ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہومبریکنگ نیوزعصمت دری کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ یاسمین...

عصمت دری کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ یاسمین فاروقی

نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) نے ملک میں عصمت دری اور قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی حکومت سے عصمت دری اور قتل کے مرتکب افراد کے خلاف سخت قدم اٹھانے اور خواتین، بچوں اور معاشرے کے دیگر کمزور طبقات کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس ضمن میں جاری کردہ ایک پریس بیان میں، ایس ڈی پی آئی کی قومی جنرل سکریٹری یاسمین فاروقی نے عصمت دری اور قتل جیسے گھناؤنے جرائم کوروکنے کیلئے قوانین کو نافذ میں ناکام رہنے پر بی جے پی حکومت کی مذمت کی ہے۔ یاسمین فاروقی نے مزید کہا ہے کہ اتر پردیش کے غازی آباد ضلع میں نوسال اور پانچ سال کی بچیوں کے ساتھ دوہری عصمت دری اور قتل نے ایک بار پھر لوگوں کو چونکا دیا ہے۔ جو پہلے ہی گجرات حکومت کی طرف سے 11مجرموں کی بلا جواز رہائی پر غصے سے بوکھلارہے تھے۔ یاسمین فاروقی نے کہا ایسے واقعات بی جے پی کے بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کے دعوے کو بے نقاب کرتے ہیں۔ گزشتہ جمعرات 18اگست کو غازی آباد کے مودی نگر علاقے میں 25سالہ کپل کشیپ کے ذریعہ دو نابالغ مسلم لڑکیوں کی عصمت دری اور ان میں سے ایک کا قتل اس بات کی تازہ ترین مثال ہے کہ کس طرح عصمت دری اور قتل کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایسا اس لیے ہورہا ہے کہ مجرموں کے ذہنوں میں قانون کا خوف نہیں ہے جیسا کہ بلقیس بانو کیس سے واضح ہوتا ہے جس میں انتہائی گھناؤنے اجتماعی زیادتی اور تین سالہ بچی سمیت متعدد قتل کے مجرموں کو نہ صرف رہا کیاگیا تھا،بلکہ انتہا پسند ہندو توا تنظیم وشوا ہندو پریشد کے ارکان نے ان کی رہائی پر مٹھائی سے استقبال کیا اور بے شرمی کے ساتھ انہیں پھولوں کا ہار پہنایا۔ ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری یاسمین فاروقی نے دونوں کیسو ں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں سخت سزا کا مطالبہ کیا جس میں کشیپ کو عمر قید کی سزا اور بلقیس بانو کیس کے 11مجرموں کے رہائی کے حکم کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ لوگوں کا قانون پر اعتماد بحال ہو اور خواتین اور معصوم بچوں کو انصاف مل سکے۔

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے