عذاب الہی کیوں نہ آئے

125

 

پورے ہندوستان میں اس وقت موت کا خوف طاری ہے. اسپتالوں، قبرستانوں اور شمشانوں سے دہلانے والی تصویریں سامنے آ رہی ہیں. ہم وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ قہر الہی ہے یا انسان کی کسی کارستانی کا نتیجہ، لیکن اس پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہندوستان میں جب سے توہین رسالت کا معاملہ طول پکڑنا شروع ہوا ہے کورونا کا قہر بھی اسی طرح بڑھتا جا رہا ہے. ہم ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیا یہ ڈوب مرنے کا مقام نہیں ہے کہ ہمارے نبی پاک کی حرمت پر مسلسل حملہ ہو رہا ہے اور ہم چین سے اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں. یاد کیجیے جب این آر سی کا معاملہ طول پکڑ رہا تھا تو ہم نے اپنے گھر کی عورتوں اور بچوں کو بھی سڑکوں پر اتار دیا تھا. معاملہ جب گھر اور زمین کا تھا تو ہم نے سردی اور گرمی کی پروا کیے بغیر دن رات مظاہرہ کیا، صدائے احتجاج بلند کرتے رہے اور جب معاملہ ہمارے نبی کی حرمت کا آیا تو خاموشی سے اپنے گھروں میں بیٹھے رہے. ہماری غیرت نہ جانے کہاں مر گئی. پورے ہندوستان سے صرف ایک آواز مفتی سلمان ازہری صاحب کی ابھری جنہوں نے گستاخ رسول کو پوری بے باکی کے ساتھ للکارا اور اسے اس کی اوقات یاد دلائی. ہائے افسوس کہ ایک طبقہ ان پر بھی تنقید کرنے سے پیچھے نہ ہٹا. کیا صبر و ضبط اور حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ ہماری جان سے عزیز رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر مسلسل حملہ ہو اور ہم آرام سے بیٹھے رہیں؟ اغیار تو چاہتے ہی یہی ہیں کہ روح محمدی ہماری جان سے نکال لی جائے.
کیا یہ بعید نہیں ہے کہ اللہ نے توہین رسالت کے عذاب کے طور پر ہم پر موت کا خوف مسلط کر دیا ہو؟
اس سے قبل کہ مزید دیر ہو اور ہم بھی عذاب الہی کا لقمہ بن جائیں (معاذ اللہ) ہم سب اللہ کے حضور اجتماعی توبہ کریں. کثرت کے ساتھ درود پاک کا اہتمام کریں اور اپنے گھر کے بچے بچے کو یہ سبق یاد کرا دیں کہ ہماری جان چلی جائے یہ ہمیں گوارا ہے لیکن ہم اپنے نبی پاک کی حرمت پر کوئی سمجھوتا نہیں کر سکتے ہیں.
نہ جب تک مر مٹوں میں خواجئہ یثرب کے روضے پر
خدا شاہد مرا ایمان کامل ہو نہیں سکتا

 

ایک ادنی غلام غلامان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم