علامہ ارشدالقادری-کچھ یادیں کچھ باتیں

85

عرس قائد اہل سنت پر خصوصی تحریرمحمدابوہریرہ رضوی مصباحی. رام گڑھ. (رکن: مجلس علماے جھارکھنڈ)
رئیس القلم حضرت علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ کی پہلی زیارت: مکتب کی رسمی تعلیم کے بعد مرکزی ادارۂ شرعیہ پٹنہ(بہار) میں استاذ گرامی حضرت علامہ قطب الدین رضوی صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ(ناظم اعلیٰ ادارۂ شرعیہ جھارکھنڈ) کی سرپرستی میں حفظ قرآن کی خاطر میرا داخلہ ہوا۔کچھ مہینوں کے بعد اچانک مدرسے میں صفائی مہم کی لہر دوڑ پڑی۔ مدرسے کے عملے سے لے کر طلبہ بلکہ اسا تذہ تک اس مہم میں شریک ہو کر مدرسہ کو خوشنما بنانے میں منہمک ہو گئے ۔کمرے کے ایک بچے سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ بانی اداره حضرت علامہ ارشدالقادری ایک طویل عرصے کے بعد ادارہ تشریف لارہے ہیں اور انھیں کی خاطر یہ ساری بزم آرائیاں ہورہی ہیں۔ بالآخر وقت معینہ پر حضرت تشریف لائے اور تکبیر و رسالت کے فلک شگاف نعروں سے محلہ گونج اٹھا۔ باری باری سے مصافحہ اور دست بوسی کی جارہی تھی۔ میں بھی لائن میں کھڑا ہو گیا اور حضرت کے دیدار اور دست بوی سے شرف یاب ہوا۔ حفظ کا زمانہ عموماً لاشعوری کا زمانہ ہوتا ہے اس لیے ہمیں اس وقت ان کی اہمیت کا خاطر خواہ اندازہ نہ تھا۔ ٢٠٠٢ء کے بعد جب ہر طرف سے آہ و بکا کی صدائیں بلند ہونے لگیں اور جب جماعت اہل سنت نے ایک قائد کو کھو کر اس کی مرثیہ خوانی اور عظمت بیانی میں رات دن ایک کردیا تب جا کر ہمیں حقیقی طور پر ان کی شان رفعت کا اندازہ ہوا۔
اب میں برابر اپنی ضمیر کو ملامت کیا کرتا تھا کہ کاش! ہمیں پہلے ہی معلوم ہوتا کہ وہ قائد اہل سنت ہیں ، رئیس القلم ہیں، مدبر اعظم ہیں، عالم باعمل ہیں تو کیوں نہ ان سے دعائیں لے کر ان کی نصیحتوں کو زادہ راہ بنا کر اور ان کی خدمت کر کے اپنی دنیا و آخرت کے سفر کو کامیابیوں سے ہمکنار کرنے کی کوشش کرتا۔ بہر حال ان سے متعلق بہت سی باتیں اب بھی میرے ذہن میں گردش کرتی رہتی ہیں۔ بالخصوص جب کوئی ان کا نام چھیڑ دیتا ہے تو درج ذیل واقعات کو یاد کر کے میں اپنی خوش قسمتی پر ناز کرنے لگتا ہوں ۔

میری زندگی کے دو قابل رشک واقعات:
(١) حضرت علامہ کی حیات میں ادارۂ شرعیہ کے سالانہ جلسے میں پابندی سے حضور تاج الشریعہ مدظلہ العالی کی آمد ہوا کرتی تھی۔ ایک سال ادارے کے ذمے داروں نے ادارے کے ساتھ ساتھ بہار و جھارکھنڈ کے دورے کے لیے حضرت از ہری میاں سے تاریخ لے لی تھی مگر عین موقع پر ان کی طبیعت ناساز ہوگئی چناں چہ ذمےداروں نے علامہ ارشد القادری کی جانب رجوع کیا۔ علامہ صاحب ایک ہفتہ پہلے پٹنہ پہنچ گئے پھر بہار وجھارکھنڈ کے جن علاقوں میں پروگرام ہونا طے پایا تھا وہاں شرکت کے لیے تشریف لےگئے ۔ اس ایک ہفتے میں ہماری ڈیوٹی یہ تھی کہ خلیفہء حضور مفتی اعظم ہند حضرت حاجی غلام رضا (عرف منے میاں ) مرحوم کے گھر سے کھانا لا کر حضرت علامہ کو کھلایا کرتا تھا۔ حضرت کی یہ عادت تھی کہ دستر خوان اور کھانا لگانے والوں سے اصرار کرتے اور انھیں کھانے میں شرکت کی دعوت دیتے تھے مگر ہم نے ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانے کی جرأت نہ کی ۔ ایک بار ہم دو طالب علم کھانا کھلا رہے تھے کہ اچانک ایک مرغ کی بوٹی اور روٹی کا نوالہ بنا کر آدھا حصہ خود اپنے دندان مبارک سے کاٹا اور بقیہ ادارہ کے صدرالمدرسین ( حضرت حافظ غلام جیلانی اشرفی) کے منہ میں رکھ دیا پھر یوں ہی روٹی اور بوٹی کا دوسرا نوالہ بنا کر آدھے حصے اپنے دانت سے کتر ڈالے اور بقیہ آدھا میرے منہ میں آ۔۔۔۔ کر، آ۔۔۔۔۔کر(منہ کھولو ) کہتے ہوئے رکھ دیا ۔ شفقت اور اصاغرنوازی کا یہ واقعہ زندگی بھر بھلائے نہیں بھلایا جاتا۔
(۲) ایک بار میں ان کی چھوٹی صاحب زادی (زیبا قادری) کے گھر سے انار کا جوس لے کر بارگاه علامہ میں حاضر ہوا۔ ایک گلاس پی لینے کے بعد مجھ سے فرمایا کہ اب تم پی لو۔ میں نے کہا کہ حضرت! بہت زیادہ ہے۔ اتنا سنتے ہی میرے ہاتھ سے دوسرا گلاس بھی لے لیا اور آدھا پی کر پیس خوردہ مجھے عطا کرتے ہوئے کہا اب تو پی لو۔ میں نے اپنی خوش قسمتی تصور کرتے ہوئے پی لیا۔ اس طرح کی فیاضیاں اورکرم فرمائیاں عام طور سے مجھے شادکام کرتیں تھیں جنھیں آج دیکھنے کو آنکھیں ترس جایا کرتی ہیں۔
نماز کی پابندی: سفر ہو یا حضر نمازیں کبھی قضا نہیں ہوتی تھیں- فرض نماز کے علاوہ تہجد کا بھی التزام فرمایا کرتے تھے۔ نماز سے محبت ان کے خمیر میں داخل تھی۔ بارہا یہ منظر دیکھا کہ طبیعت اتنی ناساز ہے کہ خود سے وضو کرنے کی طاقت بھی نہیں پھر بھی کسی سے کہتے کہ :” مجھے کرسی پر بٹھا کر وضو کرا دو”۔ راقم السطور کو بھی چند بار حضرت کو وضو کرانے کا شرف حاصل ہوا۔ ایک مرتبہ فیض العلوم جمشید پور سے حضرت علامہ تشریف لائے ساتھ میں ایک طالب علم بھی خادم کی حیثیت سے آیا تھا جو فجر میں سوتا رہا اور نماز قضا ہوگئی۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت نے اپنے ساتھ آئے ہوئے طالب علم کی جم کر پٹائی کردی اور یہ کہہ کر جمشید پور بھیج دیا کہ میں بے نمازیوں سے خدمت نہیں لیتا۔ اس واقعے کے بعد ادارے میں ان کی آمد کے بعد نماز چھوٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
اہل سنت کی زبوں حالی پرفکرمندی:
اہل سنت کی زبوں حالی اور اسلام کو دشمنوں کے نرغے میں دیکھ کر ہمہ وقت بے چین رہا کرتے تھے۔ جب ساری دنیا سوئی ہوتی تو ملت کا یہ نقیب اشک بار آنکھوں سے بارگاہ خداوند میں التجائیں کیا کرتا تھا۔ حوالے کے طور پر “ارشد کی کہانی ارشد کی زبانی‘‘ کا مقدمہ پڑھا جا سکتا ہے۔

سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو:
وہ اتحاد کے قائل تھے، مشربی اختلاف سے انھیں حد درجہ نفرت تھی، اشرفی رضوی اختلاف کا انھیں بے حد قلق تھا، سبھوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوششیں کرتے تھے۔ میں نے وہ دن بھی دیکھے ہیں جب خانقاہ ابو الفیاضیہ (پٹنہ) سے حضرت شاہ بر ہان علیہ الرحمہ اور خانقاہ منعمیہ (پٹنہ) سے سید شمیم احمد منعمی تشریف لائے اور آپ نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور بڑی دیر تک گفتگو ہوتی رہی کہ خانقاہوں کے آپسی روابط کیسے بحال ہوں؟ خانقاہی نظام کو بہتر سے بہتر بنانے میں کون سی چیزیں معاون ہوسکتی ہیں؟ مشربی چنگاریوں کو کیسے بجھایا جائے؟
مادرعلمی جامعہ اشرفیہ سے محبت:
اپنے مادر علمی دارالعلوم اشرفیہ سے بے پناہ محبت فرمایا کرتے تھے۔ تاریخ اشرفیہ سے واقف حضرات پر یہ مخفی نہیں کہ اشرفیہ کی تعمیر و ترقی اور اسے بام عروج تک پہنچانے میں کس قدر آپ نے جد و جہد فرمائی ہے۔
ادارۂ شرعیہ میں ایک دن تربیت افتا کے ایک طالب علم نے حضرت کی بارگاہ میں آ کر عرض کیاحضور! مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی ہے جس پر میں نادم ہوں۔ حضرت نے فرمایا کیا بات ہے بھائی ؟ کہنے لگا حضور! میری دیرینہ خواہش تھی کہ جامعہ اشرفیہ سے دستار فضیلت اور سند فراغت حاصل کروں مگر عین فضیلت والے سال مجھے اسٹرائیک کی وجہ سے نکلنا پڑا۔ اگر آپ اشرفیہ کے ذمہ داروں سے میری سفارش کردیں تو پھر آپ کی بات ٹالی نہیں جائے گی ۔ اتنا سنتے ہی حضرت جلال میں آگئے اور کہا: آپ نے یہ کیسے سوچ لیا کہ اشرفیہ نے جس کو نکال دیا ہے میں اس کی سفارش کردوں گا۔ آپ مجھ سے سفارش کے لیے کہہ رہے ہیں، ہرگز مجھ سے یہ نہ ہوگا کہ میں اشرفیہ کی قانون شکنی کروں۔
حضرت علامہ ارشد القادری پیشاب بند کی بیماری کا شکار تھے۔ پیشاب کے راستے میں گلٹی ہوجانے کے سبب بے حد پریشان رہا کرتے تھے۔ بسا اوقات پیٹ پھول جاتا تھا اور سخت استنجا کا احساس ہوتے ہوئے بھی نہیں اترتا تھا۔ پھر بعد میں اسی کی وجہ سے تسلسل بول اور دل کی بیماری لاحق ہوگئی تھی۔ پٹنہ میں علاج کے دوران آپریشن کی بات آئی مگر ڈاکٹروں کی اعلیٰ ٹیم نے اس سے منع کیا اور کہا کہ اس کی وجہ سے سارے جسم پر انفکشن پھیل سکتا ہے۔ چناں چہ دوا دعا پر طبیعت بحال ہوئی مگر پھر ۲۰۰۲ء میں ایک بار اسی مرض نے پریشان کیا۔ ٹاٹامین ہاسپٹل میں ڈاکٹروں نے آپریشن کر دیا اور پائپ ڈال کر پیشاب نکالنے کی کوشش کی۔ ڈاکٹروں کی عدم توجہی کی وجہ سے کچھ ہی دنوں میں وہ جگہ جہاں آپریشن کیا گیا تھا زخم کی شکل اختیار کرگئی اور سارے
جسم میں اس کا زہر پھیل گیا جس کے سبب ۲۹/اپریل ۲۰۰۲ء کو (Aims) دہلی میں اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کر دی۔ اس طرح اہل سنت کا عظیم محسن ہمیشہ کے لیے ہم سے رخصت ہو گیا۔