اور کشادِ قلب کے تمام تر امکانات ختم ہو گئے ہیں ۔وہ فرماتے ہیں ۔
       وہ آنکھ کہ سرمۂ افرنگ سے ہے رو شن
       پر کا روسخن ساز ہے نم ناک نہیں ہے
       گر چہ مکتب کا جوان زندہ نظر آتا ہے
       مردہ ہے ما نگ لایا ہے فرنگی سے نفس
       اُٹھا میں مدرسہ وخا نقاہ سے نم ناک
      نہ زندگی نہ محبت نہ معر فت نہ نگا ہ
اقبال کے خیال میں مشرقی نظامِ تعلیم بے بنیاد ہے اور باطنییت اورخود کو فنا کر دینے والی روحانیت کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ خارجی دنیا کے حقائق و کوائف کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔لٰہذا اقبال مشرقی و مغربی نظام تعلیم کو رد کر تے ہیں۔اور ایک ایسے نظامِ تعلیم کے حامی ہیں جس میں دین ودنیا کی ساری خوبیاں مجتمع ہوں، تاہم مغربی تعلیم کے سلسلے میں اقبال کسی قسم کی تنگ نظری یا تعصب کا شکار نہیں تھے ان کو معلوم تھا کہ مغرب کا نظام تعلیم مشرق کے مقابلے میں حیات افروز اور فکر انگیز ہے تاہم ان کی یہ خواہش ہے کہ مغرب عقل کے ساتھ ساتھ عشق کو بھی اپنا لے۔ اقبال یہ چاہتے تھے کہ ملّت اسلامیہ تجدد واجتہاد سے کام لے کر اپنی درسگا ہوں اور دانش گاہوں کے لیے ایسا نظامِ تعلیم مرتب کرے جس کے رہنما اصول قرآنِ مقدس اور سیرت محمدیؐ سے ماخوذ ہوں، ان کی یہ خواہش بھی تھی کہ مسلمان ا پنے تعلیمی نظام میں علوم جدیدہ کے شانہ بہ شانہ اسلامی تاریخ کو بھی شامل کریں کیونکہ تاریخ کے مطالعہ سے ہی قومیں ماضی سے حال کو کامیاب اور مستقبل کو حال کی مدد سے تابناک بناتی ہیں۔ شاعرِ مشرق، حکیم اُمت، علامہ سر محمد اقبال کو عربی، اردو، انگریزی، منطق، تاریخ، فلسفہ فارسی، سیاست، معیشت وغیرہ پر کمال دسترس تھی۔عربی، معیشت، سیاست، منطق، تاریخ، انگریزی اور فلسفہ اعلیٰ درجوں میں ان کے تدریسی مضامین رہے ہیں۔ اب ظاہر ہے جو شخص بیک وقت اتنے علوم پر دسترس رکھتا ہو اس سے بڑھ کر علم ودانش کا شیدائی اور داعی اور کون ہوگا۔ علامہ کا شمار اپنے عہد کے قد آور علماء میں ہوتا تھا اور شرابِ علم کی جستجو میں انہوں نے سات سمندر پار کی خاک بھی چھانی تھی ۔
      چلی ہے لے کے وطن کے نگار خانے سے
      شرابِ علم کی لذت کشاں کشاں مجھ کو
 یہ حقیقت ہے کہ علامہ اقبال علم وفن کی اہمیت اور افادیت سے نہ صرف باخبر تھے بلکہ وہ ملت کی زبوں حالی، غفلت، مظلومیت اور غلامی سے نجات کا ذریعہ اور ملت کی تمام تر خرابیوں اور امراض کی دوا تسلیم کرتے تھے۔ اقبال اس بات کے زبردست حامی تھے کہ فرد، قوم اور مِلت کی روشن خیالی، خودشناسی اور خداشناسی کا سب سے بڑا اور واحد ذریعہ، راستہ یا منبع نور خورشید علم ہی ہے ۔
      اس دور میں تعلیم ہے امراض ملّت کی دوا
       ہے خون فاسد ئے تعلیم مثل نیشتر۔   (ختم شُد)
نوٹ: (کالم نویس ادب میں ڈاکٹریٹ ہیں، معروف اسکالر، برڈکاسٹراور شعبۂ تدریس سے منسلک ہیں۔)